’’آﺅ خوشیاں بانٹیں‘‘

غذائی قلّت سے منسوب پہلی پاکستانی نظم کیا کبھی اُن معصوم چہروں کو دیکھا ہے تم نے رنگ ہیں ۔۔۔ نہ ہی ہنسی نہ آنکھوں میں چمک ہے، نہ دلوں میں بسی کو ئی خوشی جسم خالی ہیں اُنکے "قوّتوں ” سے ناتوانیوں کے طوفاں میں ہے ناﺅ زندگی کی پھنسی اور تمہیں…

پنچھی نامہ

گزرے دنوں ۔۔۔ وہ جو پرندے گئے جاں سے! *** زندگی حَسین تھی خوبصورت رنگین تھی میں اُڑتا تھا تازہ ہوائوں میں ، لیتا تھا سانسیں ، کھُلی فضائوں میں اُڑتا پھرتا تھا میں خوب چہچہاتا ، پروں کو پھیلاتا کبھی اُوپر چلا جاتا کبھی نیچے آجاتا کبھی دائیں…

ٹوٹتے، بکھرتے رشتوں کی کہانی!

زیادہ پرانی نہیں، یہ گزشتہ جمعرات ہی کی بات ہے کہ جب دروازے پر ہونے والی کھٹ کھٹ سے آنکھ کھل گئی تھی ، دن کے ڈیڑھ یا دو بجے ہوں گے اور۔۔۔ لیکن ایک منٹ، ذرا ٹھہر جا ئیے۔۔۔!! بھئی دن کے اُس پہر میں ’سو‘ کیوں رہا تھا، اسکی وضاحت یہاں بیان…

چلو پھر سے مُسکرا دیں!

عید آئی ہے کیسی دھوم دھام سے مناتے ہیں مسلمان،س اسے بڑی شان سے * کہیں بنتی ہیں سوّیاں تو کہیں شیر خورما سجتا ہے دستر خوان پر،س بریانی اور قورمہ * نت نئے رنگوں کی پوشاک ہے پہنی جاتی رنگِ حنا ہاتھوں کی،س زینت بھی ہے بڑھاتی * ہنسنا، ہنسانا،…

!!بات کچھ اور تھی۔۔۔

(مزدوروں کے عالمی دن کی مناسبت سے آجر اور اجیر کے رشتے کو مضبوط کرتا ایک افسانہ) ٭٭٭٭٭ نام تو دراصل ان کا ‘’استفسار مقصود لکھنوی’’ تھا مگر کیونکہ لوگوں کو سمجھنے اور بولنے میں پریشانی کا سامنا رہتا تھا، اس لیے دفتر میں سب انہیں بچپن  کے…

مرحبا، اے شھرالقرآن مرحبا

مرحبا، ماہِ رمضان مر حبا مرحبا اے شھرالغفران، مرحبا سحر ہے پُرلطف،س افطار بھی کیا خوب ہے اس ماہ کی ہر ساعت،س بس نور ہی نور ہے!س رحمتیں، مغفرتیں، آزادیِ جہنم تین عشرے بکھیرتے۔۔،س چہروں پہ ہیں تبسم!س روزہ، زکوة، نمازیں اور تلاوتِ قران بنا…

!دو مہمان

مہمان نوازی کیا ہوتی ہے، کوئی ہمارے ہردلعزیز دوست قوی (ذوالقرنین) سے پوچھے۔ جوں ہی پتہ چلا کہ بڑے بھائی کی فیملی امریکہ سے کراچی آ رہی ہے، لگے گھر کو سجانے سنوارنے۔ جن کمروں میں مہمانوں کا قیام تھا اُنہیں تو روغن کروایا ہی، ساتھ پورے گھر…

!تھام لیں اُن ہاتھوں کو… ڈور سانسوں کی ٹوٹنے سے پہلے

بے بسی، بے کسی اور بیچارگی سے منسوب کلام !س *****  ہاتھوں کی کپکپاہٹ قدموں کی لڑ کھڑاہٹ،س گھٹتی سانسیں ،، بے پناہ گھبراہٹ ڈگمگا گیا ہے وجود ہی سارا ہو چکی ہے غائب،س تھی جو چہرے پہ مسکراہٹ عجب قیامت ٹوٹی ہے اُن محنت کش، مزدوروں پر نہ آٹا،…

قومی ہیروز کو خراج تحسین

**** مشکل کی اس گھڑی میں ہیں یہ ہر دم کمر بستہ انسانیت ہے جس کی منزل چلتے ہیں یہ اُسی راستہ . ہیں جذبے انکے سچے نہ کوئی خوف طاری عجیب لوگ ہیں کچھ اس جہاں میں کہ فائز ہیں اُس منصب پر زیست ڈال خود کی مشکل میں ہے جاں جنہیں، دوسروں کی پیاری .…