مزدور کے حالات کب بدلیں گے؟

251

یکم مئی بطور یوم مزدور منایا جاتا ہے مگر اس دن بھی مزدور، کسان اور محنت کش دنیا و مافیا سے بے خبر محنت مشقت میں مصروف نظر آتے ہیں کیونکہ اس دور میں محنت کش کے لئے رزق حلال کے دو لقمے کمانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ مزدور کو مزدوری کے دوران جس سفاکانہ روئیے کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ محنت کشوں کا ایک طبقہ تعمیراتی کاموں، کھیتوں کھلیانوں، ورکشاپوں اور دیگر مقامات پر مشقت کرتا ہے جہاں مالکان کی جانب سے ان کے حقوق و سلامتی سے متعلق خیال تو درکنار بلکہ ان کا بری طرح استحصال کیا جاتا ہے۔

دوسرا طبقہ سرکاری یا پرائیویٹ اداروں، کاروباری مراکز، کارخانوں میں ملازمت کرتا ہے، سرکاری ادروں کی صورتحال توکچھ بہتر ہے مگر پرائیوٹ کمپنیوں اور اداروں میں کام کرنے والے ملازمین اکثر پریشان حال نظر آتے ہیں، جہاں ان سے آٹھ گھنٹے کی بجائے بارہ سے پندرہ گھنٹے کام لیا جاتا ہے، اور تنخواہ اس قدر کم دی جاتی ہے کہ ضروریات زندگی کیلئے ناکافی رہے، حتی کہ وہ بھی وقت پر نہیں دی جاتی۔ کچھ کمپنیاں تو دو، چار ماہ کے بعد تنخواہ دینا بند کردیتی ہیں جس پر مجبوری میں ملازم بغیر تنخواہ لئے کمپنی چھوڑنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور لیبر کورٹ میں بھی اپنا مقدمہ لیکر نہیں جا سکتا ہے کیوں کہ اس کے پاس وہاں کام کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔ حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان عظیم ہے کہ’’ مزدور کی اجرت اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دی جائے‘‘۔

معاوضے کا نہ ملنا بھی کوئی اتنی بڑی بات نہیں بلکہ دل دہلانے والی بات تو یہ ہے کہ بعض اوقات غریب مزدور کی عزت نفس بھی اپنے مالکان کی غیر انسانی سلوک کی وجہ سے اتنی مجروح ہوتی ہے کہ وہ ایسی ذلت کی زندگی پر موت کو مقدم جانتے ہیں حالانکہ یکم مئی پاکستان سمیت دنیا بھر میں محنت کشوں سے اظہار یکجہتی کے لئے مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر اس عہد کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ مزدوروں کے معاشی حالات تبدیل کرنے کیلئے کوششیں تیز کی جائیں اور ان کا استحصال بند کیا جائے گا۔

یکم مئی 1886ء کو امریکا کے شہر شکاگو کے مزدوروں کی اس قربانی کی یاد میں منایا جاتا ہے جو انہوں نے اپنے حقوق حاصل کرنے کیلئے اپنی جانیں تک لٹا دیں۔ اس دن مزدور، سرمایہ داروں اور صنعتکاروں کی جانب سے کئے جانے والے استحصال کے خلاف سڑکوں پر نکلے تو پولیس نے ان کے پرامن جلوس پر فائرنگ کر کے سینکڑوں کو ہلاک اور زخمی کر دیا جبکہ درجنوں کو حق کی آواز بلند کرنے کی پاداش میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا، لیکن یہ تحریک ختم ہونے کے بجائے دنیا بھر میں پھیلتی چلی گئی جو آج بھی جاری ہے۔ اس دن کی مناسبت سے ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں تقریبات، سیمینار، کانفرنسز اور ریلیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں شکاگو کے محنت کشوں کے ساتھ اظہار یکجہتی،ملک کے مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد کو تیز کرنے، مہنگائی وبے روزگاری کے خاتمے، قومی اداروں کی نجکاری کے خاتمے، مزدور دشمن قوانین کی منسوخی، ٹھیکیداری نظام کے خاتمے، تنخواہوں و اجرت میں اضافے سمیت مزدوروں، محنت کشوں کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں قومی سطح پر یوم مئی منانے کا آغاز 1973 ء میں وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں ہوا، ذوالفقار علی بھٹو نے مزدوروں کے حقوق کیلئے انقلابی لیبر پالیسی نافذ کی جس کے مطابق مزدوروں کو روزگار کا تحفظ دیا گیا او ر انہیں روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ ان کے دور حکومت سے یکم مئی کو سرکاری تعطیل قرار دیا گیا، اس دن تمام سرکاری و غیر سرکا ری ادارے اور بینک بند رہتے ہیں۔ بے شک محنت کش اللہ تعالیٰ کا دوست ہوتا ہے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے مزدور کے حقوق پر بہت زور دیا۔

ایک بار ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس آیا، اسکے ہاتھ کھردرے اور سخت تھے، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس شخص سے پوچھا کہ محنت اور مشقت کرتے ہو، تو اس شخص نے بتایا کہ پہاڑوں کی چٹانیں کاٹ کر روزی کماتا ہوں، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس محنت کش کے ہاتھ چوم لیے۔

یکم مئی کے دن دنیا بھر کا دانشور طبقہ مزدوروں کے مسائل حل کرنے کیلئے بڑے بڑے جلسے کا انعقاد کرتا ہے لیکن افسوس کہ ان مزدوروں کو اس کی خبر ہی نہیں ہوتی اور تقریبا 99 فیصد مزدور اس بات سے بالکل ناواقف رہتے ہیں کہ سال میں ایک دن ایسا بھی آتاہے جو ان کیلئے خاص ہے، ان کیلئے خوشیاں منانے کا موقع ہے، چھٹی کرکے بال بچوں کے ساتھ گزارنے کا دن ہے۔ جسے دنیا بھر میں ’’ مزدوروں کے عالمی دن ‘‘ کے طور پر منایا جاتا ہے، لیکن ایک عام مزدور جو صبح چوک پر اپنی مزدوری کا انتظار کرتا ہے، دن میں مزدوری کرتا ہے تو رات کو اس کا چولہا جلتا ہے۔ شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے مزدوروں کی مجبوری کو ان اشعار میں خوب بیان کیا ہے۔

ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
تو قادر وعادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ ‘پاکستان مزدوروں کی خوشحالی کے بغیر ترقی نہیں کرسکتا‘۔ حکومت کو چاہیے کہ مزدوروں کے حالات میں بہتری کے لئے اقدامات کرے اور ان کی اجرت و تنخواہوں میں مناسب اضافے کا اعلان کرے۔ آج مزدوروں کو ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور تعلیم صحت چھت اور روز گار کی ضمانت کی ضرورت ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مزدور رہنماؤں کو قومی سطح پر ایک مضبوط فیڈریشن قائم کرنی چاہیے تاکہ ان کے مسائل حل ہوسکیں اور ان کا استحصال ختم ہوسکے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

رانا اعجاز سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.