وضو کی برکات

623

اسلام میں ابلیس (شیطان) کو مومن کا کھلا دشمن کہا گیا تو اس جیسے مکار دشمن سے نمٹنے کے لئے ہتھیار بھی فراہم کیا گیا۔ اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وضو مومن کا ہتھیار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اور جگہ فرمایا کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ یہ بنیادی بات ہے کہ طہارت کا مسلمانوں کی زندگیوں کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہے۔ اِسی لیے صفائی کونصف یعنی آدھا ایمان کہا گیا ہے۔ کُل ایمان کے دو حصے ہوئے ایک طہارت یعنی صفائی اور دوسرا باقی کی زندگی کے تمام روزمرہ کے معاملات مثلاً تعلیم، عِلم، ادب، ہنر، اسلام کے مطابق شادی بیاہ، غمی خوشی، عبادات سمیت دیگر شامل ہے۔
گو کہ دوسرے جزو کے اندر بھی بعض مقامات ایسے ہیں جہاں طہارت لازم ہے مثلاً نماز کے لیے طہارت شرط ہے۔ ایمان کا ایک حصہ طہارت ہو گیا اور دوسرے حصے میں باقی سب معاملات شامل ہیں۔ آپ نے طہارت کو پا لیا، خود کو پاک کر لیا آپ آدھے ایمان میں داخل ہو گئے اور کلِ ایمان کے حصول کے لیے باقی کے حصے پر آپ کو کوشش کر کے مکمل ایمان میں داخل ہو کر مومن بننا ہوگا۔

ایک بزرگ بیٹھے وضو کر رہے تھے، کسی نے کہا کہ آپ کیا بار بار وضو کرتے رہتے ہیں ۔ بزرگ نے بڑا قابل غور جواب دیا کہا بیٹا، مسلمان نے جب بھی اپنی تاریخ لکھوائی یا تقدیر بدلی ہے توخون سے یا پانی سے۔ لہذا وضو ہمیں اللہ کے آگے جھکنے اور سجدے کی توفیق دیتا ہے۔ وضو طاقت ہے، وضو تعلق ہے۔ وضو اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رابطہ ہے۔

نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک تنگ دست شخص آیا۔ اپنے حالات بیان کئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ہمیشہ باوضو رہا کرو۔ کافی عرصہ کے بعد جب وہی صحابیِ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں واپس آئےتو کہنے لگے کہ باوضو رہنے کی برکت سے اللہ نے بے شمار رزق عطا کر رکھا ہے، بلکہ اتنا رزق کہ اب میں محلے والوں اور دیگر بستی والوں کو بھی پالتا ہوں۔ سو معلوم ہوا کہ باوضو رہنے سے کشادہ اور برکت والا رزق بھی ملتا ہے۔

اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اور جگہ فرمایا کہ باوضو ہو کر سویا کرو۔ اس طرح سونے سے اللہ آپ کے سینے پر ایک نورانی فرشتہ مقرر فرما دیتا ہے جوکہ ساری رات آپ کی حفاظت کرتا ہے۔ ایک بزرگ دن کے اوقات میں لوگوں کو قرآن مجید پڑھایا کرتے تھے۔ رات کو اِن بزرگ کے گھر ایک ڈاکو آ گیا۔ وہ ڈاکو جب بھی چھت سے نیچے آنے کی کوشش کرتا تو کیا دیکھتا کہ دو چار ضعیف العمر بندے قرآن پڑھ رہے ہیں۔ ڈاکو یہ دیکھ کر چلا جاتا مگر مسلسل سات روز تک چوری کی کوشش بھی کرتا رہا۔ یونہی روزانہ یہی ماجرا دیکھنے کو ملتا بالآخر کسی بہانے سے بزرگ سے کہا کہ آپ دن کو بھی قرآن پڑھاتے ہیں اور رات کو بھی، آپ آرام نہیں کرتے۔ بزرگ نے جواب دیا نہیں، میں تو رات کو سو جاتا ہوں اور کسی کو قرآن نہیں پڑھاتا۔ ڈاکو سمجھ گیا کہ معاملہ کچھ اور ہے۔ بالآخر تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ وہ بزرگ رات کو باوضو ہو کر سویا کرتے تھے۔ یہ باوضو سونے کے کمالات ہیں۔ آپ کی حفاظت کے لئے اللہ کی طرف سے فرشتے آ جاتے ہیں۔

