افغانیوں کو باہر نکالو

18 2,784

طور خم پر کشیدگی کے بعد افغان مخالف جذبات میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ افغانیوں کو باہر نکالو ، انکی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہوا ہے ، انہی کے ساتھ دہشتگرد بھی آ جاتے ہیں، یا بہت کر لی ہم نے میزبانی اب افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جاۓ۔

یہ سب جملے سن کر مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہر پاکستانی میں ایک ڈونلڈ ٹرمپ چھپا ہے جو امریکا میں بسنے والے سارے مسلمانوں کو باہر نکال دینا چاہتا ہے۔ پیرس کی خوں ریزی ہو، حالیہ اورلانڈو کا واقعہ ہو یا دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کا واقعہ ہو، دیار غیر میں بسنے والے مسلمان بشمول پاکستانی خود کو چور سمجھنے لگتے ہیں کہ اب سارا ملبہ ہم پر گرے گا۔ ان لوگوں کو اپنا اور اسلام کا دفاع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انہیں غیر مسلموں کو یہ باور کرانا مشکل ہو جاتا ہے کہ اسلام ایک پر امن مذھب ہے، وہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کا احترم کرتا ہے اور یہ کہ قرآن ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ بالکل یہی حالت پاکستان میں افغانیوں کی ہوتی ہے جب پاکستان میں دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے۔ افغان بستیوں پر چھاپے پڑتے ہیں اور افغانیوں کو بھی اسی طرح منہ چھپانا مشکل ہو جاتا ہے جس طرح ہم سب مسلمانوں کا یورپ میں۔

یورپ نے جب شامی پناہ گزینوں کے لیے اپنی سرحدیں بند کی تھیں تو امت مسلمہ تڑپ اٹھی تھی۔ سوشل میڈیا پر کافروں کے اس غیر انسانی رویہ پر خوب لے دے ہوئی تھی لیکن ہم تو پوری امت کا غم مناتے ہیں، فلسطینوں کے لیے تڑپ جاتے ہیں، شامیوں کے لیے آنسو بہاتے ہیں، تو پھر ہم ‘افغانیوں کو واپس بھیجو’ کے نعرے کیسے لگا سکتے ہیں؟ ہم نے افغانیوں کے لیے کیا ہی کیا ہے؟ ان کے نام پر بڑی بڑی امدادیں لیں، رقمیں بٹوریں مگر ان کی بہبود، آبادکاری اور پاکستانی معاشرے میں ان کے انضمام کے لیے کیا کیا؟

جب ایک پناہ گزین کسی یورپین ملک میں پناہ حاصل کر لیتا ہے تو وہ اس ملک کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔ اسے رہنے کے لیے گھر دیا جاتا ہے، اس گھر کا کرایہ، گھر میں ڈالنے کے لیے سامان اور پھر ماہانہ خرچہ جو کسی متوسط یورپی کے خرچہ کے برابر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس پناہ گزیں کو زبان سکھائی جاتی ہے، اس کو ہنر سکھایا جاتا ہے، بچوں کا خرچہ، پانی، بجلی، صحت، تعلیم کی تمام سہولیات دی جاتی ہیں۔ اس شخص کو اس وقت تک سپورٹ کیا جاتا ہے جب تک وہ زبان سیکھ کر اپنی اہلیت اور تعلیم کے مطابق کوئی جاب حاصل نہیں کر لیتا۔

اور یہ سب دیکھ کر مجھے پاکستان میں کچرا چنتے افغانیوں کے چھوٹے چھوٹے بچے یاد آ جاتے ہیں جن کو اس طرح دیکھ کر دل کٹتا تھا اور پھر ہم فخر سے کہتے ہیں کہ ہم نے افغانوں کی میزبانی کی۔

ہماری حکومت نے انہیں پناہ تو دی لیکن انکی بہبود کے لیے ملنے والی رقوم بھی اسی طرح کرپشن کی نذر ہوئیں جیسے دوسرے پروجیکٹس میں ہوتی ہیں۔ جب افغانیوں کو پاکستانی معاشرے میں ضم ہونے اور روزگار کے مواقع نہیں ملے تو اس بیروزگاری نے انہیں جرائم کے راستے پر لگا دیا۔ یہ بالکل صحیح ہے کہ افغانیوں کے آ نے کے بعد جرائم میں اضافہ ہوا مگر اس کی وجوہات تھیں۔ ہماری حکومت کی کرپشن اور نااہلی تھی جنہوں نے نہ تو پاکستانیوں کو روزگار دیا اور نہ ہی افغان مہاجرین کو، تو اگر کسی سے نفرت کرنی ہے تو حکمرانوں کی کرپشن سے کریں نہ کہ افغانوں سے۔

