آنکھوں سے بینا اوردل کے اندھے

509

2009ء سے 10 کے دوران ڈاکٹر توقیر شاہ ، سابق پرنسپل سیکریٹر ی ٹو سی ایم پنجاب، سے میری تین یا چار ملاقاتیں ہوئی ۔
پہلی مرتبہ 6 کلب وزیر اعلٰی ہاؤس گیا توڈاکٹرصاحب اپنے آفس میں مجھے بیٹھا کر وزیر اعلیٰ کی میٹنگ میں چلے گئے۔ اس دوران کمرے میں جو بھی داخل ہوتا وہ مجھ سے پوچھتا کہ کدھر ہیں، شاہ صاحب ! مَیں جواب دیتا کہ میٹنگ میں گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس تھا ، وزیر ،مشیر اور ایم پی اے اپنے کام کے سلسلے میں آرہے تھے۔
مرکز میں پیپلز پارٹی کا دور تھا۔ پی پی پی کے ایک ایم پی اے محمود بھٹی آئے۔ میرے ساتھ بیٹھ گئے ۔ مجھ سے پوچھا کہ حافظ صاحب !تسی وی کم لے کے آئے او، مَیں نے جواب دیا۔ جی،بھٹی صاحب نے کہا کہ ایتھے تے وڈیاں وڈیاں دے کم نئیں ہوندے۔ ایہہ تھوڑی دیر تک تہانوں ویکھن نوں ملے گا۔ خیربھٹی صاحب میرے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ لگانے لگے۔
بھٹی صاحب کا تعلق شیخوپورہ سے تھا۔ ان کا ایک بیٹا برطانیہ پڑھنے گیا ہوا تھا ۔وہ بیٹے کو پیسے ٹرانسفر کرنے چلے گئے۔ کافی دیر بعد آئے۔ دروازہ کھولتے ہی مجھ پر نظر پڑی ، کہنے لگے ۔حافظ صاحب!
تُسی اجے وی بیٹھے او۔ مَیں نے جواب دیا کہ ابھی تک ڈاکٹر صاحب نہیں آئے۔ بھٹی صاحب بھی دوبارہ انتظار کرنے بیٹھ گئے ۔ آفس میں کافی سارے لوگ جمع ہوچکے تھے ۔تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر توقیر شاہ کمرے میں داخل ہوئے۔ بھٹی صاحب نے مجھے اشارہ کیا ۔ ہن ویکھنا ں! مختلف علاقوں کے ایم پی ایز نے آگے بڑھ کر پرچیاں اور فائلزڈاکٹر صاحب کے آگے کر دیں۔ ڈاکٹر صاحب نے انکار کرنا شروع کر دیا، سور ی! سی ایم صاحب نے سفارش کیلئے منع کیا ہوا ہے ۔اِ دھر ڈاکٹر صاحب نے منفی انداز میں سر ہلانا شروع کیا تو دوسری طرف بھٹی صاحب نے اپنی بات کی سچائی میں مثبت اشارہ کیا ۔انھوں نے میری طرف فاتحانہ انداز میں دیکھا۔ جیسے کہہ رہے ہوں ،ویکھیا جے، کسے دا کم نئیں ہونا۔
خیر بھٹی صاحب کی باری آئی، انھوں نے اپنا کام بتایا شاہ صاحب نے کہا کہ ٹھیک ہے دیکھتے ہیں۔ محمود بھٹی صاحب ایم پی اے جانے لگے، دروازے پر جاتے جاتے میری طر ف اشارہ کرکے کہنے لگے ڈاکٹر صاحب ! ایہہ حافظ صاحب دا کم کر دینا ، بڑی دیر دے بیٹھے نیں۔
ڈاکٹر توقیر شاہ نے فورا بھٹی صاحب کو بلایا۔ پوچھا کہ کیا کہا ہے آپ نے! بھٹی صاحب نے کہا کہ ایہہ مولوی صاحب دو ،تن گھنٹیاں توں بیٹھے نیں۔ جے ہو سکے تے ایہناں داکم کر دینا۔ ڈاکٹر توقیر شاہ نے کہا کہ آپ کیوں سفارش کررہے ہیں۔ ان سے تو میر ے 91ء سے تعلقات ہیں ۔
انھوں نے بتایا کہ میری پہلی پوسٹنگ احمد پور شرقیہ میں بطور اسسٹنٹ کمشنر ہوئی تھی ۔ ان کے والد صاحب کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ نیک انسان ہیں ۔ اُنھیں کے توسط سے یہ مجھ سے ملنے آئے ہیں، مجھے پتہ ہے یہ کافی دیر سے آفس میں بیٹھے ہیں۔ آپ نے اِن کیلئے پریشان نہ ہوں۔
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب مَیں نے ایم اے میڈیا پاس کیا تھا، اور آگے بڑھنے اور اسٹیٹس حاصل کرنے کیلئے ہاتھ پلہ (ہاتھ پاؤں) مارنے کی کوشش میں لگا رہتا تھا ۔اگرچہ ڈاکٹر صاحب سے دوران تعیناتی اپنی ذات کیلئے فائدہ نہیں اٹھا سکا، لیکن مَیں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب ایک ذمہ دار آفیسر ہیں ۔سانحہ ماڈل کو ان کی ذات سے جوڑا جاتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے ہم جس کو اپنا مخالف تصور کر لیتے ہیں۔ پھر اس کی اچھائی بھی بری نظر آتی ہے۔ ایک ساس جب بہو کو اپنا دشمن سمجھنے لگتی ہے ۔ تو پھر اُسے وہ آٹا گوندھتے ہوئے بھی بری لگتی ہے ۔ یہی طرز عمل ملکی سیاست اور طرفداریوں میں بھی جھلکتا ہے۔ ملک کےایک سابق چیف جسٹس نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ ڈاکٹر توقیر شاہ نے وزیر اعلی سیکرٹریٹ کے بڑے مزے لوٹے ہیں جبکہ کمرہ عدالت میں طلبی کے دوران کی کہانی علیحدہ ہے۔
گذشتہ ماہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ڈاکٹرتوقیر شاہ کووفاقی سیکریٹر ی صحت مقرر کیا تھا لیکن علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری اور انکی پارٹی کی جانب سے شدید مخالفت کی گئی اور نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔ میری رائے میں جہاں پی ٹی آئی حکومت کو ڈاکٹر توقیر شاہ کی صلاحیتوں کا ادراک نہیں، وہیں پاکستان عوامی تحریک کے عہدیداروں کوبھی حکومت پنجاب میں شامل سانحہ ماڈل ٹاؤن سے منسلک دیگر افراد موجودہ وزیر اعلٰی پنجاب کے ساتھ کھڑے نظر نہیں آتے۔
یہی پاکستانی معاشرے کا المیہ ہے کہ ہم آنکھوں سے بینا اور دل کے اندھے ہو چکے ہیں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں.

صاحبزادہ محمد سلیمان خان لکھنے کا شوق رکھتے ہیں اور دنیا نیوز سے منسلک ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.