طلسمی تلوار کی تلاش

565

گذرے وقتوں میں کسی ملک میں ایک ڈریگن نے ڈیرے ڈال لیے۔ اپنے تین خوفناک سروں کے ساتھ ہر آنے جانے والے کو لقمۂ شکم بنانا اس کا معمول ٹھہرا۔ اپنی خوفناک ساخت، منہ سے آگ اگلنے کی صلاحیت اور پھرتی و طاقت کے ساتھ اس نے جلد ہی لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی۔ بہت سارے بہادروں نے قوت آزمائی کی مگر اس ظالم کے سامنے کسی کی ایک نہ چلی اور سب کے سب موت کے حوالے ہوئے۔ وقت کےساتھ ساتھ اس کا خوف اور دہشت لوگوں پر حاوی ہو گیأ۔ بادشاہ وقت نے اپنی آدھی سلطنت اس شخص کے نام کرنے کا اعلان کیا جو اس مصیبت سے چھٹکارہ دلاتا۔

غربت کے ہاتھوں پسے ایک غریب لکڑ ہارے نے بھی اعلان سنا تو مہم جوئی کے لیے نکلا۔ عقل نے اسے اتنا تو بتلا دیا تھا کہ بغیر کسی غیبی مدد کے فتح ناممکنات میں سے ہے۔ سو اس نے ایک ایسے لوہار کا پتہ کھوج نکالا جس کے پاس ایک طلسمی تلوار تھی۔ تین دن اور تین راتوں کے سفر کے بعد اس سے ملاقات کی، اپنی غربت کا رونا رویا اور تلوار کا طالب ہوا۔ لوہار کا دل پسیج گیا اور اس نے اس وعدے کے ساتھ کہ جس دن ڈریگن سے مقابلے پر جانا ہو تلوار لے جائے اسے چلتا کیا۔ سوالی اگلے دن پھر پہنچ گیا کہ آج ہی مقابلے پر جانا ہے۔ تلوار لی اور کشاں کشاں ڈریگن سے جا ٹکرایا۔ محترم ڈریگن نے موصوف کی خوب ٹھکائی کی اور دماغ درست کر ڈالا۔ آخر یاد آیا کہ طلسمی تلوارموجود ہے، غریب لکڑہارے نے تلوار نکالی اور اس کو حکم دیا کہ ڈریگن کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے۔ وہ کالی پیلی تلوار ٹس سے مس نہ ہوئی۔ منہ سے آگ نکالتا ڈریگن قریب سے قریب آ گیا اور کسی قدر طنزیہ انداز سے اسے دیکھنے لگا۔ بیچارے لکڑہارے نے تلوار کو دوبارہ ایکشن کا حکم دیا مگر تلواریں بھی خود بخود حرکت میں آئی ہیں بھلا۔ ڈریگن دوبارہ حملہ آور ہوا اور لکڑہارے کی مزید ٹھکائی کی۔

لکڑہارے کو اچھی خاصی کٹائی کے بعد سمجھ آ گئی کہ اب اس کی زندگی اس کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اب کی مرتبہ وہ دلیری سے حملہ آور ہوا، اتنی بہادری سے لڑا کہ اس بدبخت ڈریگن کو مار ڈالا۔ جب مصیبت سے فرصت ملی تو اس دھوکے باز لوہار کا خیال آیا جس نے اس کو مروا ہی ڈالا تھا۔

بادشاہ کے پاس جانے سے پہلے سیدھا اس دھوکے باز کے پاس اس ارادے سے پہنچا کہ اس کی گردن اڑا ڈالے گا۔ مگر جب اس کے گھر پہنچا اور اس کا سر قلم کرنے کے لیے تلوار نکالی اور اسے اس کا دھوکا یاد کروایا تو اس لوہا ر نے قہقہ لگایا اور کہا کہ کبھی تلواریں بھی جادو کی ہوئی ہیں۔ لوہار نے مزید کہا کہ ڈریگن کا خوف ہی اس کی طاقت تھا، لوگ جب کبھی بھی ڈریگن سے لڑنے گیے ان پر ڈریگن کا خوف حاوی تھا مگر جب تم نے اس کے خوف پر قابو پا لیا تو تم خالی ہاتھ بھی اس ڈریگن سے جیت گئے۔

اگر ہم آج اپنے ملک کے منظر نامے پر نظر ڈالیں تو ہر طرف مہنگائی، بیروزگاری، کرپشن، رشوت، اقرباء پروری، انتظامی امور کی صلاحیتوں اور نظم و نسق چلانے کی کمی، باصلاحیت لوگوں کا کال، لوگوں میں حکومت پر عدم اعتماد، زرمبادلہ کی کم ترین سطح، مہنگائی کی بلند سطح، ملکی و غیر ملکی قرضوں کا پہاڑ، ہمسایہ ممالک سے بدترین تعلقات، اقوام عالم میں تنہائی، دوست ممالک کا سرد ترین ہوتا ہوا رویہ، صحت و علاج معالجے کی سہولیات کا فقدان وغیرہ وغیرہ جیسے ڈریگن ہر طرف منہ پھاڑ کر بیٹھے نظر آتے ہیں۔

ملکی سطح کے تمام تر ادارے جیسے پی۔آئی۔اے، واپڈا، ریلوے، پاکستان سٹیل مل وغیرہ وغیرہ خسارے میں چل رہے ہیں۔ ان کے اور اس سطح کے باقی تمام اداروں کے گوناگوں مسائل ہیں۔ ان میں سے کچھ مسائل فوری توجہ چاہتے ہیں، کچھ میڈیم ٹرم پلاننگ مانگتے ہیں اور کچھ کے مسائل لونگ ٹرم ہیں مگر پیش بندی اور پلاننگ ہر جاء ہی ناگزیر ہے۔

اسی طرح باقی تمام حکومتی آرگن جیسے کہ پولیس، تحقیقاتی ادارے، محکمہ داخلہ و خارجہ، ہوم منسٹری، پلاننگ اینڈ ڈوویلپمنٹ، فنائنس منسٹری، ایل۔ڈی۔اے، سی۔ڈی۔اے، قانون، انصاف، صحت، تعلیم، یہ سب کے سب اپنی اپنی نوعیت کے ڈریگنز کے نرغے میں ہیں۔

اگر ہم وزیراعظم سے لے کر اس ملک کے چھوٹے سے چھوٹے افسر کو دیکھیں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ہر ایک طلسمی تلوار کی تلاش میں ہے، گویا مسائل کا حل عمل، سوچ اور تدبیر میں نہیں بلکہ صرف اور صرف طلسمی تلوار میں ہے، سوچنا یہ ہے کہ اس لکڑہارے نے تو تلوار کا خیال دل سے نکال کر خود مقابلہ کرنے کی ٹھان لی تھی اور آخر کار سرخرو بھی ہوا، کیا ہماری حکومت اور ان اداروں کے سربراہان اس بات کا ادراک کر پائیں گے کہ لڑنا خود ہی ہے، باہر سے کوئی طلسمی تلوار نہیں آئے گی۔

کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں
کب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہے!

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

جنید منصور مثبت تنقید کے ذریعے تبدیلی لانے کے متمنی ہیں، سیاست و سماج پر لکھنے کے زیادہ شوقین ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.