لاک ڈاون بور ہوئے بغیر گزارنے کا طریقہ

1,262

میں حیرت سے بھٹی صاحب کی طرف دیکھ رہا تھا، مجھے ان کے الفاظ پر یقین نہیں آرہا تھا، اس لیے ان سے اختلاف کی جرات کر بیٹھا، یہ کیسے ہوسکتا ہے سر کہ ایک بندہ پورے ہفتے کام کرے اور چھٹی والے دن بھی آفس آ جائے ، ہاں بیٹا ایسا ہی ہوتا ہے مجھے کام کی عادت پڑ گئی ہے اور اب چھٹی والے دن بھی مجھ سے رہا نہیں جاتا اور میں گھر میں بور ہوجاتا ہوں، بوریت کو دور کرنے کے لیے میں آفس آجاتا ہوں انہوں نے مسکراتے ہوئے جوا ب دیا۔ ٹھیک ہے سر ایسا ہی ہوتا ہوگا، مجھے یقین تو نہ آیا مگر بات کو ختم کرنے کے لیے یہ کہتے ہوئے ان کے آفس سے نکل آیا۔

یہ آج سے 18 سال پہلے کی بات ہے، میں ان دنوں مسلم کمرشل بینک میں انٹرنشپ کررہا تھا اور بھٹی صاحب میرے سیکنڈ مینجر تھے۔ پھر ماہ و سال گزرتے چلے گئے، لاک ڈاون نے مجھے بھٹی صاحب کی یاد دلا دی، پہلی بار بھٹی صاحب کی بات درست معلوم ہوئی، یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم پاکستانیوں کو مصروف رہنے کی عادت پڑ گئی ہے، عام دنوں میں دنیاوی کاروبار میں مشغول رہتے ہوئے ہم لوگ چھٹی کو ترستے ہیں اور چھٹی والا دن ہم کسی پارک یا ہوٹل کو دے دیتے ہیں۔

لیکن آج کرونا وائرس کی بدولت ہم جس موڑ پر آچکے ہیں ہمیں پاکستان کی، اپنوں کی اور اپنے آپ کی خاطر ہمیں خود کو اپنے گھر تک محدود کرنا ہو گا، اپنا سو فیصد وقت اپنی ذات کو، اپنے اہل خانہ کو دینا ہو گا، بصورت دیگر “جو ہوگا وہ کسی سے نہیں دیکھا جائے گا”۔

لیکن غور طلب امر یہ ہے کہ ہم گھر میں کیسے وقت گزاریں اور وہ بھی سارا وقت گھر میں، یہ بظاہر تو بڑی مشکل بات ہے لیکن ہم اگر اپنے گھر کو حرم بنا دیں یعنی جیسے آپ اگر عمرہ پر جائیں تو جو روٹین وہاں پر ہوتی ہے اسکو اگر معمولی تبدیلی کے ساتھ اپنا لیں یا پھر اللہ کے ان نیک بندوں جن کا نام لیتے وقت ہم رحمتہ اللہ علیہ کہنا نہیں بھولتے، جن کے قدموں کی خاک کو ترستے ہیں کا طرز زندگی اپنا لیں تو انتہائی آسانی کے ساتھ گھر پر وقت گزار سکتے ہیں، مگر کیسے آئیے جائزہ لیتے ہیں۔

آپ جب عمرہ پر جاتے ہیں تو عموما صبح فجر سے ایک سے دو گھنٹے قبل جاگتے ہیں، ایسے ہی جاگ جائیں، غسل اور وضو کے بعد بچنے والے وقت کو تین حصوں میں تقسیم کریں یعنی اگر آذان فجر میں ایک گھنٹہ باقی ہے تو 20 منٹ نوافل، 20 منٹ قران پاک کی تلاوت اور 20 منٹ دعا میں صرف کریں۔ نماز فجر کے بعد اشراق تک کا وقت گھر والوں کے ساتھ کسی حدیث کی کتاب کی تعلیم میں صرف کریں۔ اشراق کی نماز ادا کریں (اشراق کی نماز پر ایک مقبول حج کا اجر ملتا ہے)۔ ناشتہ کے بعد تین سے چار گھنٹے آرام کریں۔ ظہر سے قبل اٹھ جائیں اور جو وقت بچ جائے اس میں کو اہل خانہ کے ساتھ اسلامی معلومات کا تذکرہ کرنے میں خرچ کریں یا ظہر کی تیاری کریں، ظہر کے بعد لنچ کریں اور کسی بھی حدیث کی کتب سے چند ایک واقعات کو پڑھیں یا پڑھ کر اہل خانہ کو سنائیں۔اور پھر قیلولہ فرمائیں۔عصر کی اذان سے قبل اٹھ جائیں ، نماز عصر کے بعد مغرب تک ذکر ، دعا میں مشغول رہیں، (جیسے کم ازکم 200 بار درود شریف، استغفار اور تیسر ا کلمہ یا دیگر اذکار ، قران پاک کی تلاوت) ایک بار درود شریف پڑھنے پر دس نیکیاں ملتی ہیں، دس گناہ معاف، دس درجے بلند اور دس عربی غلام آزاد کرنے کا اجر ملتا ہے، ایک عربی غلام کی قیمت 12ہزار درہم، دس کی 120000 درہم اور پہلے دور کا درہم جو چاندی کا سکہ ہوتا تھا، ایگ گرم چاندی کی قیمت 10 درہم اس حساب ایک بار دورشریف پڑھنے پر باقی اجر کے علاوہ پونے پانچ کروڑ روپیہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا اجر ملتا ہے۔

مغرب کے بعد قران پاک کی خاص خاص سورتوں کی تلاوت جیسے مغرب کے بعد سورۃ سجدہ جو پارہ نمبر 21 میں ہے اور سورۃ ملک کو ملا کر پڑھیں تو شب قدر کا اجر ملتا ہے، اگر آپ ہر روز سورۃ رحمن ، سورۃ واقعہ اور سورۃحدید پڑھتے ہیں تو آپ کا نام جنت الفردوس کے رہنے والوں میں پکارا جاتا ہے۔ ایسے ہی دیگر صورتوں کے فضائل ہیں۔ عشا کی نماز سے قبل رات کے کھانے سے فراغت حاصل کریں اور عشا کی نماز ادا کرتے ہی سو جائیں، تا کہ آپ تہجد میں باآسانی اٹھ سکیں۔

مندرجہ بالا روٹین پر عمل کرنے میں پہلے دو سے تین دن مشکل ہو گی، (کیونکہ دل پر لگا زنگ اترنے میں وقت تو لگے گا) لیکن اس کے بعد آپکو وہ لذت آئے گی کہ آپ اسکو کرونا کے بعد والے دنوں میں بھی اپنائیں گے۔

اور ایک آخری گزارش آپ کا دل چاہے نہ چاہے اس روٹین پر ایک بار ضرور عمل کر کے دیکھیں، چاہے اپنی سہولت سے کچھ تبدیلیوں کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو، یا کم ازکم جیسے بھی ہو، گھر پر ضرور رکیں، اسی میں آپکی، میری اور ہمارے اہل خانہ کی اور پاکستان کی بقا ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

محمد عمران چوہدری کامرس گریجوئیٹ ہونے کے ساتھ ، کمپیوٹر سائنسز ،ای ایچ ایس سرٹیفیکٹس اور سیفٹی آفیسر ڈپلومہ ہولڈر ہیں۔ مختلف میڈیا گروپس میں بلاگز لکھتے ہیں، فی الوقت ایک ملٹی سکلڈ پروفیشنل ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.