تبدیلی آئے گی، مگر کیسے؟

551

کہتے ہیں کسی شہر میں ایک پاگل رہتا تھا جو روزانہ شہر کے دروازے پر کھڑا ہو جاتا اور سارا دن چلاتا رہتا، لوگو اٹھ جاو اب…، اپنے حق کے لیے لڑو….، کب تک یونہی غلامی کرتے رہو گے۔ لوگ اس کی باتوں پر ہنستے اور مذاق اڑاتے کہ غلامی ختم ہو گی کیسے، کون کرے گا، کس کو موت آئی ہے جو بغاوت کا عذاب اپنے سر لے۔ پاگل ناقابل برداشت ہو جاتا تو لوگ اسے پتھر مارتے مگر وہ پاگل بھی ڈھیٹ تھا، مار کھاتا رہتا مگر پھر وہی گردان شروع کر دیتا۔ آخر لوگوں نے فیصلہ کر لیا کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے، اس طرح پاگل اپنی بات پر ڈٹا رہا اور روزانہ وہی راگ الاپنے لگا۔

ایک دن ایک بچہ باپ کے ساتھ کسی کام کی غرض سے دوسرے شہر جا رہا تھا، راستے میں اس کا پالا اسی پاگل سے پڑا، وہ وہیں بیٹھے اسی طرح چلا رہا تھا کہ اٹھ جاو، کب تک غلامی کرو گے۔ اس بچے کے ذہن میں یہ بات پھنس گئی، ایک تحریک پیدا ہو گئی۔ وہ اب اسی کے متعلق صبح شام سوچتا، اسے تو اس سے پہلے یہ تک معلوم نہیں تھا کہ غلامی کیا چیز ہے، مگر اب سوال پیدا ہونے لگے جو اسے الجھا رہے تھے۔

اس نے اپنے دوستوں کے مل ہر سوال کو کھوجنا شروع کر دیا، ان کے جواب کی تلاش شروع کر دی، وہ فرق جان گیا اور غلامی سے نفرت کرنے لگا۔ اب آزادی کی خواہش اسے ستانےلگی، غلامی سے نجات ہی اس کا مقصد بن گیا، اس کا اٹھنا، بیٹھنا، سوچنا اور سمجھنا سب کچھ بدل گیا، کہتے ہیں کہ تیس سال بعد وہ بچہ اس شہر کو آزاد کروا کر اس کا حکمران بن گیا۔

پاگل کا تبدیلی کا وہ الاپ کام کر گیا، لوگ کہتے رہے کچھ نہیں ہوگا، کچھ نہیں ہو سکتا، ہم غلام پیدا ہوئے تھے اور غلام ہی مریں گے۔ کہاں سے آزادی آئے گی، کون لائے گا۔ وہ سب آزادی چاہتے تو تھے مگر ان میں سے کوئی بھی اس کےلیے کوشش کرنے کو تیار نہ تھا۔ خود اپنی سوچ کو بدلنے کےلیے تیار نہ تھے، سو ان کےلیے بدلاو نہیں آیا وہ غلام ہی مر گئے مگر جس نے اس کی قیمت ادا کی، اسکی خاطر کوشش کی، اس نے آزادی حاصل کر لی۔

ایسے ہی ہم لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ حالات بدلیں، تبدلی آئے، لوگ خوشحال زندگی گزاریں، دنیا اچھی ہو جائے، معاشرہ خوبصورت ہو جائے، کوئی دھوکہ نہ دے، جھوٹ نہ بولے، سب کردار کے اعلی ہو جائیں اور ہم ترقی کر جائیں، مگر اس سب کے لیے مجھے کچھ نہ کرنا پڑے، میں رات کو سو جاوں اور جب میں صبح اٹھوں تو سب بدل چکا ہو، دنیا امن کا گہوارہ بن چکی ہو، تبدلی آ چکی ہو، بالکل ایک نئی دنیا میری منتظر ہو۔ جیسے لوگوں نے عمران خان کو ووٹ ڈالتے ہوئے نئے پاکستان اور تبدیلی کے متعلق سوچا تھا کہ بس عمران خان وزیراعظم کا حلف لیں اور اللہ تعالیٰ نیا پاکستان ہمیں گفٹ کر دیں گے۔

مگر کیا ہوا، ابھی تک ہم انتظار کی سولی پر لٹکے ہوئے مگر تبدیلی ہے کہ منہ موڑے ہی بیٹھی ہے۔ مان ہی نہیں رہی۔ اب تو لوگ خواہش کرنے لگے ہیں کہ نیا نہیں پرانا پاکستان ہی واپس کردو، لیکن کچھ نہیں ہونا۔ ہماری قوم کا اصل مسئلہ ، دراصل یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ سب مل جائے اور ہمیں کچھ بھی نہ کرنا پڑے۔ سب اچھا ہو جائے، ہم بے شک ویسے ہی رہیں کیا فرق پڑتا ہے۔

جناب جب بیس کی بیس کروڑ عوام یہی سوچے گی تو فرق کیسے پڑے گا، ہمیں اپنے حصے کا دیا خود ہی جلانا ہو گا۔ کوئی شخص کسی کو نہیں بدل سکتا جب تک اپنے آپ میں تبدیلی نہ لائے۔ ہم اپنے اندر تبدیلی لائے تو سب بدل جائے گا، مگر افسوس کہ سب بدل جاتا ہے، بس اک ہم ہی نہیں بدلتے۔

اب ایسے تو کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور پھر ہمیں سب کچھ فوری بھی چاہیے۔ اب ایسے تھوڑی ہوتا ہے، ہر کام کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے اور اس کے ہونے میں وقت لگتا ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں کہ مالی دا کم پانی پانا، مالک دا کم پھل پھول لانا۔ لہذا جب تک ہم خود کوشش نہیں کریں گے، کچھ بھی ٹھیک ہونے والا نہیں، تبدیلی تب ہی آئے گی، جب ہم تبدیل ہوں گے، اکیلا حکمران کچھ نہیں کر سکتا جب تک ملک کا ہر فرد اس کے قدم سے قدم ملا کر نہ چلے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

اسماء طارق الفاظ کے ساتھ کھیلنا خوب جانتی ہیں، سماجی معاملات پر ان کی گہری نظر ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.