!عمران حکومت سے ہم نے کیا سیکھا

5,199

تحریک انصاف حکومت کو تقریباً 18 ماہ ہونے کو ہیں اور اس عرصے میں عوام کو بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کو ملا ہے جو اس سے پہلے کسی دور حکومت میں سیکھنے کو نہیں ملا۔ حکومت پر اصلاح کی نیت سے تنقید کرنا جمہوریت کا حُسن ہے، تنقید کو برداشت کرنا اور اپنا قبلہ درست کرنا حکومت کا عین جمہوری فرض ہے۔

اس وقت تقریباً تمام ٹاک شوز، کالمز اور سوشل میڈیا پر حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ کبھی وزیراعظم کی کسی تقریر کا مذاق اُڑایا جاتا ہے تو کبھی وزرا کے بیانات پر میمز بنائے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ حکومت کی انتظامی صلاحیت پر انگلیاں اُ ٹھاتے نظر آتے ہیں تو کچھ حضرات کو حکومت کے فیصلے ناپختہ اور غیر سنجیدہ نظر آتے ہیں۔

خیر جتنے منہ اتنی باتیں، لیکن کوئی جتنا بھی برا عمل ہو لیکن وہ ہمیں کچھ نہ کچھ ضرور سکھا کر جاتا ہے۔ اسی طرح تحریک انصاف کی حکومت سے ہمیں بھی بہت کچھ سیکھنے کو مل رہا ہے لیکن یہاں کچھ اہم اسباق کا ذکر کرتے ہیں جو ہمیں تحریک انصاف کی حکومت سے سیکھنے کو ملے۔

۔ 1 – معیشت ایک بہت مشکل ، پیچدہ اور خشک مضمون ہے۔ عمران حکومت سے پہلے معیشت پر بہت کم ہی بحث ہوتی تھی۔ حالانکہ معیشت کے مسائل پہلے بھی تھے لیکن جس طرح تحریک انصاف نے معیشت کے حوالے سے فیصلے کیے، اس سے میڈیا پر معیشت سے متعلق زوروشور سے مباحثے لگے۔ معاشی امور کے ماہروں کو روزانہ کی بنیاد پر بلایا جانے لگا۔ عام فہم بندہ بھی معیشت کوسمجھنے لگا اور پچھلی حکومتوں نے کس طرح معیشت چلائی وہ بھی ہمیں معلوم ہونے لگا۔

۔2 – پہلے ہم سمجھتے تھے کہ اگر لیڈر ایماندار ہو تو نیچے والے بھی ایمانداری سے کام کرتے ہیں۔ لیکن اس حکومت میں اس کے برعکس نظر آیا۔ عمران خان صاحب خود بہت ایماندار ہیں لیکن ان کے وزرا بہت سے کیسز میں مبتلا نظر آئے جیسے کہ عامر کیانی کودواؤں کی قیمتوں میں اضافہ پر وزارت سے ہٹانا وغیرہ۔

۔ 3 – نیب قانون سیاسی مقاصد اورمخالفین کے خلاف کس طرح استعمال کیا جاتا ہے یہ بہت سے لوگوں کو بہت ہی کم معلوم تھا۔ لیکن اس حکومت میں ہمیں اس کا بخوبی اندازہ ہوگیا اور پھر جس طرح اپوزیشن کے رہنماؤں کو نیب کے بنائے ہوے کیسز پر بیل ملی اس سے پتا چلا کہ نیب قانون اور اس کے طریقہ کار میں کتنا سقم اور خامیاں ہیں۔ نہ ہی اتنی گرفتاریاں ہوتیں اور نہ ہی عوام کو معلوم ہوتا کہ نیب قانون کتنا کمزوراورفرسودہ ہے۔ یہ کریڈٹ بھی عمران حکومت کو جاتا ہے۔

۔ 4 – اٹھارویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کی اہمیت کا اندازہ بھی ہمیں عمران خان کی حکومت میں ہوا۔ سب سے زیادہ فائدہ اس کا سندھ حکومت نے اُٹھایا اور کورونا وائرس سے لڑنے کے لئے وفاق کے فیصلوں کاانتظارکرنے کے بجائے خود فیصلے کیے اور بروقت اقدامات اُٹھائے۔ پچھلی حکومتوں میں اس قسم کی مثال ہمیں کم ہی ملتی ہے جہاں وفاق اور صوبے الگ الگ فیصلے کریں۔

۔ 5 – پہلے ہم سمجھتے تھے کہ قرض اور امداد لینا ایک غلط کام ہے اور اس سے ملک کے وقار میں کمی آتی ہے لیکن اب ہمیں پتا چلا کہ اگر ضرورت پڑے تو قرض اور امداد ضرور لینی چاہیے اس سے معیشت کو وقتی سہارا ملتا ہے اور معاشی اصلاحات کرنے کے لئے وقت مل جاتا ہے۔

۔ 6 – سب سے زیادہ جو اچھی چیز ہمیں عمران خان کی حکومت سے سیکھنے کو ملی وہ یہ کہ صرف ایمانداری سے ملک نہیں چلتا۔ اگر ملک کا سربراہ ایماندار اور مخلص ہے لیکن اس میں ملک چلانے کی اہلیت نہیں تو ایسی ایمانداری کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ بات بھی ہمیں اس عمران حکومت میں سیکھنے کو ملی ۔ معلوم ہوا کہ ایمانداری کے ساتھ ساتھ اہلیت اور فیصلہ سازی کی قوت بھی ہونی چاہیے۔حکومت کی 18 ماہ کی کارکردگی اس بات کاواضح ثبوت ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

ایاز نور دنیا نیوز سے منسلک ہیں اور سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

7 تبصرے

  1. Abdullah Chandio کہتے ہیں

    Well done. It is well written Sir

    1. Ayaz کہتے ہیں

      Thank You Dear

  2. Saqib کہتے ہیں

    This article truly depicts how the current government is working and the tandeeli slogan they used only for their patty gains and also for manipulation

    1. Ayaz کہتے ہیں

      Thanks for your feedback Sir

  3. ریاض رٹوی کہتے ہیں

    سارہ مضمون اچھا لیکن پیرا گراف نمبر 6 زبردست

  4. Riaz ratvi کہتے ہیں

    سارا پیرا گراف ٹھیک نمبر 6 زبردست

  5. Abdul Qayyum کہتے ہیں

    مہربانی سر، علم میں اضافہ ہوا

تبصرے بند ہیں.