کورونا سے ڈرنا نہیں مگر بچنا ضروری ہے

کیا کہہ رہے ہو، کیاااااااا۔۔۔ جانا ہے۔۔ کہاں جانا ہے۔۔۔ احمد کی سالگرہ پر۔۔۔ اور وہاں پارٹی کرنی ہے ۔۔۔۔ اچھا۔۔ اور میں بھی چلوں ۔۔۔ تمھیں پتہ نہیں۔۔۔۔۔باہر کورونا ہے ۔۔ منع کیا ہے باہر جانے سے ۔۔۔۔ وہ سنا نہیں، گھر پر رہو اور محفوظ رہو۔۔۔۔…

ارطغرل غازی اور پاکستانی عوام

آج کل پاکستان میں دو ہی چیزیں خاص اہمیت کی حامل ہیں کورونا اور ارطغرل غازی، پاکستان میں کسی چیز کی مقبولیت کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کو با آسانی اس کے پاپڑ میسر ہیں کہ نہیں ۔۔۔۔ جی ہاں اب آپ کسی بھی دکاندار سے ارطغرل پاپڑ…

…پا جا سراغِ زندگی

نور اپنے شوہر جمیل پر مسلسل دباو ڈال رہی تھی کہ وہ اس بار سالگرہ پر اسے صرف سونے کا ہار ہی تحفے میں دے، بالکل ویسا ہی جیسا اس کی ہمسائی کو شوہر سے ملا ہے ورنہ وہ گھر چھوڑ کر میکے چلی جائے گی۔ نور کو شکوہ تھا کہ جمیل کو اُس سے ذرا بھی محبت…

خطرناک کون…؟

میاں گیڈر، یہ تم کدھر کو جا رہے ہو؟۔ بی لومڑی! میں نے یہاں جنگل میں نہیں رہنا، شیر بہت ظالم ہے، بادشاہت کے رعب میں ہم جانوروں پر ظلم کرتا ہے۔ نہ یہاں پر کھانے کو کچھ خاص ہے، میں تو انسانوں کی بستی میں جا رہا ہوں۔ کیا اونچی اونچی عمارتیں ہیں…

تبدیلی آئے گی، مگر کیسے؟

کہتے ہیں کسی شہر میں ایک پاگل رہتا تھا جو روزانہ شہر کے دروازے پر کھڑا ہو جاتا اور سارا دن چلاتا رہتا، لوگو اٹھ جاو اب...، اپنے حق کے لیے لڑو....، کب تک یونہی غلامی کرتے رہو گے۔ لوگ اس کی باتوں پر ہنستے اور مذاق اڑاتے کہ غلامی ختم ہو گی…

…..کچھ ہلکا پُھلکا

باقی دوست رائٹرز کی کہانیاں ویب سائٹس، رسالوں اور میگزین میں چھپتی دیکھ کر دل کرتا کہ ہم بھی لکھتے ہیں، مگر وہی زمانے بھر کی الجھنیں۔ آج کل فراغت ملی تو دماغ نے بھی فوکس کیا۔ بس تو پھر ہم نے بھی کہانی لکھنے کا فیصلہ کیا۔ دو چار لکھیں بھی…

!…سب ٹھیک ہے

زندگی ہر شخص کے لیے مختلف ہے، غریب کے لیے روٹی زندگی ہے، بیمار کے لیے صحت، امیر کے لیے سکون۔ ہر شخص اپنے نظریئے اور زاویئے سے زندگی کو دیکھتا اور پرکھتا ہے۔ زندگی صرف حسین خواب یا پھولوں کا ہار نہیں، بہاروں کا موسم یا تاروں بھری رات نہیں…

پوچھتے ہیں پاکستان کیوں بنایا ؟

انیسویں صدی میں برصغیر پر مغلوں کی حکومت تھی مگر وہ سب عیش و عشرت میں پڑے بدلتی دنیا سے بےخبر اپنی رنگینیوں میں کھو ئے ہوئے تھے، ادھر دشمن تاک میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کب موقع ملے اور وہ برصغیر پر قبضہ کریں ۔مسلمان حکمران آپس کی ناچاقیوں میں…

ہمارا تعلیمی نظام – فقط نمبروں کی دوڑ

وہ تعلیم جو ہم اپنے تعلیمی اداروں میں دے رہے ہیں وہ بالکل بھی کافی نہیں ہے کیونکہ نہ تو یہ ہماری سوچ بدل رہی ہے اور نہ ہی ہمارے ذہن کو وسعت عطا کر رہی ہے ۔ ہم تعلیم حاصل کر کے بھی اسی پرانی اور بے بنیاد سوچ اور نظریہ کے حامی ہیں جسے بدل…

بکھرے لفظوں کی داستان

خدا نے ماں کو بڑی فکرمندی دی ہے یہی وجہ ہے کہ بانو قدسیہ نے لکھا ہے کہ اگر کسی ماں کے آٹھ بیٹے ہوں اور سات جنت میں داخل کر دیے جائیں اور ایک جہنم میں تو ماں جنت میں ہو کر بھی بےقرار رہے گی اور خواہش کرے گی کہ اسے آٹھویں جہنم والے کے پاس…