کردار سازی تعلیم سے زیادہ اہم ہے

569

کردار کے معنیٰ طرز، عادت، قاعدہ یا خصلت کے ہیں جو انفرادی طور پر انسان میں نشونما پاتے ہیں،  انسانی زندگی کے ردّعمل و حالات سے ان کا پتہ چلتا ہے۔ انسان کو زمین پر اشرف المخلوقات بنا کر اتارا گیا ہے، اس کو عطاکردہ عقل اور اخلاق اسے دوسری تمام مخلوقات سے یکسر علیحدہ کرتے ہیں۔ عقل، دلیل کی زبان سمجھتے ہوئے ایک اللہ کی عبادت کا حکم دیتی ہے اور اخلاق جھوٹ نہ بولنے، بغض و حسد، وعدہ خلافی، خیانت، رشوت اور دوسری برائیوں سے منع کرتا ہے۔

آج قومی اوربین الاقوامی سطح پر پوری دنیا میں فساد و بگاڑ برپا ہے، امن و عدل کا خون کیا جا رہا ہے، کمزوروں پر شہہ زوروں کا ظلم، خواتین کے حقوق کی پامالی، معصوموں اوربے گناہ لوگوں کو سلاخوں کے پیچھے ڈالا جانا عام ہے۔ جمہوریت کے نام پر قوم کی قوم تباہ وبرباد کی جا رہی ہے۔ ہر طرف انتشار اور ظلم و تشدد کا بازار گرم ہے۔ خود ساختہ قوانین بے معنیٰ اور بے وزن ہیں۔ نہ ہی ان قوانین و ضوابط میں استحکام و پائیداری ہوتی ہے۔ اس لئے انسانوں کا بنایا ہوا کوئی ضابطہ اور کوئی قانون انسانوں کے لئے نسخہ شفاء نہیں بن سکتا۔ ان قوانین کے نفاذ کی جس قدر کوششیں کی جائیں گی، خامیوں اور نقائص سے بھرے یہ قانون، حالات کی مزید سنگینی کا سبب بنتے چلے جائیں گے۔

آج دور جدید کی جاہلیت بے نقاب ہو کر سامنے آ گئی ہے۔ ایک انسان ہمہ وقت کسی دوسرے انسان کی کردارکشی کے لئے ہر وقت متحرک رہتا ہے۔ اللہ تعالی نے ساری مخلوقات کیلئے ایک قانون و ضابطہ دیا ہے جو قرآن مجید ہے۔ یہ ضابطہ الٰہی آج سے1400 سال قبل نازل ہوا تھا.س

بد قسمتی سے مسلمانوں کے اخلاق میں گھن لگ چکا ہے، کردار میں کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہوچکی ہیں جس کے سبب زوال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کردار سازی سے علاج کیا جائے اور اس مرض سے نجات حاصل کی جائے۔ دنیا کو بھی پیچیدہ اخلاقی امراض اور حالات سے باہر نکالنے کی اشد ضرورت ہے۔

اس کا سب سے اہم ذریعہ تعلیم اور تربیت ہے، اس مقصد کے حصول کے لیے ادارے جہاں معیاری نصاب تشکیل دیتے ہیں وہاں اساتذہ کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بلند کرنے کے لیے تربیتِ اساتذہ کا اہتمام بھی اہم ہے۔ طلبہ کی دینی، سماجی، اخلاقی اور ذہنی تربیت سے قبل اساتذہ کی مکمل تربیت کی جائے تو یہ سونے پر سہاگہ ہے.س

طلبہ کی شخصیت سازی کے دوران بدامنی، لاقانونیت، کرپشن اور فرقہ واریت سے نبردآزما ہونے کی تربیت بھی فراہم کی جانی چاہئے تاکہ تعمیر و ترقی کا حقیقی سفر ممکن ہو سکے، جب تک ہم سارے اختلافات بھلا کر ایک قوم نہیں بنیں گے، اصل معنوں میں ترقی ممکن نہیں اور نہ ہی ہم پاکستان کے دشمنوں کی پہچاننے کی قوت اگلی نسل میں منتقل کر سکیں گے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

کمال حسین نظریہ پاکستان سے محبت کے سبب وطن عزیز کی بہتری کیلئے قلم کے ذریعے جہاد کرتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.