مایوسیوں سے جان چھڑائیں، قابلِ رشک زندگی گزاریں

795

اگر آپ کتب بینی کے شوقین ہیں تو آپ نے یقیناً “فرانز کافکا” کا نام سن رکھا ہوگا، فرانز کافکا کے ایک مشہورِ زمانہ ناول کا نام ” دی ٹرائل” ہے جس میں موجود مرکزی کردار ایک دن سو کر اٹھتا ہے تو اُسے معلوم ہوتا ہے کہ اس پہ سرکار کی جانب سے مقدمہ قائم کردیا گیا ہے، مقدمہ کس الزام کے تحت قائم کیا گیا، کچھ معلوم نہیں۔

پورے ناول کی کہانی اسی مقدمے کے گرد گھومتی ہے کہ مرکزی کردار کو خود پہ لگے الزام کا ہی علم نہیں ہوتا، پھر بھی سالوں اس عدالتی نظام میں خوار ہوتے ہوئے گزار دیتا ہے اور پھر ایک روز اچانک سرکاری اہلکار اسے گھر سے اٹھا کر لیجاتے ہیں اور اسکے سینے میں خنجر گھونپ کر موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں.س

اس ناول کے بعد ایک ٹرم ” کافکا ایسک” مشہور ہوئی، یعنی ہر اُس نظام یا شخص کیلئے “کافکا ایسک” کا صیغہ استعمال کیا جانے لگا جہاں سرکاری اداروں اور بیوروکریسی یا کوئی بھی ایسا پیچیدہ نظام جس میں پھنسے شخص کو معلوم ہی نہ ہو کہ یہ کاغذی کارروائیاں کیوں کی جا رہی ہیں۔ ماسوائے وقت کے ضیاع کے ان کا کیا مقصد ہے؟ یا کسی شخص کو اپنی ذات کا مقصد و اہمیت ہی معلوم نہ ہو اور وہ بے سر و پا زندگی گزار دے۔ عوام کو درپیش سنگین مسئلے پر مشتمل اس ناول نے بہت زیادہ مقبولیت حاصل کی اور قارئین نے اسے خوب سراہا۔

دوسری جانب فرانز کافکا کی حقیقی زندگی پر نظر دوڑائیں تو وہ بھی بہت دلچسپ اور سبق آموز ہے، اس کا تمام ادبی ذخیرہ اس طرح کا ہے جس میں ایک شخص تمام عمر اپنی ہی پیدا کردہ کسی ایسی اُلجھن میں پھنسا ہوتا ہے جس کا اسے موت تک ادراک نہیں ہوتا اور وہ بے بسی کی آخری حد تک اسی اَن دیکھے پنجرے میں خود کو قید کئے رکھتا ہے۔

فرانز کافکا کا والد ہرمن کافکا حقیقت میں ایک کامیاب کاروباری شخصیت تھا جس نے اپنی محنت کے بل بوتے پہ کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے منفرد مقام حاصل کیا، اسکی خواہش تھی کہ اس کی اولاد بھی ایسی ہی جوانمرد اور سخت جان ہو جس پہ وہ فخر کر سکے، تاہم ناول نگار فرانز کافکا کی جب پیدائش ہوئی تو یہ بہت لاغر سا تھا، اسے دیکھتے ہی اسکے باپ کو سخت مایوسی ہوئی۔ فرانز کافکا رائٹر بننا چاہتا تھا مگر اسکے باپ نے اسے قانون دان بننے کا کہا لہٰذا لکھائی کو پیشہ بنانے کا ارادہ ترک کر کے فرانز کافکا نے لاء کالج میں داخلہ لے لیا۔

فرانز کافکا کا بچپن بھی اپنے باپ کی توجہ حاصل کرنے کی ناکام کوششوں میں ہی ضائع ہوا، اُس کا باپ اُسے سخت سزائیں دیتا جسے وہ چپ چاپ سہتا رہا۔ حد درجہ حقارت آمیز سلوک نے اسے نفسیاتی طور پر شکست خوردہ کر دیا، یہاں تک کہ اس نے یہ تسلیم کر لیا کہ اس کا باپ ٹھیک ہے اور اسکی ذات واقعی قابل نفرت ہے۔ اس کی شخصیت بری طرح مجروح ہو گئی جس نے اس کے مستقبل پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب کئے، اسی لیے فرانز کافکا نے ڈورا ڈیمنٹ (محبوبہ) جیسی وفادار اور محبت کرنے والی خاتون سے بھی شادی نہیں کی، بمشکل تین کتابیں چھپوانے کے بعد باقی سارا کام ادھورا چھوڑ دیا اور بسترِ مرگ پہ اپنے واحد دوست میکس براڈ کو تاکید کی کہ میری موت کے بعد میرے سارے لکھے کو جلا دینا، یہ اس قابل نہیں کہ کوئی اسے پڑھے۔

