ہیں‌ تلخ‌ بہت بندہ مزدور کے اوقات

758

چھمو کا اصل نام شمیم تھا، وہ لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھی اور اس کا شوہر عبدالشکور جسے سب شکورا کہتے تھے دیہاڑی دار مزدور تھا۔ دونوں میاں بیوی دن رات محنت مزدوری کر کے اپنا اور اپنے پانچ بچوں اور بوڑھے باپ کا پیٹ پالتے تھے۔ آج عبدالشکور جلدی گھر آ گیا، وہ چپ چپ سا تھا۔
چھمو کچھ دیر پہلے ہی کام سے لوٹی تھی اور بچوں کو کھانا دے رہی تھی۔

آج بڑی جلدی آ گیا شکورے، روٹی لے آؤں تیرے لئے بھی…؟ پر وہ چپ رہا۔

کیا بات ہے شکورے….! بڑا چپ چپ ہے؟

او کتنی دفعہ سمجھایا ہے کہ مولوی صاحب کہتے ہیں شکورا نہیں بلانا، عبدالشکور کہنا ہے۔ رب سوہنڑے کا نام ہے شکور اور میں اس کا بندہ۔ ۔ ۔ خیر چھڈ اینوں، ہورے کون سی بیماری آ گئی ہے کہ لوگ کہتے ہیں گھر میں بیٹھو، کام نہ کرو۔ بھلا کوئی پچھے کہ کم نہ کریں تو کھائیں گے کہاں سے۔۔۔

اس نے سامنے چارپائی پر پڑے بیمار باپ کو پریشانی سے دیکھا جسے کھانے کے ساتھ دوا دارو کی بھی ضرورت تھی۔

پرشان نہ ہو عبدالشکور، اللّٰہ بڑا کریم ہے، کچھ نہ کچھ بندوبست ہو جائے گا. میری تنخواہ تو ہے ناں۔ ۔ ۔

تیری تنخواہ تو بھلیے لوکے کرائے اور بجلی، گیس کے بلوں میں چلی جائے گی، کھائیں گے کہاں سے؟
دونوں میاں بیوی کی رات کی نیند ہی اڑ گئی۔

—————————-

چھمو کل سے کام پہ مت آنا۔

پر کیوں بی بی جی۔۔۔! چھمو کو انجانے خدشے نے آ گھیرا۔

ارے بھئ بڑی خوفناک بیماری آئی ہوئی ہے، اس لئے گھروں میں رہنے کا کہہ رہے ہیں۔ تم بھی گھر میں رہو اور بچوں کو بھی باہر نہ نکلنے دینا۔۔۔

چھمو نے بھیگتی آنکھوں سے بیگم صاحبہ کو دیکھا اور سر جھکا کر کام کرنے لگی۔

یہ لو پندرہ دن کی تنخواہ، بھئی میں کسی کا حساب نہیں رکھتی۔ بیگم صاحبہ نے گویا احسان کیا۔

چھمو نے کانپتے ہاتھوں سے تنخواہ پکڑی اور تھکے قدموں سے باہر نکل گئی۔ اس دن سب گھروں سے اسی رویئے کا سامنا ہوا۔ وہ بہت پریشان تھی کہ اپنے شوھر سے کیا کہے گی کل تک تو اسے تسلیاں دے رہی تھی اس نے آسمان کی طرف دیکھا گویا رب سے دنیا والوں کی شکایت کر رہی ہو۔

اب آخری گھر رہ گیا تھا۔

چھمو، وہ کل سے تم۔۔۔۔
کیا ہوا رونے کیوں لگیں ؟ بیگم صاحبہ پریشان ہو گئیں۔س

رؤوں نہیں تو کیا کروں بی بی جی ۔ ۔ سب نے کام سے نکال دیا، ہم غریب بیماری سے نہیں تو بھوک سے مر جائیں گے۔۔۔ یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

اوہ ہاں۔۔ بات تو پریشانی کی ہے، اچھا کچھ کرتی ہوں۔ اس مرتبہ تو تمھیں پوری تنخواہ دوں گی اور اگلے مہینے بھی آکر لے جانا، کام سے تو نہیں نکال رہی، جب سب ٹھیک ہو جائے تو کام کر لینا۔ ۔ ۔

یہ تو آپ کا دل اچھا ہے ناں بی بی، باقی گھروں نے تو آدھی تنخواہ دی ہے اور اس تنخواہ سے تو کرایہ اور بل دے دوں گی، کھائیں گے کہاں سے۔ شکورے کا کام بھی بند ہو گیا ہے۔ اس نے دوپٹے سے آنسو پونچھے۔

بیگم صاحبہ کو بہت دکھ ہوا، وہ کچھ سوچ کر اٹھیں اور برابر کے تینوں گھروں کو فون کیا اور چھمو کی مجبوری بتائی۔ ان سے درخواست کی کہ مل کر تھوڑا تھوڑا حصہ ڈال کے اسے گھر کے لئے راشن دلا دیتے ہیں اور تنخواہ بھی پوری دی جائے۔ ایک گھر والے تو مان گئے مگر دوسروں نے کہا کہ بھئ ہمارا تو خود ہاتھ تنگ ہے، تو انھیں سمجھایا کہ یہ تھوڑی سی بچت کسی کام نہ آئے گی، اگر خدانخواستہ کوئی بیمار ہو جائے اس وقت غریب طبقے کو ہماری مدد کی ضرورت ہے اور یہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہے۔

اس طرح تین چار گھروں نے مل کر چھمو کو راشن بھی دلوا دیا اور اسے تنخواہ بھی دی۔ چھمو ڈھیروں دعائیں دیتی چلی گئی۔

یہ کہانی صرف ایک چھمو کی نہیں بلکہ ہمارے گھروں میں کام کرنے والی تمام عورتوں کی ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں ان کا ساتھ نہ چھوڑیں۔ کیونکہ ہمیں کورونا سے نہیں اپنے سوپنے رب سے ڈرنا ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. عشرت زاہد کہتے ہیں

    بہترین انداز میں اس وقت کا سب سے ضروری پیغام دیا گیا ہے۔ تحریر دل میں اتر گئی۔ ماشا اللہ

تبصرے بند ہیں.