ٹائیگر فورس تجوریاں بھرنے کا ایک اور موقع؟

960

اسلم کو محبوب سے بہت پیار تھا، وہ ہر صورتحال میں اس کے تذکرے کا کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ ہی لیتا تھا، ایک دن استاد جی نے گائے پر مضمون لکھنے کو کہا، اسلم نے لکھا کہ گائے ایک مفید جانور ہے، یہ دودھ دیتی ہے، محبوب کے پاس بھی ایک گائے ہے، وہ میرا بہترین دوست ہے، اسکے تین بھائی اور چار بہنیں ہیں، اسکے ابا پی آئی اے میں کام کرتے ہیں، اور اور۔ اسی طرح اس کے ہر مضمون، ہر کہانی میں محبوب ہی کا تذکرہ ہوتا۔ استاد اسکی اس عادت سے تنگ آ چکا تھا۔ استاد نے خوب سوچا اور ایک دن کلاس سے کہا کہ کل سارے طلبا جہاز پر مضمون لکھ کر لائیں گے، لیکن یاد رہے کہ جہاز میں محبوب نہیں ہے، استاد مطمئن تھا کہ اب محبوب سے جان چھوٹ ہی جائے گی۔ لیکن اسلم نے مضمون اس طرح شروع کیا کہ میں بیرون ملک جانے کے لیے جہاز میں سوار ہوا، جہاز میں محبوب نہیں تھا، میں بہت اداس تھا، جہاز نے جیسے ہی اڑان بھری میں نے نیچے دیکھا تو محبوب نیچے کھڑا تھا، وہ میرا بہترین دوست ہے، اسکے تین بھائی اور چار بہنیں ہیں، اسکے ابا پی آئی اے میں کام کرتے ہیں ، اور اور، اور پھر مولا بخش تھا اور اسلم۔

کچھ ایسی ہی صورتحا ل میرے وطن کے سیاستدانوں کی ہے، انہیں کرپشن اتنی محبوب ہوچکی ہے کہ جیسے بھی حالات ہوں، وہ موقع نکال ہی لیتے ہیں، اسکی تازہ ترین مثال “کرونا ٹائگر فورس” کا قیام ہے، جس کے لیے 200 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ ماضی کی غلط معاشی پالیسیوں اور لوٹ مار کی وجہ سے پاکستان آج تک معاشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوسکا۔ محترم عمران خان صاحب کے برسر اقتدار آنے کے بعد اہل وطن کو امید ہو چلی تھی کہ اب ہم ترقی کا وہ زینہ حاصل کرلیں گے ، جس کا خواب دیکھتے دیکھتے ابا و اجداد منوں مٹی تلے جا سوئے۔

مگر آج 20 ماہ بعد صورتحال یہ ہے کہ “

یہ داغ داغ اُجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں، جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں

مخلص اور ایماندار قیادت کے زیر سایہ بیس ماہ گزارنے کےبعد صورتحال بد سے بدتر کی بجائے بدترین ہو چکی ہے، غریب، غریب تر ہو چکا ہے، اشیائے ضروریہ عوام الناس کی پہنچ سے دور ہوچکی ہیں، روپیہ کی انتہا درجے کی تنزلی کی وجہ سے بیرونی قرضوں میں ہر روز بڑھوتری آرہی ہے، سٹاک مارکیٹ کریش، چھوٹے تاجروں کے کاروبار تباہ ہو چکے ہیں، عام آدمی کیلئے 2 وقت کی روٹی خواب ہوتی دکھائی دے رہی ہے، وغیرہ وغیرہ

ضرورت اس امر کی تھی کہ حکومت غربت کے خاتمے کے لیے خان صاحب کی خواہش کے مطابق چائنہ ماڈل یا دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک کی پیروی کرتی، مگر خان صاحب کے اردگر د موجود مفاد پرست ٹولے کی کوششوں کی بدولت ہم الٹی سمت گامزن ہیں، خان صاحب کے ارگرد موجود لوگ ان سے ایسے فیصلے کروا رہے ہیں جن کی بدولت ان کی اور ان کے مصاحبین کی جیبیں بھری رہیں۔

میری خان صاحب سے گزارش ہے کہ اگر وہ واقعی غریب عوام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور واقعی حق دار تک اس کا حق بغیر کرپشن کے پہنچانا چاہتے ہیں، تو جس طرح لنگر خانے پہلے سے موجود ادروں کے اشتراک سے کھولے گئے ایسے ہی کرونا ٹائگر فورس کی بجائے حق دار تک اس کا حق پہنچانے،غریبوں کے حق کو امیروں کی جیبوں تک پہنچنے سے بچانے کے لیے پہلے سے موجود اداروں (جن کے موجودہ حکومتی حکام ایک زمانے میں خود بھی معترف بھی رہے ہیں) سے کام لیا جا سکتا ہے۔ اگر بین الاقوامی دباو کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہے تو سرکاری سکولوں کے استاد بھی آج کل فارغ البال ہیں، ان سے بھی کام لیا جا سکتا ہے، یا پھر پولیو ٹیمز کو استعمال کر لیا جائے، کیونکہ ان کو یہ تک معلوم ہوتا ہے کہ کس گھر میں کتنے سال کا بچہ ہے۔

آخر میں انتہائی لجاجت سے یہ گزارش ہے کہ اگر اساتذہ، غیر سرکاری تنظیموں سے یہ کام لینا ممکن نہیں ہے تو بھی برائے کرم پی ٹی آئی ورکروں کی بجائے فوج جیسے معتبر ادارے سے لے تعاون لیا جائے، کیونکہ سیاسی ورکروں سے یہ خدمت لینے پر کرپشن، سیاسی انتقام اور اقرباپروی کے نئے ریکارڈ قائم ہوں گے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

محمد عمران چوہدری کامرس گریجوئیٹ ہونے کے ساتھ ، کمپیوٹر سائنسز ،ای ایچ ایس سرٹیفیکٹس اور سیفٹی آفیسر ڈپلومہ ہولڈر ہیں۔ مختلف میڈیا گروپس میں بلاگز لکھتے ہیں، فی الوقت ایک ملٹی سکلڈ پروفیشنل ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.