کرونا کیخلاف کچھ اقدامات ابھی باقی ہیں

538

موسمی تبدیلی کی وجہ سے ان دنوں اکثر لوگ نزلہ، زکام اور کھانسی ک شکار ہیں جبکہ دوسری طرف کرونا وائرس کی افواہوں نے ایک عجیب نفسیاتی کشمکش میں مبتلا کیا ہوا ہے، جب بھی کوئی کھانستا ہے، اردگرد موجود لوگ عجیب سی نظر سے گھورنے لگ جاتے ہیں، اور پھر دل ہی دل میں کہتے ہیں کہ “فاصلہ رکھیں، ورنہ ایکسیڈنٹ (کرونا) ہو جائیگا”.س

چین پوری دنیا کو اشیائے ضروریہ مہیا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اس لحاظ سے دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ تعلقات اور عوامی رابطے بھی دیگر ممالک کی نسبت زیادہ ہیں. چین کے شہر ووہان میں کرونا وائرس کی نشاندہی کے بعد اگرچہ چین نے فوری طور پر حفاظتی اقدامات کیے لیکن اس کے باوجود وائرس کی وبا سے ہزاروں لوگ متاثر ہو چکے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے خطے کے دیگر ممالک تک یہ وبا بہت جلد پھیل گئی. اسوقت امریکہ جیسی سپرپاور جو اس وائرس کی وجہ سے چین کا مذاق اڑا رہا تھا، خود اس کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ چند روز قبل صدر ٹرمپ نے کرونا کو چینی وائرس کہا تو چین نے ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا بھئی! ذرا اپنے گھر کی خبر لیجئے۔ چین نے درست ہی کہا تھا، اطلاعات کے مطابق کرونا وائرس نے امریکہ کی بھی تمام ریاستوں کو لپیٹ میں لے لیا ہے اور وہاں بھی 150 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں، مریض تو ایک اندازے کے مطابق 5 ہزار سے بھی بڑھ چکے ہیں۔

پاکستان میں بھی کرونا سے 2 افراد جاں بحق ہوئے، احتیاتی تدابیر اور اقدامات کے حوالے سے شروع میں حکومت سندھ زیادہ متحرک جبکہ دیگر صوبے کافی حد تک لاپرواہی کے مرتکب نظر آئے. لیکن اب اچانک وفاق سمیت ساری حکومتی مشینری حرکت میں آئی اور تعلیمی اداروں کی بندش اور امتحانات کے التوا کے نوٹیفکیشن جاری ہو گئے. کراچی میں رہنے والے ایک دوست سے بات ہوئی تو کہنے لگے کہ سکولز تو بند ہوگئے ہیں، لیکن شادی ہال، پارکس اور با زاروں میں بچوں اور بڑوں کا اک جم غفیر ہر وقت موجود رہتا ہے جس سے لگتا ہے کہ شاید صرف سکولوں کی بندش سے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوسکیں گے. اب حکومت سندھ نے مالز اور پارکس سمیت تفریحی مقامات کو بند کروانے کی سعی کرتی نظر آ رہی ہے۔ اگر حکومت کے پاس اعداد و شمار ہی نہیں تو پاکستان میں کرونا وائرس کا مسئلہ واقعی سنگین ہے۔ لیکن اس ساری صورتحال میں ہمارا ملک جو کہ پہلے ہی معاشی بدحالی کا شکار ہے، مزید بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ طلبہ و طالبات کی تعلیمی عمل بھی متاثر ہو رہا ہے جس کے لئے متبادل انتظام کی ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت نے ویڈیو لیکچرز کا کہا تو ہے لیکن اس پر کتنا عملدرآمد ہوتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

