کشمیر کا پیغام، اقوام عالم کے نام

843

وہ حسب معمول گھروں سے اپنے اپنے کاموں پر جانے کیلئے نکلے تھے کہ ایک چنگھاڑتی ہوئی آواز آئی، “گھروں سے باہر مت نکلو”۔ یہ ایک بھارتی سپاہی کی آواز تھی جو بندوق پکڑے نفرت آمیز لہجے میں کشمیریوں کو روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ “تمہیں ہماری سر زمین چھوڑنی ہو گی، جاؤ اپنے ملک چلے جاؤ”۔ ایک بے باک و نڈر بزرگ نے بھارتی فوجی سے بھی زیادہ گرجتے ہوئے لہجے میں جواب دیا، دیگر کشمیریوں نے بزرگ کو ایسے دیکھا جیسے وہ انہی کے جذبات کی ترجمانی کر رہے ہوں۔

اس کے بعد ہر گھر سے کشمیری نکل آئے اور ان کے لبوں پر صرف یہی نعرہ تھا، “ہم پاکستانی ہیں، سارا کشمیر ہمارا ہے”۔ ان نعروں سے نہ صرف کشمیریوں کا جوش و جذبہ جھلک رہا تھا بلکہ سر زمین پاکستان سے بھرپور محبت بھی پوری طرح عیاں تھی۔

ابھی وادی کے طول و عرض میں ان مظاہروں کا سلسلہ جاری تھا کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیریوں کے حق آزادی کو دبوچ کر کشمیر کی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کا اعلان کر ڈالا اور بھارتی دستور میں کشمیریوں کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کو حذف کروا دیا۔

بس اس اعلان کی دیر تھی کہ تمام کشمیری گھروں سے باہر نکل آئے اور وقت جابر سلطان کے آگے کلمہ حق بلند کرنے لگے، دن بدن بڑھتے یہ مظاہرے بھارتی فوج کے بس سے باہر ہونے لگے تو نریندر مودی نے نام نہاد کرفیو کا اعلان کر دیا، مقبوضہ وادی میں اس اعلان کے بعد سے آٹھ ماہ کا عرصہ گزر گیا ہے پر یہ کرفیو ختم نہیں کیا گیا۔

ہمارے حکمران اعلان پہ اعلان کئے جا رہے ہیں، پر کوئی عملی اقدام نظر نہیں آتا۔ جبر و قہر سے نڈھال وادی میں ہمارے کشمیری بھائی آج پھر کسی “محمد بن قاسم” کے منتظر ہیں، ہماری ماؤوں، بہنوں کی عصمتیں لوٹی جا رہی ہیں، پر کوئی عزتوں کا رکھوالا نظر نہیں آتا، بچے تعلیم سے محروم، کھیل کود سے دور، مگر کوئی دست گیری کرنے والا نہیں۔ آج اپنے آپ کو امن کا ٹھیکیدار سمجھنے والی عالمی قوتیں بے حسی کا نمونہ بنی نظر آتی ہیں۔ اگر پوری دنیا یونہی سکوت میں رہی تو پھر اللہ تعالی کی لاٹھی بے آواز ہے، جب قدرت کا انتقام حرکت میں آتا ہے تو پھر کوئی جائے پناہ نظر نہیں آتی۔

تاریخ شاہد ہے جب بھی کبھی دنیا نے ظلم پر سکوت کو ترجیح دی تو اس وقت اللہ عز و جل کے ابابیل آئے ہیں، ظلم کے آگے سر خم تسلیم کردینے والا بھی ظالم ہے۔
“ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے”
“خون تو پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائیگا”

وہ کشمیر جس پر گزشتہ 8 مہینے سے سخت ترین کرفیو پر سوائے چند اسلامی ممالک کے پوری دنیا خاموش تھی، آج انہیں اپنے شہروں میں لاک ڈاون کرنا پڑ رہا ہے، ان کے قصبے، دیہات تک سیل کئے جا رہے ہیں، وہی ظلم جو بھارتی فوج کشمیریوں پر ڈھا رہی تھی وہ اب امریکہ، برطانیہ سمیت یورپی ممالک کو قدرت کے انتقام کے زیراثر اپنے شہریوں پر لاگو کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے باوجود وہاں لوگ مر رہے ہیں، دنیا بھر کے 199 ممالک میں 24 ہزار سے زائد افراد مر چکے ہیں جبکہ صرف امریکہ میں 85 ہزار سے زائد متاثر ہیں۔ اس وقت قدرت کے عتاب کے زیر اثر بھارت بھر میں لاک ڈاون کی کیفیت ہے۔ کشمیریوں کا اقوام عالم کے نام یہی پیغام ہے کہ ظلم کا اگر مزید ساتھ دیتے رہے تو قدرت کے مزید عتابوں کا شکار ہو جاو گے۔ کرونا وائرس کے بعد ہانٹا وائرس بھی شاید ابھی تیاری پکڑنے کی فکر میں ہے۔

اس میں حکومت پاکستان کو بھی سبق سیکھنے کی ضرورت ہے، اگر عالمی قوتوں نے “مسئلہ کشمیر” حل کرانا ہوتا تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے، نہ جانے کیوں ہماری حکومت ایٹمی طاقت کے باوجود بے بسی کی تصویر بنی نظر آتی ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیئے کہ کشمیر آزاد کرانے کوئی نہیں آئے گا، یہ کام ہمیں بحثیت عظیم قوم اپنے ہی زورِ بازو سے سرانجام دینا ہو گا۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.