اوڑھ لے گر مسلمان بیٹی حجاب

1,269

چٹاخ….چٹاخ…
تیسرا تھپڑ کھاتے ہی وہ حیرت کا بت بنی، درد کی تاب نہ لاتے ہوئے لڑکھڑائی اور زمین پر ڈھیر ہوگئی۔

درد گال سے زیادہ دل میں ہوا تھا، تھپڑ کی آواز سناٹے میں اس قدر گونج دار تھی کہ مہمانوں سے بھرا گھر اس کے کمرے میں جمع ہو جاتا لیکن پچھلے دنوں کی تھکن کے باعث سب ہی گہری نیند سوئے ہوئے تھے اور وہ ایک دن کی دلہن صدمے سے گنگ، یک ٹک اسے تکے جا رہی تھی۔

مائرہ کا تعلق ایسے گھرانے سے تھا جہاں پردے کے متعلق لوگوں کا خیال تھا کہ “انسان کا دل صاف ہو اور آنکھوں میں حیا ہو، کیونکہ چہرہ چھپا لینے سے پردہ مکمل نہیں ہوتا۔

اسی خیال کے تحت مائرہ بھی پروان چڑھی تھی. اسی بات پہ اکثر مائرہ کی اپنی دوستوں سے بحث بھی ہوجاتی تھی جس میں ثناء، طوبیٰ اور علی ایک طرف جبکہ مائرہ اور فواد مقابلے پر ہوا کرتے تھے. ثناء کی ان چاروں کے ساتھ دوستی کافی پرانی تھی، مائرہ اور فواد کی آپس میں پسندیدگی سے بھی سب ہی واقف تھے.س

کالج ختم ہوتے ہی مائرہ اور فواد کی منگنی ہو گئی اور منگنی ہوتے ہی ملاقاتوں اور ڈنر کے ساتھ تحفے تحائف کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ ابتداء میں ثناء اور طوبیٰ نے مائرہ کو جبکہ علی نے فواد کو سمجھانے کی کوشش بھی کی کہ ابھی تم دونوں نا محرم ہو، لیکن کہتے ہیں نا، کبھی کبھی جو باتیں سمجھانے سے سمجھ نہیں آتیں وہ ٹھوکر لگنے سے سمجھ آتی ہیں.س

منگنی کو دو سال ہوئۓ تو شادی کا ہنگامہ جاگ اٹھا اور آج شادی کے بعد پہلا دن تھا جب فواد نے مائرہ کے گال پر تھپڑوں کی بارش کر دی تھی۔ وہ بھی اس بات پر کہ شادی کے اگلے روزناشتہ لانے والے کزنز سے ہنس ہنس کر کیوں باتیں کر رہی تھی۔

فواد کا چیخ چیخ کر بولتا لہجہ مائرہ کو خوف اور بے یقینی میں مبتلا کر رہا تھا، “میں پوچھتا ہوں بتاؤ کس کس کے ساتھ دوستی جوڑ رکھی ہے، پچھلے دو سالوں سے میرے ساتھ گھوم پھر رہی تھیں تو اور کس کس کے ساتھ گھومتی پھرتی ہو گی۔ بتاؤ ورنہ جان لے لوں گا میں تمہاری۔ میرے سامنے جب تم اپنے گھٹیا کزنز سے ہنس ہنس کے بات کر سکتی ہو تو میری غیر موجودگی میں کیا کچھ نہیں کرتی ہو گی…”س

آج مائرہ کو ثناء اور طوبیٰ کی سمجھائی ہوئی باتیں یاد آ رہی تھیں، “پردہ نظر کا ہوتا ہے اسی سوچ نے آدھی انسانیت کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے”۔

“یہ جو آزادی اور خود مختاری کا راگ الاپتے ہیں ناں مائرہ، یہی مرد عورتوں کو اپنے گھر کی عزت نہیں بلکہ پاؤں کی جوتی سمجھتے ہیں.”س

“فواد ایسا نہیں ہے.” کسی بات کے جواب میں مائرہ نے کہا تھا. “عورت کی عزت اس کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے، قیمتی چیزیں سات پردوں میں ہی اچھی لگتی ہیں”۔ سب آوازیں اور چہرے آپس میں گڈ مڈ ہو رہے تھے، آنسوؤں کے بیچ دھندلا رہے تھے۔

اب اسے گزرے ماہ و سال میں کی گئی غلطیوں کا ازالہ کرنا تھا، اسے آج سمجھ آیا تھا کہ اسلام نے جو حدود مقرر کی ہیں وہ کیوں کی ہیں۔ آج اسے پردے کا مفہوم سمجھ آیا تھا. دیر تو ہوئی تھی لیکن وقت ہاتھ سے نکلا نہیں تھا، آج اسے بہر حال سمجھ آ ہی گیا تھا کہ
پھر رہی ہے حوَس کی بلا بے نقاب
اوڑھ لے ہر مسلمان بیٹی حجاب
بے حیائی سے بچنے کی تدبیر ہے
ہو نمائش سے محفوظ حسن و شباب
اوڑھ لے گر مسلمان بیٹی حجاب

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. علی کہتے ہیں

    ماشاءاللہ

تبصرے بند ہیں.