حکومتی اقدامات ابھی ناکافی ہیں، انتظامات گنتی کے چند شہروں تک محدود کر کے حکام بالا سمجھ رہے ہیں کہ ملک کرونا سے محفوظ ہو گیا۔ کرونا نے صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنا، دیہات اور چھوٹے شہروں تک بھی اس وبا کے پہنچنے کے خطرات زیادہ ہیں کیونکہ ملک کی زیادہ آبادی چھوٹے شہروں میں رہتی ہے۔ وہاں کرونا کے خلاف مضبوط نیٹ ورک موجود نہیں۔ دوسری جانب سوشل میڈیا کی ہر جگہ دستیابی کی وجہ سے عوام میں مزید خوف و ہراس پھیلنے کا اندیشہ برقرار ہے. بڑے شہروں میں تمام تر سرکاری اور روزمرہ امور کو مکمل بند کرنے کی بجائے متبادل طریقہ کار کے ذریعے معمولات چلانے کی منصوبہ بندی کی جائے اور عوام کو بروقت راہنمائی کے ساتھ ساتھ سہولیات کی پورے ملک میں فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

حکومت فوری طور پر ایسے فیصلے کر سکتی ہے جس سے عوام کا اعتماد بحال ہو اور وہ نفسیاتی طور پر اس صورتحال سے نبردآزما ہونے کے قابل ہو سکیں، مثال کے طور پر وزیراعظم پاکستانی قوم سے خطاب میں کچھ اس قسم کے اقدامات کا اعلان ضرور کرتے جس سے افراتفری کی کیفیت ختم ہونے میں مدد ملتی۔ ورچول یون یورسٹی، نیشنل ونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیک الوجی اور دیگر حکومتی اداروں کے ماہرین اگلے کچھ دنوں میں بچوں کی تعلیم کو آن لائن جاری رکھنے اور ان کے امتحانات کے لئے آن لائن طریقہ کار وضع کر کے والدین کو بھی آگاہی فراہم کرتے۔

ریسکیو 1122 کی سروس کو فوری طور پر پورے ملک میں پھیلا دیا جائے تاکہ عوام کسی بھی میڈیکل ایمرجنسی کی صورت میں نہ صرف رابطہ کریں بلکہ ہسپتالوں میں فراہم کردہ انتظامات، حکومت کے فراہم کردہ رہنمائی و سہولت سینٹر سے استفادہ حاصل کریں۔

صحت انصاف کارڈ کا دائرہ کار تمام لوئر مڈل کلاس تک بڑھا دیا جائے کیونکہ مہنگائی کے اس دور میں ان کا عمومی گزارہ انتہائی مشکل ہو گیا ہے، میڈیکل اخراجات وہ کیسے برداشت کر سکیں گے، نہیں کریں گے تو کرونا پھیلانے کا سبب بنیں گے۔

جو صاحب ثروت افراد اس صورتحال میں حکومت کو اپنی سروس کے ذریعے مدد فراہم کرنا چاہتے ہیں، ان سے رابطہ کر کے حکام مناسب میکانزم تشکیل دیں،واضح رہے کہ موجودہ صورتحال پر عوام کے ساتھ مل کر ہی قابو پایا جا سکتا ہے۔

ملک کے تمام چھوٹے بڑے ہسپتالوں اور یونٹس میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ اور دیگ سہولیات کی مفت دستیابی کو یقینی بنایا گیا ہے، پرائیوٹ ہسپتالوں اور کلینکس کو بھی اس دائرے میں شامل ہونے کی ترغیب دی جائے تاکہ ملک میں آبادی کے تناسب سے ہسپتالوں کی جو شدید کمی پائی جاتی ہے کسی سطح پر تو پوری ہو سکے۔

حفاظتی اقدامات کے طور پر ماسک، سینی ٹائزرز اور دیگر فوری ضرورت کی حامل ادویات نادرا کے ریکارڈ کے مطابق ہر گھرانے کے سربراہ کے نام پر فراہم کر دی جائیں۔

افواہوں کی روک تھام او درست معلومات تک رسائی کے لئے حکومت خصوصی ویب سائٹ یا سوشل میڈیا پورٹل ترتیب دے جس سے شہری 100 فیصد اعتماد کے ساتھ استفادہ کر سکیں۔

کرونا وائرس عالمی کے بعد قومی بحران میں تبدیل ہو گیا ہے، اس سے لڑنے کیلئے ہر شہری کو سپاہی کا کردار نبھانا ہو گا تبھی ہم انسانیت کے اس دشمن کو شکست دے سکیں گے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.