مرحبا، اے شھرالقرآن مرحبا

225

مرحبا، ماہِ رمضان مر حبا
مرحبا اے شھرالغفران، مرحبا

سحر ہے پُرلطف،س
افطار بھی کیا خوب ہے
اس ماہ کی ہر ساعت،س
بس نور ہی نور ہے!س

رحمتیں، مغفرتیں، آزادیِ جہنم
تین عشرے بکھیرتے۔۔،س
چہروں پہ ہیں تبسم!س

روزہ، زکوة، نمازیں
اور تلاوتِ قران
بنا دیتے ہیں یہ سارے عمل،س
زندگی کو آسان!س

شب قدر بھی اس میں،س
کیا خوب خدا نے رکھی
کاش پا لیں اس کو،س
دعا ہے یہ ہم سب کی

ہو جاتے ہیں بحکمِ خدا،س
سارے گناہ معاف
چاند رات پر ہو واپسی،س
گر بمعہ مقبول اعتکاف

جو دیکھو کسی بے کس کو
تم طالب رمضان،س
کر دینا چُپ چاپ کچھ
سحر و افطار کا سامان

مرحبا، ماہِ قیام مرحبا
مرحبا اے شھرالقران، مرحبا!س

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

کاشف شمیم صدیقی شاعر ہیں اور کالم نگار بھی، کراچی یونیورسٹی سے معاشیات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں، شعبہ صحافت سے وابستگی کو کاشف اپنی زندگی میں پیدا ہونے والی مثبت تبدیلیوں کا موجب گردانتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.