!….یوم توبہ اور یوم رحمت

314

کورونا وائرس کی صورتحال کے باعث حکومت اور علمائے کرام نے جمعتہ المبارک کا دن یوم رحمت اور یوم توبہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بے شک اللہ ربّ العزت کو توبہ کرنے والوں سے خصوصی محبت ہے اور توبہ ہی کی بدولت تمام پریشانیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ جب ایک انسان گناہ کرتا ہے، کسی پر ظلم ڈھاتا یا پریشان کرتا ہے لیکن اس کا احساس ہونے پر جب وہ اللہ ربّ العزت کی بارگاہ میں جھک جائے، سچے دل سے توبہ کرے، عاجزی اختیار کرکے ندامت کے آنسو بہائے تو توبہ قبول ہو جاتی ہے۔ پھر یہی توبہ باعث رحمت اور باعث نجات بن جاتی ہے۔ محققین کے نزدیک کامل توبہ کی چند شرائط ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر، انسان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے جملہ گناہوں، برائیوں اور نافرمانیوں سے شرمندہ اور تائب ہو کر اور آئندہ گناہ نہ کرنے کا عہد کرکے دنیا اور آخرت میں عذاب الٰہی سے نجات حاصل کرسکتا ہے۔

توبہ کی بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان اپنے گناہ، طور طریقوں اور برے اعمال پر شدید پشیمانی اور شرمندگی محسوس کرے، جو کہ درحقیقت برے کاموں سے کنارہ کشی کی طرف پہلا قدم ہے۔ ندامت کے صحیح ہونے کی علامات میں دل کا نرم ہو جانا اور کثرت سے آنسوؤں کا جاری ہونا ہے کیونکہ جب دل کو اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناراضگی کا احساس جکڑ لے ، بندے پر عذاب الٰہی کا خوف طاری ہو جائے تو یہ گریہ و زاری کرنے والا مزید غم زدہ ہو جاتا ہے۔ اسی لئے حضور نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے ’’ندامت ہی توبہ ہے۔‘‘ محققین کے نزدیک خالص ندامت ہی توبہ کی اصل ہے جو کہ خلوص دل سے کوشش کے بغیر ممکن نہیں۔

توبہ کی دوسری شرط ترک گناہ ہے۔ برے فعل پر شرمندگی اور پشیمانی کے احساس کے بعد بندے کے دل میں گناہ چھوڑنے کا ارادہ جنم لیتا ہے اور بندہ شرم محسوس کرتا ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی ایک کمزور اور حقیر ترین مخلوق ہو کر اس کے ساتھ اپنے تعلق بندگی کی حیاء نہ کی اور اس کے احکام کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا، یہ احساس ترک گناہ پر منتج ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے ’’مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کر لی وہ سنور گئے اورانہوں نے اللہ سے مضبوط تعلق جوڑ لیا اور انہوں نے اپنا دین اللہ کے لیے خالص کر لیا تو یہ مومنوں کی سنگت میں ہوں گے اور عنقریب اللہ مومنوں کو عظیم اجر عطا فرمائے گا‘‘ (سورۃ النساء)۔ اس آیت مبارکہ کے الفاظ بندے کی توجہ اس طرف مبذول کروا رہے ہیں کہ اس کی سابقہ زندگی میں جس قدر بھی غلطیاں اور کوتاہیاں سرزد ہوئیں وہ سچے دل کے ساتھ توبہ کا طلب گار بن کر اپنے گناہوں پر ندامت محسوس کرتے ہوئے گڑگڑا کر اللہ ربّ العزت کی بارگاہ سے عفو و درگزر کی دراخواست کرے۔

بندہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور پختہ عہد کرے کہ جن نافرمانیوں، خطاؤں اور گناہوں کا ارتکاب وہ کر چکا ہے آئندہ یہ اس کی زندگی میں کبھی داخل نہیں ہوں گے، کیونکہ توبہ کی ابدی سلامتی کا انحصار اس پر ہے کہ وہ کس قدر اپنے عہد پر پختہ رہتا ہے۔ اس لئے پکا عزم کرے کہ آئندہ یہ گناہ ہرگز نہیں کرے گا۔ اگر شیطان کان میں کہے کہ تو دوبارہ یہ گناہ کرے گا تو اس کی طرف توجہ نہ کرے، اس کا جواب یہ ہے کہ تقویٰ کا عزم، قبولیتِ توبہ کے لئے کافی ہے بشرطیکہ اس عزم کو توڑنے کا ارادہ نہ ہو۔ بس توبہ کے وقت اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کر لیا جائے کہ اے اللہ میں آپ کے بھروسے پکا عزم کرتا ہوں کہ آئندہ یہ گناہ نہیں کروں گا، تو بندہ جب تک گناہوں پر نادم اور تائب رہے گا اللہ تعالیٰ کی رحمت اس پر سایہ فگن رہے گی۔

اب وہ معاملہ جس پر ہم اکثر توجہ ہی نہیں کرتے، حقوق العباد ہے، اگر بندہ کسی دوسرے شخص کیساتھ ناانصافی یا ظلم کر بیٹھے تو اولاً اس کا قصاص ادا کرے اور اگر یہ توفیق نہیں پاتا تو پھر اس سے معافی کا خواستگار ہو اور اللہ تعالیٰ سے عفو و درگزر کے لئے دست بہ دعا رہے۔ آج بدقسمتی سے مذہبی اور دنیوی امور کو علیحدہ علیحدہ پلڑوں میں رکھنے کے باطل طریقہ کار نے ہمارے معاشرے میں نیکی کے تصور کو دھندلا دیا ہے، بیک وقت لوٹ کھسوٹ، ظلم و ناانصافی، حق تلفی اور مفاد پرستی بھی جاری ہے اور عبادت کے ساتھ ساتھ محض لفظی توبہ بھی۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس منافقانہ طرزِ عمل کی موجودگی میں ترکِ گناہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔

حدیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ ’’گناہ سے باز آئے بغیر توبہ کرنا جھوٹے لوگوں کی توبہ ہے‘‘۔ اللہ تبارک و تعالیٰ عالم الغیب ہے، اس کے علم میں ہے کہ کون اپنی توبہ میں سچا اور کون جھوٹا ہے۔ حقیقی توبہ اسی وقت ہو گی جب توبہ کے بعد گناہ کو بھی مکمل طور پر ترک کر دیا جائے۔ بلاشبہ صحیح توبہ وہی ہے جو انسان کے شب و روز، افعال و اعمال اور حالات و کیفیات کو یکسر بدل کر رکھ دے۔ بندہ عبادت و ریاضت کا پیکر بن جائے۔ ایسی کامل توبہ کے بعد زندگی کی مشکلیں آسان ہوتی ہیں، ترقی کی نئی راہیں کھلتی ہیں، معاشرے کو آفات سے امان ملتی ہے اور ربّ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے، ایسی رحمت جو دونوں جہانوں کے لیے خیر و برکت کا باعث بنتی ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

رانا اعجاز سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.