زینب الرٹ بل سے خامیاں‌ دور کی جائیں

532

ہمارے ملک میں میں زیادتی یا زنا باالجبر کے واقعات میں ایک محتاط اندازے کے مطابق روز بروز اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، اعداد و شمار سے پتہ چلا کہ ایسے جرائم میں‌ سے دس فیصد بھی رپورٹ نہیں ہوتے۔ چھوٹے شہروں اور قصبوں میں ان واقعات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ قانونی عمل تک آسان رسائی نہ ہونے اور معاشرتی دباؤ کے سبب متاثرین کی اکثریت شکایت ہی نہیں کرتی، خصوصا لڑکیوں‌ کو بدنامی کے ڈر سے خاموش کروا دیا جاتا ہے. آئے دن معصوم بچوں سے زیادتی کے واقعات جنہیں میڈیا چیخ چیخ کر بتاتا ہے مگر ہماری بے حسی برقرار ہے۔ ہم جیسی بے حس قوم کے لئے جس طرح دوسرے معاملات بے معنی ہیں اسی طرح زیادتی جیسے سنگین مسائل بھی ہمارے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ بحیثیت قوم ہم اندھی، بہری اور گونگی قوم ہیں جو بڑے سے بڑا واقعہ ہونے پر بھی چپ رہتے ہیں۔ کوئی جل کر مر جائے، کسی پر سرعام تشدد کیا جا رہا ہو یا کسی ننھے بچے کو کتے نے کاٹ لیا ہو، موبائل سے ویڈیو بنا کر وائرل کرنا تو ہم اپنا فریضہ سمجھتے ہیں۔ اگر کسی کی ویڈیو وائرل ہو جائے تو اسے دیکھنا بھی ہمارے اولین فرائض میں شامل ہے لیکن عمل صفر ہے۔س

پچھلے کچھ عرصے سے زینب اور دیگر متاثرہ بچیوں کو انصاف دلانے کیلئے بات ہو رہی تھی۔ سوشل میڈیا ،عدالتیں اور پھر قومی اسمبلی میں بحث جاری رہی کہ آیا ان سنگین وارداتوں میں ملوث درندوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ حیرت کی بات ہے کہ بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے زنا بالجبر جیسے گھناونے جرم پر بھی پھانسی کی سزا کی قومی اسمبلی میں مخالفت کی گئی۔ کیا اسلام میں پھانسی کی سزا نہیں، اگر ہے تو کیا ہم نے خدا تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کی۔ ان سیاسی جماعتوں کے رہنماوں سے یہ سوال بھی ہے کہ قوم کے بچوں کو تحفظ نہیں دینا چاہتے تو اپنے بچوں کے بارے میں ہی سوچ لیتے۔ ضروری ہے کہ پھانسی کی سزا بحال کر کے اس قانون میں‌ خامی دور کی جائے۔س

بہر طور زینب الرٹ بل ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ جو قوانین پہلے سے بنے ہیں ان پر ہی عملدرآمد بھی کیا جائے۔ زینب قتل کیس کے مجرم کو مختصر عدالتی کارروائی کے بعد چار بار سزائے موت، ایک بار عمر قید اور سات برس قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ لیکن یہ سب تب ممکن ہوا جب زینب کے چچا نے ہمت دکھاتے ہوئے نہ صرف کیس درج کروایا بلکہ پولیس کارروائی کا پیچھا بھی کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کرتے ہوئے پورے پاکستان بھر کے عوام کو اس قابل نفرت جرم کیخلاف اپنے ساتھ ملایا جس کے سبب ان کی آواز سپریم کورٹ تک پہنچی اور پھر آرمی چیف نے بھی اس معاملے میں دلچسپی لی جس پر یہ کیس انجام کو پہنچا اور مجرم کو سزا ہوئی، ورنہ اس سے پہلے اسی علاقے میں 8 مزید بچیوں کے ساتھ زیادتی کی گئی تھی لیکن ان کے اہلخانہ کو انصاف نہیں ملا۔

اس کے ساتھ ہی زنا باالجبر کی بڑی وجوہات کو بھی ختم کیا جانا چاہئے. سوشل میڈیا کی شکل میں ان دنوں‌ بے حیائی کا طوفان بچے بچے کے ہاتھ میں ہے ایسی ویب سائٹس بلاک کی جانی چاہئیں۔ یہ ویڈیوز بچوں کو نہ صرف عمر سے پہلے بالغ کر دیتے ہیں بلکہ ان کو جنسی بے راہ روی میں مبتلا کر دیتے ہیں، یوں یہی بچے جب جوانی کی عمر کو پہنچتے ہیں تو زنا باالجبر جیسے گھناونے عمل میں ملوث ہو کر چھوٹے بچوں‌ کا شکار کرتے ہیں۔ ان ویب سائٹس کو بلاک کرنا بھی اس قانون کا حصہ بننا چاہئے، ورنہ اس بل سے جو حقیقی فائدہ معاشرے کو پہنچنا چاہیے وہ ممکن نہیں‌ ہو سکے گا۔س

زینب الرٹ بل تو پاس ہو چکا مگر اس کے ذریعے درندہ صفت بھیڑیوں کو پھانسی پر نہیں لٹکایا جا سکے گا۔ اس حوالے سے ترمیم کی اشد ضرورت ہے، اس میں پھانسی کی سزا بھی شامل ہونی چاہئے۔ قتل کا بدلہ قتل ہے لیکن جو قتل بہیمانہ طریقے سے کیا گیا ہو۔ پھول سے بچوں کو اجتماعی زیادتی کا شکار کر کے معاشرے میں جینے کا حق چھین لیا جاتا ہو۔ ماں‌ باپ اور بہن بھائیوں‌ پر ہمیشہ کی جدائی کا پہاڑ توڑا گیا ہو، ایسے درندہ صفت بھیڑیوں کے لئے ایک تو کیا 100 پھانسیوں کی سزا بھی کم ہے۔ اگر ایک دو کو فوری پھانسی لگا دی جائے اور ساتھ ہی ڈارک ویب کو لگام ڈالی جائے تو تب ہی ہماری بچیاں آزادی کے ساتھ اس ماحول میں پروان چڑھ سکیں گی اور ان کے ماں باپ کے سر سے خوف کی تلوار ہٹ پائے گی۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

صائمہ واحد تاریخ سے دلچسپی رکھنے کے علاوہ خواتین سے متعلق معاشرتی مسائل پر قلم آزمائی کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.