تاہم میکس براڈ وہ واحد شخص تھا جسے لگتا تھا کہ فرانز کافکا کا کام بہت معیاری ہے، اُسے اپنے منفی خول سے نکل کر اپنی لکھائی کو اہمیت دینی چاہیے۔ بہرحال طویل بیماری کے بعد اسی حالتِ مایوسی میں فرانز کافکا کی موت واقع ہو گئی، مرنے سے کچھ سال قبل بھی اس نے اپنے باپ کو ایک 46 صفحات پر مشتمل خط لکھا جس میں اپنی زندگی میں درپیش مشکلات اور تکالیف کا تفصیلی ذکر کیا کہ شاید اسی طرح اُسکے باپ کو رحم آجائے اور وہ اپنی اولاد کو تسلیم کرتے ہوئے محبت و تسلی کے دو بول ہی بول دے۔

فرانز کافکا کی موت کے بعد اُسکے دوست میکس براڈ نے اپنے دوست کی وصیت کو نظرانداز کرتے ہوئے اُسکے لکھے تمام کام کو یکجا کیا اور اسے چھپوانا شروع کر دیا، فرانز کافکا کی تین مشہور زمانہ کتابیں ” دی ٹرائل، دی کاسل، امیریکہ ” اسکی موت کے بعد چھپیں جنہیں بے پناہ مقبولیت ملی اور بعد از وفات فرانز کافکا کو بیسویں صدی کا نامور مصنف بنا گئیں۔

آپکو کیا لگتا ہے فرانز کافکا نے اپنی زندگی میں کہاں غلطی کی؟
میرے خیال میں اسکی سب سے پہلی اور بڑی غلطی یہ تھی کہ وہ ایک فلاسفر تو تھا مگر فلاسفی کی بنیاد ” پلاٹو” کو نہیں پڑھا تھا، اسی وجہ سے اس نے جو دوسری غلطی کی وہ وہی ہے جس کا آج ہم میں سے بھی بہت سے لوگ ارتکاب کرتے چلے جارہے ہیں۔

پہلی غلطی
پلاٹو نے کامیاب زندگی گزارنے کے جو چار اصول بتائے تھے اُن میں سے ایک اصول یہ تھا کہ “جو تم سے پیار کرتا ہے اُسے اپنی ذات پہ اتنا اختیار دو کہ وہ تمہاری ذات میں اپنی مرضی سے تبدیلی لا سکے”۔س

دوسری غلطی
فرانز کافکا خود کو ہمیشہ اپنے باپ کی نظروں سے ہی دیکھتا رہا لہٰذا اپنی ذات کو ہمیشہ کیڑے مکوڑے کیطرح ہی سمجھا، اپنے لکھے کام کو کچرا سمجھتے ہوئے اُس پہ اتنا شرمندہ رہا کہ اسے چھپوانے تک کا نہ سوچا۔س

اگر وہ خود کو اپنے مخلص دوست کی نظر سے دیکھتا تو اُسے معلوم ہوتا کہ وہ کتنا ٹیلنٹڈ انسان ہے۔ ٹھیک یہی غلطی ہم میں سے اکثر افراد ساری زندگی کرتے رہتے ہیں کہ ہم اپنی ذات کو اُنکی نظروں سے دیکھتے ہیں جو ہمیں پسند نہیں کرتے (ہم اُنہیں بہت پسند کرتے ہیں) اور پھر ساری زندگی خود میں وہی تبدیلیاں لانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں جن سے ہم کسی طرح اُنکی نظر میں قابلِ قبول ہو جائیں، اس سے ہماری اپنی ذات کی اہمیت ہمارے لیے بالکل ختم ہوجاتی ہے اور ہم “کافکا ایسک” کی ایک مورت بن جاتے ہیں۔

فرانز کافکا نے ساری عمر باپ کی نظر میں قابلِ قبول بننے میں گزار دی لہٰذا اُسے وہ لوگ دکھائی ہی نہ دیئے جنہیں وہ پرفیکٹ اور انتہائی قابل لکھاری لگتا تھا۔ چاہے وہ اس کا مخلص دوست میکس براڈ ہو یا اُسکے مشکل وقت کی ساتھی ڈورا ڈائمنٹ ہو، نتیجہ کیا نکلا؟ بے خوابی، فکر و اندیشہ، درد شقیقہ اور آخر کار ڈپریشن میں ڈوبی اذیت ناک موت!س

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ ناکام ہیں یا آپکی ذات حقیر ہے تو یقین جانیں آپ خود کو غلط لوگوں کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ کچھ دیر سکون کیجئے اور خود کو اُن رشتوں، دوستوں کی نگاہ سے دیکھنے کی کوشش کیجئے جو آپ سے محبت کرتے ہیں۔ یقین جانیں آپ کو اپنی ذات اور یہ زندگی خوبصورت بھی لگے گی اور آپ کا اس دنیا میں وقت بھی اچھا گزرے گا۔ اگر آپ خود کو اس مایوس سوچ سے نہیں نکال سکتے تو خود کو انکے حوالے کر کے دیکھیں جو آپ سے محبت کرتے ہیں پھر چاہے وہ آپ کے بہن بھائی ہوں، ماں باپ ہوں، شریکِ حیات ہو، اولاد ہو یا کوئی مخلص دوست…س

یقین جانیں آپ سے محبت کرنے والوں میں یہ سپر پاور موجود ہوتی ہے کہ وہ چن چن کر آپکی ذات سے ہر منفی شے کو باہر نکال پھینکیں آپکی ذات خوبصورت اور امیدوں سے بھرپور بنا دیں، آزمائش شرط ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.