کورونا وائرس اور معیشت کیلئے نئے مواقع

708

کورونا وائرس کی وجہ سے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان کی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوتی نظر آرہی ہے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (جو وزارت منصوبہ بندی کا ایک ذیلی ادارہ ہے ) کے مطابق اس وبا نے ملکی معیشت پر سنگین اور منفی اثرات مرتب کیے ہیں جس کی وجہ سے ایک کروڑ سے زائد افراد کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے بھی خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی ترقی کی رفتار منفی 0.5 فیصد تک رہنے کا خدشہ ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق ملکی ٹیکس ریونیو میں 895 ارب روپے کی کمی ہوسکتی ہے۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں 18 کھرب تک مالی خسارے کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملزایسوسی ایشن کے مطابق پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی بڑی منڈیاں یورپ اور امریکا مکمل طور پر بیٹھ چکی ہیں، ٹیکسٹائل مصنوعات کی فروخت رک گئی ہے اور ایک سال تک ایسی ہی صورتحال رہنے کا خدشہ ہے۔ لاک ڈاؤن کے باعث ملکی معیشت جسے پہلے ہی بہت سے چیلنجز کا سامنا تھا وہ مزید سست روی کا شکار ہوگئی ہے۔

کورونا وائرس نے جہاں ملکی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے وہاں کچھ اچھی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں۔ معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئی ایم ایف نے پاکستان کو 1 ارب 38 کروڑ ڈالر کی امداد کے ساتھ پاکستان کا قرض ایک سال تک منجمد کرنے کی رضامندی ظاہر کی ہے جبکہ ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ کے تحت پاکستان کو مزید 1.39 ارب ڈالرز بھی دینے کی بات ہوئی ہے۔ پاکستان یہ فنڈ کورونا کے اثرات سے نمٹنے کے لیے استعمال کرے گا۔

عالمی بینک نے 20 کروڑ ڈالر، ایشین ڈویلپمنٹ بنک 5 کروڑ ڈالر، امریکہ 80 لاکھ ڈالرز، برطانیہ 26 لاکھ پاونڈز، جاپان 21 لاکھ ڈالرز اور جنوبی کوریا نے 3 لاکھ ڈالرکی امداد کااعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ پیٹرول اور خوردنی تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے پاکستان کو7 سے 8 ارب ڈالر کے امپورٹ بل میں بھی کمی متوقع ہے۔ اس امداد سے ملکی معیشت کو وقتی طور پر تو کچھ ریلیف مل جائے گا اور ساتھ ساتھ کورونا وائرس کے خلاف لڑنے میں بھی کافی مدد ملے گی۔ لیکن اگر خدانخواستہ کورونا وائرس مزید پھیلتا ہے اور مزید کچھ ماہ لاک ڈاؤن کرنا پڑے تو پھر کیا ہوگا؟ دوسرے ممالک جو خود اس وقت معاشی طور پر کمزور ہو رہے ہیں وہ کب تک ہمارے ساتھ تجارت کریں گے؟ ہم کیسے اپنے اخراجات پورے کریں گے جب ہمارے پاس باہر سے ڈالرز آنا ہی کم ہوجائیں گے؟ اس کے لئے ہمیں کچھ ایسے اقدامات اُٹھانے پڑیں گے جس سے ہماری معیشت مزید تباہ ہونے سے بچ جائے۔ باہر کی دنیا کے بجائے ہمیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس حوالے سے پاکستان کے ممتاز اور مشہور معیشت دانوں نے مختلف جگہوں پر اپنی تجاویز پیش کئی ہیں جو آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

ا 1 ۔ سب سے پہلے ہمیں گھریلو صنعتوں کو فروغ دینا ہوگا۔ گھر بیٹھے ہم بہت سی چیزیں بنا سکتے ہیں مثلاؑ ماسک بنانا، پلاسٹک کے دستے بنانا، سینیٹائزر کی پیکنگ کرنا، کشن، گتے کے ڈبے اور ٹوپی وغیرہ بنانا۔ اس کے علاوہ ہم گھر بیٹھے کپڑوں اور تھیلوں کی سلائی اور برقی مشینوں کو اسمبل بھی کرسکتے ہیں جس سے عورتوں اور مردوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔

