…..کچھ ہلکا پُھلکا

737

باقی دوست رائٹرز کی کہانیاں ویب سائٹس، رسالوں اور میگزین میں چھپتی دیکھ کر دل کرتا کہ ہم بھی لکھتے ہیں، مگر وہی زمانے بھر کی الجھنیں۔ آج کل فراغت ملی تو دماغ نے بھی فوکس کیا۔ بس تو پھر ہم نے بھی کہانی لکھنے کا فیصلہ کیا۔ دو چار لکھیں بھی مگر ایڈیٹر صاحب نے کچرے کے ڈبے میں پھینک دیں۔ کہتے ہیں خیالات بہت پرانے ہیں، نئی نسل کو دلچسپی نہیں ایسی بڈھے خیالات میں، انہیں کچھ نیا چاہیے۔

بھئی ہم بھی کیا کریں، نہیں توڑے جاتے ہم سے بیٹھے بٹھائے چاند تارے، اور نہ ہی اتنی محنت کے بعد ہمیں کوئی چھ فٹ لمبا چوڑا امیر باپ کا چشم و چراغ مل جانا ہے جو کہانی پڑھ کر واہ واہ کہہ اٹھے۔ ہم جانتے ہیں 21 ویں صدی ہے پر اس بڈھی سوچ کا کیا کیجئے جو بابا آدم کے زمانے کی رکھتے ہیں۔ اب ہمیں سمجھ نہیں آتی یہ ماڈرن فون کال والی محبت جس میں اگلے کو یہ تک نہیں پتہ کہ باجی محبوبہ اصل میں جی کس عالم میں رہی ہیں۔ کیوٹ، گورجئس دکھنے والی فلٹر کے پیچھے ماسی ہی دکھتی ہو۔ جو روتی ہے تو گھر والے ڈائن کہتے ہیں اور گر ہنستی ہے تو اماں باگڑ بلی بلاتی ہیں۔ کیا کیجیے دل تو بچہ ہے نا جی اور تھوڑا تھوڑا بےوقوف ہے، اب گھر والے بھی ایسے ملے کہ بھولے سے بھی کبھی ہمیں شہزادی نہیں کہا۔ تو لہذا ہم سے بھی تعریفوں کے یہ پل نہیں بندھتے۔ اوپر سے نئی نسل کے رنگ برنگے مطالبات کا خیال رکھیں، بھئی کیسے، ٹریفک میں گھنٹوں دھکے کھاتا آدمی کیسے سپر مین کی طرح پہنچ کا دو سیکنڈ میں دوشیزہ کو گرنے سے بچا سکتا ہے۔

اور یہ آپ جناب، اسی تسی، وہ جی یہ جی سنیے جی نہیں ہوتا نا اور نہ ہی ہم سے منٹوں میں امپائر کھڑے ہوتے۔ جناب ہمارے ابا نے سالوں 24 گھنٹے ایک کر کے کیسے گھر بنایا تھا، ہم نے دیکھا ہے۔ اور نہیں ملتا نا ہر بار ناراض ہونے پر ڈائمنڈ کا سیٹ، جب ہم نے تو اماں کو گھر کے لیے روپے، دو کا حساب رکھتے بھی دیکھا ہے۔ میاں بیوی لڑتے تھے، نہیں کہتے تھے صبح شام لو یو، سی یو، مگر ذرا سے مسئلے پر سر جوڑ کر بیٹھ جاتے تھے… بھئی یہ بھی محبت ہی ہے۔ اب نہیں ملتے ہم سے محبت میں زمین و آسمان کے قلابے جو یہ نئی نسل سننا چاہتی ہے۔

کیا کیجئے کہ باتوں میں قلعے پہ قلعہ فتح کر لو اور حقیقت میں ایک قدم بھی ساتھ چل نہ سکو، یہ بھی کوئی محبت ہوئی۔ یہ نسل کشش (اٹریکشن) کو محبت سمجھتی ہے، جسے فون پر نبھاتی ہے، چھپائے پھرتی ہے، چوری جو کرتی ہے۔ جذبات کے بہاؤ کو عشق کہتی ہے جو اماں کے جوتے اور زندگی کی ایک تھپڑے سے ٹھنڈا پڑ جاتا ہے، واہ بھئی….۔ بھئی ہم نے کی توبہ ایسی محبت اور نئی نسل کی ایسی ڈیمانڈز سے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

اسماء طارق الفاظ کے ساتھ کھیلنا خوب جانتی ہیں، سماجی معاملات پر ان کی گہری نظر ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.