ہر شخص کی روح نیند کے عالم میں جسمِ انسانی کے قفس سے نکل جاتی ہے اور اعمال کے مطابق مختلف مقامات کی سیر کرتی ہے۔ جیسا کہ ہمیں معلوم ہے کہ روح کی خوراک اللہ اور اللہ کے رسولِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر ہے۔ اب ہم اپنے روزمرہ معمولات میں روح کو ذکر سے خوراک تو دیتے نہیں مگر اُمید لگاتے ہیں کہ ہماری روح عالمِ خواب کے اندر بیتُ اللہ شریف کا طواف کرے۔ نہیں، ایسا ممکن نہیں ہے۔ ہر وجود کی روح اُس بندے کے اعمال کے حساب سے سفر کرتی ہے۔ جو دن کو دھوکا دیتا ہے اور ظلم کرتا ہے۔ اللہ اور اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات سے بغاوت کرتا ہے تو رات کو اُس کی روح بھی ویسے ہی پریشانیوں میں گِھری پڑی ہو گی۔ اور جو دن کو طہارت و پاکیزگی کی مشق کرتا ہے رات کو اُس کی روح بھی ویسے ہی اچھی اچھی جگہ اور مبارک مقامات پر سفر کرے گی بلکہ اچھے اہتمام کے ساتھ وضو کرنے یعنی دعائیں پڑھ کے سونے والے کی روح اللہ کے عرش تک پہنچ جاتی ہے۔ اللہ کے عرش کے سائے میں ایسی روح کی حالت سجدے جیسی ہوتی ہے۔ یعنی نہ صرف روح عرش کے سائے میں پہنچ جاتی ہے بلکہ سجدہ شکر بجا لاتی ہے، یہ باوضو رہنے کی براکات ہیں۔

جب آپ باوضو ہوہتے ہیں تو سب سے زیادہ تکلیف ابلیس کو ہی ہوتی ہے۔ اُس تکلیف کے بدلے میں ابلیس آپ کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے مگر وضو جیسا ہتھیار آپ کی مدد کرتا ہے۔ باوضو رہنے سے عبادات اور سجدہ شکر بھی آسان ہو جاتا ہے کیونکہ باوضو شخص اللہ پاک کی حفاظت میں آ جاتا ہے۔

اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کل بروزِ قیامت، مَیں اپنے اُمتیوں کو پہچان لوں گا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، وہ کیسے؟ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جیسے تم کالے گھوڑوں میں اپنے سفید گھوڑوں کو پہچان لو ایسے ہی۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا کہ میں اپنے اُمتیوں کو اُن کے چہروں، پیشانیوں، ہاتھوں اور پاؤں سے پہچان لوں گا چونکہ وضو کرنے کی وجہ سے میرے اُمتیوں کے چہرے سورج کی طرح روشن ہونگے۔ لہذا وضو سہارا بھی ہے، نجات بھی ہے اور وضو پہچان بھی ہے۔

وضو کرنے سے انسان کے گناہ دُھل جاتے ہیں۔ بندہ پاک ہوجاتا ہے اور پاکی اللہ رَبُّ لعزت کو پسند ہے۔ چونکہ اللہ خود پاک ہے پاکی کو بھی پسند فرماتا ہے۔ وضو تمام انبیا اور رسولوں کی سنت ہے، وضو تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سنت ہے اور تمام اللہ والوں کا عمل بھی وضو ہی رہا ہے۔ وضو کرنے سے عبادت کرنا بھی آسان ہو جاتی ہے۔ ہمیشہ باوضو رہا کریں آپ کی زبان شکوؤں کی دنیا سے دور ہوجائے گی اور شُکر جیسی دولت آپ کو نصیب ہوگی۔

آج کی سائنس نے بھی ثابت کر دیا ہے کہ سر کا مسح کرنے، کلی کرنے، ناک میں پانی ڈالنے، ہاتھوں اور پیروں کو باربار دھونے کے کتنے فوائد ہیں۔ ہم نے آج کے ڈاکٹر کی بات کو مان لیا اور ہاتھوں، پیروں اور چہرے کو بار بار دھونے لگے ہیں مگر افسوس کہ 1400 سال پہلے بتانے والے کائنات کے عظیم ڈاکٹر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کو نہیں مانا۔ ہاتھوں پیروں اور چہرے کو تو دھو ہی رہے ہو۔ تھوڑی اور ہمت کر کے وضو ہی کرلیا کرو۔

اساتذہ کرام سے بھی درخواست ہے کہ طالبِ علموں کو وضو کی برکات بتائیں۔ اُنہیں تاکید کریں کہ وہ کمرہ تعلیم میں باوضو ہو کر بیٹھا کریں۔ اس سے سبق یاد کرنا، سمجھنا بھی اُن کے لیے آسان ہو جائے گا اور یہی بچے اپنے اساتذہ کرام کی دل سے حقیقی عزت کرنے لگیں گے۔ ایسا کرنے سے بچوں کے دل میں دینِ متین کی محبت بھی اُجاگر ہو جائے گی۔

دعا ہے کہ ماہ رمضان المبارک میں اللہ ہمیں وضو کی بدولت ظاہر اور باطن کی پاکی نصیب فرمائے اور اپنی اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت عطا فرمائے۔ آمین

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.