ا 2 ۔ چھوٹی اور درمیانے درجہ کی صنعتیں کسی بھی ملک کی تجارت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ پاکستان میں تقریبا 3.3 ملین ایسے یونٹس کام کر رہے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے مختلف حکومتیں انہیں نظر انداز کرتی آئی ہیں اور زیادہ توجہ بڑے پیمانے پر پیداوار سے جڑی صنعتوں پر دیا جاتا رہا ہے۔ ان صنعتوں کو اس وقت دواہم مسائل درپیش ہیں ایک تو ان کے برآمدی آرڈرز مؤخر ہو رہے ہیں اور دوسری طرف سیلز ٹیکس ریفنڈز کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ورکرز کو تنخواہ دینے میں مشکل پیش آرہی ہے۔ جس کی وجہ سے بہت سے کمپنیاں بند ہونے کا خدشہ ہے۔ ہماری ایکسپورٹ انڈسٹری کا دارومدار ان چھوٹی صنعتوں پر ہوتا ہے، سو حکومت کو چاہیے کہ ان حالات میں ان پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ ہماری ایکسپورٹ کی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوسکے۔

ا 3 ۔ اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن،عالمی ادارے صحت اور عالمی تجارتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس سے دنیا کو غذائی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے اور لگ بھگ 250 ملین لوگ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر خدانخواستہ کورونا وائرس پاکستان سے جلد ختم نہیں ہوتا تو اس سے ہمیں بھی غذائی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے ہمیں اپنی زراعت اور اس سے منسلک صنعتوں پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ ٹڈی دل کے زرعی وبا نے پہلے ہی ہماری فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے جس سے گندم اور کپاس کی پیداوار میں کمی واقع ہونے کا بھی امکان ہے۔ وزارت خزانہ کی جاری کردہ ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ رپورٹ اپریل 2020 کے مطابق ٹڈی دل کی حملے کی وجہ سے اس مالی سال کپاس کی پیداوار میں تقریبا 95 لاکھ سے گانٹھوں کی کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں ہنگامی بنیادوں پر زرعی شعبے اور اس سے جڑے دیگر صنعتوں کو تحٖفظ فراہم کیا جائے ۔ کسانوں کے لئے ایک الگ سے ریلیف پیکج کا اعلان کیا جائے۔ باہر سے امپورٹ کم کرنا پڑے گا۔ اپنی زرعی صنعتوں کو ترجیح دینی پڑے گی۔ جس سے ہماری زراعت کا شعبہ مزید ترقی کرے گا اور ملکی تجارت میں اضاٖفہ ہوگا۔

ا 4 ۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے آن لائن کاروبار اور ڈیجیٹل لین دین میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے آن لائن ویب سائٹس کے کاروبار میں حیرت انگیز اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق آن لائن ٹرانزیکشنز میں مارچ کے دوران 180فیصد اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ حتی کہ امیزون کمپنی نے پچھلے چار ہفتوں میں ایک لاکھ 75ہزار نئے ملازمین بھرتی کیے ہیں۔

حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے حکومت اور اداروں کو ڈیجیٹل کاروبار پر خاصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ وہ نوجوان جو روزگار کی تلاش میں ہیں انہیں چاہیئے کہ وہ فری لانسنگ کے ذریعے گھر بیٹھے ہزاروں ڈالر کما سکتے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق فری لانسنگ کی دنیا میں پاکستان کا نمبر چوتھا آیا ہے۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں لگ بھگ 60 ہزار سے زیادہ فری لانسرز موجود ہیں۔ 2018 میں فری لانسنگ کی آمدنی میں 42 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حکومت نے “ڈیجے سکلز” کے نام سے ایک ادارہ بھی بنایا ہے جہاں پر مفت میں آن لائن فری لانسنگ کےکورس کرائے جاتے ہیں۔ ٹیکنیکل کاروبار کو فروغ دینے کے لئے تانیہ ایدورس کی سربراہی میں حکومت نے ڈیجیٹل پاکستان ویژن پروگرام بھی شروع کر رکھا ہے جس سے بے روزگاری میں کمی اور ملکی ریونیو میں اضافہ ہوگا۔ اس کے لئے آپ کو صرف تین چیزیں چاہیئں، اچھا لیپ ٹاپ، انٹرنیٹ اور لگن۔ مشکل وقت تکلیف کے ساتھ ساتھ نئے مواقع بھی لاتا ہے۔ اسی طرح کورونا وائرس بھی ہماری کمزورمعیشت کےلئے نئے مواقع لئے آیا ہے جس سے بھرپور فائدہ اُٹھا کر ہم ہمیشہ کے لئے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکتے ہیں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

ایاز نور دنیا نیوز سے منسلک ہیں اور سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.