معاشرے میں ‘ویکیوم’ نہ پیدا ہونے دیں

364

بس میں سفر کے دوران اگر کبھی بھیڑ کا اتفاق ہوا ہو تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ اگر تھوڑی سی بھی گنجائش بنے تو کوئی نہ کوئی وہاں گھس ضرور جاتا ہے اور دھیرے دھیرے کھڑے ہونے کی جگہ بھی بنا لیتا ہے۔ اس گنجائش، خلا یا ویکیوم، جو بھی نام دے لیں، ہم اپنے معاشرے میں بھی اگر ویکیوم چھوڑیں گے تو کوئی نہ کوئی درانداز اس خلا کو پُر کرنے کے لیے وہاں آ دھمکے گا۔ ہم نے اپنی زندگیوں میں اتنے ویکیوم چھوڑ رکھے ہیں کہ ان میں جابجا ایسے لوگ گھس آئے ہیں جو نہ صرف خود مضبوط ہو چکے ہیں بلکہ اب ہمیں ہی مارنے کی پوزیشن میں آ چکے ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا ویکیوم علم اور مذہب کے میدان میں ہے۔ یہ ویکیوم اس قدر سنگین نوعیت کا ہے کہ اسے اب دہشت گرد اور دشمن کے نفسیاتی جنگ کے ماہرین باقاعدہ اپنا میدان جنگ بنا چکے ہیں اور ہمارے اندر بھیس بدل کر ہمیں تباہ کر رہے ہیں۔

دہشتگردی کے لیے صرف بارود یا بم وغیرہ ہی استعمال نہیں ہوتے بلکہ نفسیاتی اور ذہنی دہشت گردی ان بموں سے کہیں زیادہ تباہی پھیلاتی ہے۔ جس قوم میں نفرت اور عدم برداشت کے بارود بھر دیئے جائیں انہیں تباہ کرنے کے لیے خودکش حملہ آوروں کی ضرورت نہیں رہتی۔ آج تک دہشتگردی اور دھماکوں کے ہر قتل میں یہی بارود استعمال ہوا ہے اور جابجا دین اور غیرت کے نام پر ہونے والے قتل اسی ویکیوم میں گھس آنے والے دہشت گردوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔

اگر ہم لوگ اپنی زندگیوں میں یہ خلا چھوڑیں گے ہی نہیں تو کیسے ممکن ہے کہ کوئی وہاں گھس آنے میں کامیاب ہو جائے۔ علم کو روشنی سمجھ کر حاصل کریں، صرف ڈگری کے حصول کے لیے نہیں۔ دین کو اپنی زندگیوں کے لیے مشعل راہ اور ضابطہ حیات کی طرح شامل کریں، صرف رسم پوری کرنے یا اگلے جہان میں جنت کے حصول کے لیے نہیں۔ جس کا ایمان کامل ہوتا ہے اور وہ دین کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتا ہے اس کی یہ دنیا بھی جنت بن جاتی ہے اور اگلی دنیا تو ہے ہی جنت۔ جو اس دنیا میں اپنے رب کی پہچان کر لے اسے قبر میں بھی اس مالک کی شہادت دینے میں مسئلہ نہیں ہو گا۔ حقوق العباد ادا کرنے والا اور فرائض دنیا میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق چلنے والا کبھی بھی نامراد نہیں ہوتا۔

جس معاشرے میں ایسے اللہ والے لوگ ہوتے ہیں وہاں درانداز داخل نہیں ہوتے اور وہاں دھماکے نہ باہر ہوتے ہیں اور نہ ان کے دلوں کے اندر ہوتے ہیں۔ پرامن اور خوشحال زندگی کے لیے علم اور مذہب دونوں میں مکمل عبور حاصل کرنا لازم ہے لیکن واضح رہے ملاں نہیں الله کا دین حاصل کیا جانا اہم ہے۔

اگر ملک سے دہشت گردی ہمیشہ کیلئے ختم کرنی ہے تو اپنے دین اور تعلیم سے ویکیوم ختم کر کے روزمرہ امور میں برداشت اور مخلوق سے محبت کا خالص جذبہ پیدا کر لیں۔ اپنے لئے اور الله کی مخلوق کے لیے اس دنیا میں جنت تعمیر کریں، اگلے جہان کی جنت اللہ تعالیٰ خود آپ کے لیے سجا دے گا۔

“خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے۔”

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات اور پیش کردہ مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

تاثیر اکرام سیاسی و سماجی امور پر قلم آزمائی کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.