اگر افغانستان کی حکومت پاکستان سے اپنے اتحادیوں کے کہنے پر سرحدی دراندازی کرتی ہے تو اس میں پاکستان میں موجود افغانیوں کا کیا قصور ہے؟ جن کی نسلیں بھی اب یہاں بڑی ہو گئی ہیں، جو پاکستان کو ہی اپنا ملک سمجھتی ہیں؟ یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح القاعدہ اور داعش کے حملوں سے باقی مسلمانوں کا کوئی تعلق نہیں ہوتا اسی طرح پاک افغان پر ہوئی سرحدی کشیدگی کا افغانیوں سے کوئی تعلق نہیں۔ ہاں البتہ جو افغانی انفرادی طور پر جرائم میں ملوث ہیں یا طالبان کو پناہ گاہیں فراہم کرتے ہیں ان کا قلع قمع کیا جاۓ۔ مگر عام مہاجرین کو نفرت کا نشانہ نہ بنایا جاۓ۔ یہ لوگ ہمارے بھائی ہیں۔ انسانیت کے ناتے بھی اور دین کے رشتے سے بھی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

18 تبصرے

  1. Sajid کہتے ہیں

    The basic hypothesis is wrong in the writing, how developed countries treat and manage refugees (keeping in mind they first attack a country, snatch resources then give them asylum to fulfill their manpower need) VS an under developed country like Pakistan (having limited resources, dealing worst kind of terrorism and facing a proxy war from Nato, India, Afghanistan and Iran)

  2. محمد انور کہتے ہیں

    میں بھی صائمہ کیساتھ متفق ہوں اس کشیدگی کا “افغانیوں کو باھر نکالو ” سے کوئی تعلق نہیں میں خود ہی یا میری خاندان افغانستان سے 35 سال پہلے آیے ہیں اگر انٹرنیشنل قانون کو مدنظر رکجا جایے تو ہم اب پاکستانی ہیں اور خود کو پاکستانی کہوںگا میری تعلیم میرا تربیت سب پاکستان کا دیا ہوا ہیں اور میں یہ احسان کبھی بھول نہیں سکتا کہ پاکستان کی وجہ سے میں اب ایک اخلاقی اور معاشرے کا ایک اچھا انسان بن چکھا ہوں مگر یہاں پہ یہ کہنا غلط ہوگا کہ سب کو ایک نظر سے دیکھا جاے ایک پاکستانی کی طرح ہمنے بھی اس ملک کی وقار عزت کیلئے بے شمار قربانیاں دی ہیں
    اور آخر میں ایک بھار پھر صائمہ کیساتھ ہم آواز ہو کر یہ کہوںگا کہ حکمرانوں بڑی غلطی “کرپشن ” کی وجہ سے اس ملک میں ہر طرف نا امنی نظر آتی ہیں

  3. Shahid Abdullah کہتے ہیں

    Well said Saima. We tend to ignore racism in our country .

  4. پروفیسر سیّد محسن وحدانی کہتے ہیں

    افغانیوں کو اس لیے واپس ان کے ملک بھیج دیا جانا چاہیے کہ اب ان کا ملک کسی غیر ملک کے زیرِ قبضہ نہیں اور وہاں خانہ جنگی بڑی حد تک رفع ہو چکی ہے۔ ان کے یہاں رہنے کا اب کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ صائمہ وقاص صاحبہ اگر جیلوں میں جا کر دیکھیں تو انہیں یہ دیکھ کر حیرت اور افسوس ہوگا کہ سنگین جرائم میں ملوث ملزمان اور مجرمین میں بہت بڑی تعداد افغانیوں کی ہے جو انتہائی سفّاکی اور دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔اگر کوئی دس ہزار روپے اجرت دے کر کسی کو قتل کروانا چاہتا ہے تو وہ افغان بستیوں میں بآسانی کرائے کا قاتل ڈھونڈھ لیتا ہے۔ کراچی کے لٹنے والے بیشتر شہری گواہ ہیں کہ وہ افغانی مہمانوں کے ہاتھوں لٹے ہیں۔

    1. usman ahmad کہتے ہیں

      aap ka bohat shukrya

  5. waqas کہتے ہیں

    Totally disagreed with saima. the writer has not idea how Afghanis are destroying our economy. how are involved in murder, extortion and theft. As for what we have done for them, we have provided them a place to live peacefully as long as we could. no one stopped them from going to schools or making a living but if they insist on living criminal lives and threatening Pakistanis, they must go back to their own country

  6. saima waqas کہتے ہیں

    This is same here in Europe. They don’t differentiate between common Muslim refugees and terrorist as we do not keep difference between criminal or innocent afghans in Pakistan. They don’t want refugees come to their countries because they are burden on their economy. Point was when we are same so we shouldn’t mourn for Syrians as European countries closed borders for Syria.

