سپر پاور امریکہ کورونا سے شکست کے درپے؟

1,034

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کورونا وائرس کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد عالم انسانیات کیلئے سب سے بڑا امتحان قرار دیا ہے۔ کورونا وائرس نے اس وقت دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ میں تباہی مچا رکھی ہے جہاں ہلاکتوں کی تعداد چین سے بھی بڑھ چکی ہے اور متاثرہ افراد کی تعداد 2 لاکھ سے زائد ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ جو پہلے کورونا وائرس پھیلنے پر چین کو طنز و تشنیع کا نشانہ بناتے تھے اب اپنے ملک میں کورونا پھیلنے پر حواس کھوتے دکھائی دے رہے ہیں، وائٹ ہاوس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ صرف امریکہ میں 2 لاکھ سے زائد ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔ دنیا بھر کو ٹیکنالوجی میں پیچھے چھوڑنے کے دعویدار امریکہ میں اس وقت طبی سہولتوں کی شدید کمی ہو گئی ہے، وینٹی لیٹرز تک نایاب ہو چکے ہیں۔ بروقت علاج میسر نہ آنے کے سبب تا دم تحریر 5 ہزار امریکی موت کی اندھی وادی میں اتر چکے ہیں۔

اس وقت امریکہ اور چین سے پوری دنیا کی معیشت جڑی ہے، جب سے عالمی وبا نے ان دونوں ممالک کو جکڑا ہے، پوری دنیا کی معیشت خطرے سے دوچار ہو چکی ہے۔ اس ناگہانی صورتحال میں امریکہ کے ماہرین معاشیات نے سر جوڑ لئے ہیں اور امریکہ کو مستقبل میں غربت اور بے روزگاری جیسی بڑی بلاوں میں گھرنے کی خبر دے رہے ہیں۔

چین تو کورونا کے خلاف معرکہ سر کر چکا تاہم اس جنگ میں بعض ناکام ممالک کی طرح امریکی حکام بھی اب عوام پر الزام دھر رہے ہیں کہ وہ وائرس سے بچاو کے طریقوں پر عمل نہیں کر رہے جس کے سبب وبا امریکہ میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ صرف ایک دن میں 800 افراد کی موت واقعی خطرے کی ایک گھنٹی ہے۔ امریکی اعلی افسران نے تو 2 لاکھ اموات کی پیش گوئی کی ہے لیکن بعض ماہرین تعداد اس سے بھی زیادہ بتا رہے ہیں۔

امریکی طبی ماہر ڈاکٹر انتھونی فائوچی نے کہا ہے کہ ہلاکتوں یا متاثرین کی تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے، لیکن امریکہ کو کسی بھی صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جتنی ہم احتیاط کریں گے مریضوں کی تعداد کم ہوتی جائے گی، اس کے باوجود ہمیں برے وقت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

موجودہ عالمی معاشی نظام کے مرکز نیویارک میں سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ نے مزید خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کی وبا سماج کے مرکز پر حملہ کر رہی ہے اور لوگوں کی جانیں اور روزگار چھین رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 وہ سب سے بڑا امتحان ہے جس کا ہمیں اقوامِ متحدہ کے قیام کے بعد پہلی بار سامنا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ ترقی یافتہ ممالک، غریب ممالک کی مدد کریں ورنہ اس وبا کے جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے کے خدشات ہیں جو کسی بھی وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

یہ تو باہر کےخطرات ہیں، اندرونی طور پر صدر ٹرمپ کے خلاف ملک بھر میں آوازیں اٹھنے لگی ہیں اور موجودہ خطرناک صورتحال کا ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔ امریکی ایوانِ نمائند گان کی سپیکر نینسی پلوسی نے کورونا کے خلاف حکومتی اقدامات پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کورونا کا انکار نہ کرتے تو آج امریکیوں کو اپنی جان سے یوں ہاتھ نہ دھونے پڑتے۔ نینسی پلوسی نے حکومت کی طرف سے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ناقص اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ  بنایا۔ نینسی پلوسی کے بیان کی اس طرح بھی تائید ہوتی ہے کہ ایک امریکی میڈیا رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ امریکی خفیہ ایجنسی نے کورونا کی متوقع تباہی سے متعلق رپورٹ صدر ٹرمپ کو پیش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اپنی لاپرواہ طبیعت کے باعث اس کا نوٹس تک نہیں لیا۔

ایشائی ترقیاتی بینک عالمی معیشت کو 347 ارب ڈالرز کے نقصان کا خدشہ ظاہر کر چکا ہے۔ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی دنیا بھر میں پھیلتی وبا کے پیشِ نظر معاشی مشکلات کو ٹالنا ممکن نہیں، ادارے کے مطابق ایشیا کے کئی ممالک سمیت دنیا بھر میں دو کروڑ 40 لاکھ لوگ غربت سے نجات حاصل نہیں کر پائیں گے۔ اقوامِ متحدہ کی تحقیقی رپورٹ میں اس وبا کے سبب دنیا بھر کے اڑھائی کروڑ افراد کے بے روزگار ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

نعیم کاندوال سیاست عالم کے معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں اور سوشل ایشوز پر بھی طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.