  7. Bakhtiar khan کہتے ہیں

    محترمہ سائمہ صاحبہ، میں آپ کے خیالات سے سو فی صد اتفاق کرتا ہوںمیں خود باہر ملک میں رہتا ہوں، یہاں سات سال رہنے کے بعد
    ہمیں سارے حقوق مل جاتے ہیں، مگر ہم پاکستانی یہ تو چاھتے ہیں کہ ہر ملک والے ہمیں برابر کے حقوق دیں حالانکہ ہر ملک میں جرائم پیشہ افراد میںپاکستانی سر فہرست رہتے ہیں، ہمیں ،جب عربوں میں برابر کے حقوق نہیں ملتے تو ہم ان کو کوستے رہتے ہیں ،کہ یہ کیسے مسلمان ہیں جو ہمیں حقوق نہیں دیتے، مگر جب افغانیوں کی باری آتی ہے ،تو ہمارا رویہ اور مذہب بدل جاتا ہے، یہ کھلی منافقت ہے،دوسرے ہم کس منہ سے کہہ رہے ہیں کہ افغانستان پر کسی کا قبضہ نہیں،پہلے روس کا تھا اب امریکہ کا ہے، یہ بھی ان بے غیرت لبرل لوگوں کا قصور تھا،جنہوں نے ایک کافر ملک کے ساتھ ملکر ایک مسلم ملک کو لتاڑا، خود ابھی سارے انگلینڈ میں بیٹھے ہوئے ہیں،پاکستان کو آگ کی بھٹی بنا کر چلے گئے محبت تو اتنی ہے کہ پاکستان میں رہنا پسند نہیں اور نعرے لگائے تھے کہ سب سے پہلے پاکستان ہے، بعد میں اسلام ہے،میں تو یہ کہتا ہوں اگر انڈیا سے آنے والے مسلمانوں کو اگر ہم پاکستانی نیشنلٹی دے سکتے ہیں اوربنلگہ دیش سے ٓنے والوں کو نیشنلٹی دے سکتے ہیںتو افغانیوں کو کیوں نہیں دے سکتے وہ بھی ہمارے بھائی ہیں، وہ بھی مسلمان ہیں،اتنا ضرور کرسکتے ہیں،جو لوگ سات سال سے یا دس سال سے پاکستان میں امن سے رہ ہیں ہم صرف ان کو قومیت کے حقوق دے سکتے ہیں، اس سے ہمارے ملک کو ترقی اور امن بھی ملے گا،مالدار لوگ پاکستان میں آئیں گے اور انوسٹمنٹ کریںگے اس سے ہمارا ملک ترقی کرے گا۔
    ایک آدمی پاکستان میں پیدا ہوا، یہیں پلا بڑا ہوا، تعلیم حاصل کی،تجارت شروع کی اپنا بزنس اسٹیبلش کیا، اور ہم نے دو ہاتھ دو پاﺅں ان کو ملک بد ر کیا کہ یہ تو افغانی ہے، توپھر کیسے وہ ہمارے ملک اور قوم کے خیر خواہ ہوسکتے ہیں، سوچنے کی بات ہے، یورپ، عرب ممالک اور ھانگ کانگ چائنا اور ملائشیاءسنگاپور اور امریکہ جاپان میں رہنے والے سوچیں، اگر ان کے یا ان کے اولادوں کے ساتھ ایسا برتاﺅ کیا جائے تو ان کی کیا سوچ ہوگی، کھلے دل سے سوچیں، اور ان کی جگہ اپنے آپ کو رکھیں اور پھر بات کریں،پھر کہیں کہ ان کو نکالنا چاھئے یا نہیں

    1. M Akbar Khan کہتے ہیں

      Kiya Bat Hi. Agar Har Mussal Man Tomary Jesa Khyal Lat Ho To Ham Me Koi Nahi Joda Khar Sak Ta ????? Koi Bi Nahi

  8. Razdali کہتے ہیں

    اپ کچھ بھی سمجھو ہمیں افغانیوں سے پاک پاکستان چاہیے

  9. sohail کہتے ہیں

    Muhterma saima ap khiyali theory se bahar niklen,apne pakistani Indian awam Punjab sindh,Kashmir,Jo qadre muhazib qomo ko in se Mila diya ,apke pass theory he practical nhi

  10. usman ahmad کہتے ہیں

    pehli baat ke afghan 35 salon se bahar hal pakistan me moujood hayn ham un ke saath europian jeysa salooq kiu nahi kar saky aap ko shayed pakistan ke halat maloom nahi hayn aap jasy log jo mulk se bahir rehty hayn wo pakistanio ko aysy hi mashwary dyty hayn ke jaysy tum log roti nahi to cake kiu nahi kha ley ty 9 11 ky baad usa ny afganion ke saath kya kia is pe bhi baat karyn aur afghan ne jo dehshat gardi pakistan me mchai us pe bhi baat karyn aur afghan hkomat pakistan ke khilaf kitna zehar uglti hay kuchh us ka bhi socheyn rahy funds tu wo aap jeysi aonchi class khati hay pakistan ka aam ghareeb nahi us ne afghanio ki waja se sirf taqleef uthhai hay jinhen aap jasy suhany sapnon sweet sweet dukhon ke mary nahi jaan sakty pakistan me sab afghani kachra nahi chunty be shumar karobar aur asliha bhi bechty hayn lekin pakistan ko sab galiyan dety hayn unheh jis jis mulik ne pnah de wo un sab ko galiyan dety hayn lekin aap jesy logon ko ye nazar nahi aaten inheyn ham sunty hayn Allah aap ko aak adad afghani naseeb farmay

  11. Noman ali کہتے ہیں

    sir hum log afghan logo ka against nehi ha. or na hi un ko migrate karna chata ha mugar ya log apni manmani karta ha jo ka governesess ka khelaf ha .
    or dosra jo in ka bacha kachra aketha karta ha to ya kis ka kasoor ha ya bhi in hi ka kasoor ha.ja ya bacho ke line pa line lagata jaya ga to afford karna muskil ho jaya ga.
    ya log apni kam education ke vaja sa mar in muskilat ma ha.

  12. sharif popal کہتے ہیں

    mere peyari bhaio or behno
    Afghan refuges ko pakistan me dil laga Hia or koi os ko nahee nekal sakta
    or ha me ap sub logo ko Afghan citizen card bana kar ke donga ap sara pakistan me ghomo ager ap ko kam mela to pher bolo
    2 :Afghan refuges ko india ke bordar pr karra karoo pher dekho k india kia blotaa hia
    sirf 10000 Afghan refuges indian border pr karra karoo pher dekho
    afghan refuges din bahr mehnat mazdore karrta hia os ka bacha osee tarha or
    pher jab ghar atta hia to rotee khakar so jatta hia
    kal pher kam pr nekal jata hia or ese gharebe me sari zindagee guzar jatee hia
    3: koi esa Afghan refuge ka name bataoo jis ne pakistan me dehsatgardee keyee HIA
    Ap log ye India ke refuges ke baree me Q kuch nahee kehtee jis ne karachi me kia kia nahee kia
    ager nekalna hia pehlee mehmmod khan Achakzai molana fazal rehman asfand yar wali khan
    ko nekalOO saree party ke logo ke sath
    jitnee b pathan hia saree Afghani hia koi b esa nahe jis ka baap afghanistan ka nahee ho
    or ha hazrat mohammad (SAW) ne b mohajeerat kia hia or ose mohajerat me es dunnya se ankhee band kar chalee hia or ye sunat hia
    lannat ho jo mohajeroo ko galee dete hia
    ha mene dekhe hia esse log
    sub se pehle sub apne ghereeban me jhag kar dekho k kia kia ghuna nahee kia pa logo ne ager muhajeero ke ghonaoo se kam the ap ke ghonaa to pheer bolo ke hum see zeyada ghunehgar hia
    fakhar karro Afghan mohajeroo pr ke ye ap k watan aziz me muhajeer hia
    baattee koi b kar sakta hia mager kam karna kisse ka bass ka kam nahee hia
    (Anonymous Quetta)

  13. saad کہتے ہیں

    Q.what have we done for them ?

    Well, for the last 30+ years afghan migrants are free to go and stay anywhere in Pakistan and do whatever they like.NO restrictions ! Free treatment in hospitals in case of an emergency. There are educated afghans, near where I live in Islamabad, and they have their own shops and business. Their children go to schools. They have jobs.Not all of them are poor.

    2-Euorpe is not 1 tiny poor country, it is a continent unlike Pakistan and the unrest in shaam and middle east is mostly because of them.Don’t compare Pakistan with Europe.

    3-Afghan government and u.s keep saying that insurgents come from Pakistan into Afghanistan and then go back and hide in Pakistan.Our response is migrants come to pakistan and go back and come back to pakistan again so if they don’t like it we would send all afghans back to Afghanistan and then seal the border.No more cross border movement.why not ? But they don’t like this solution. either this or don’t accuse pakistan for what happens in afghanistan.simple.

  14. Shafi کہتے ہیں

    There is a huge difference as long as Afghan are concerned. You can give them shelter for four more decades. At the end you will find them much more loyel to any other nation, particularly our arch enemy India… all hate Pakistan but still love to stay here. ….It is a bad luck of Pakistan. It itime to get rid of them. Enough is enough…

  15. M Akbar Khan کہتے ہیں

    Aghar Ham Kisi Se Acha Krenge To Acha Mellegah Or Aghar Ham Kisi Se Bora Krange To Borahi Melle Gah…Allah Pak Ham Sab Ko Achahi Kar Ne Ka Topiq De Aamin ????

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.