کرونا کا خطرہ، آپ کیا کرسکتے ہیں؟

648

دنیا کے 110 سے زائد ممالک میں پھیلنے والے کرونا وائرس کو عالمی ادارہ صحت نے بین الاقوامی وبا قرار دے دیا۔ اس وقت دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 30 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ چین کے بعد کرونا وائرس کا اگلا شکار یورپ ہے۔ دسمبر کے آخر میں جب کرونا وائرس سے متعلق جونہی پڑھا سنا تو اس وقت بالکل بھی سنجیدہ نہیں لیا، لیکن اس کی سنگینی اس وقت واضح ہوئی جب ووہان شہر میں کچھ دوستوں سے بات ہوئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وائرس نے اگلے ہی ماہ جنوری میں چین کے دارالحکومت بیجنگ میں بھی حالات سنگین سے سنگین تر بنا دیئے۔

چین پاکستان کا ہمسایہ ملک اور قریبی دوست ہے۔ وائرس کی چین سے پاکستان منتقلی انتہائی آسان تھی بلکہ یوں کہہ لیں کہ پاکستان سب سے پہلا ہدف ہوسکتا تھا۔ اس تمام صورتحال میں پاکستانی حکومت نے کچھ پریس کانفرنسز کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ حتی کہ چین سے پاکستان کی پروازوں کا شیڈول تک نہیں سنبھالا گیا۔ اب جب بات حد سے گزر گئی ہے تو تعلیمی اداروں میں چھٹیاں اور اجتماعات پر پابندی لگانے کے احکامات سامنے آئے ہیں۔ حکومت تو حکومت ہمارے شہریوں نے بھی لطیفے، جگتیں لگانے اور ٹک ٹاک بنانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

اگر دنیا کو دیکھا جائے تو اس وقت چین نے وائرس پر اتنا قابو ضرور پا لیا ہے کہ وہ اس خطرناک وائرس کو پھیلنے سے روکنے میں کسی حد تک کامیاب ہوچکا ہے۔ ایسا صرف ایک ہی وجہ سے ہوا ہے اور وہ ہے حکومت اور عوام میں کمیونیکیشن اور اعتماد کی بحالی۔ چینی حکومت نے جیسے ہی کرونا وائرس کو خطرناک پایا انہوں نے صرف ایک حکم جاری کیا کہ بلاوجہ گھروں سے نہ نکلیں اور اس حکم کے چند گھنٹوں بعد سڑکیں بازار اور بڑے بڑے شاپنگ مال سب ویران پڑے تھے۔ بیجنگ سب وے میں روز لاکھوں لوگ سفر کرتے ہیں لیکن اس میں بھی اکا دکا مسافر نظر آئے۔ بسیں خالی اور تمام مارکیٹیں اور اسٹورز بند ہوگئے تھے اس کے علاوہ گورنمنٹ نے بھی بڑے بڑے شہروں کے داخلی اور خارجی راستے بند کر دئیے تھے۔ جو جہاں تھا وہ وہیں ہو کر رہ گیا۔ نئے سال کی چھٹیوں کے باعث عوام نے اپنی تمام تفریحی سرگرمیاں معطل کر دیں اور سب گھروں میں قید ہو کر رہ گئے۔

پاکستان میں کرونا وائرس کے مشتبہ کیسز کئی بار رپورٹ ہو چکے تھے اور پاکستان کرونا کی ہٹ لسٹ پر بھی تھا پھر بھی ہمارے ہاں کوئی خاص اقدامات نہ کیے گئے۔ حکومت ہلکی آنچ پر کھچڑی پکاتی رہی اور میڈیا نے آگ اتنی تیز کر دی کہ چین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے پاوں جلنے لگے۔ جو واپس آنا چاہ رہے تھے ان کا آنا مشکل ہو گیا اور جو وہاں موجود تھے ان کے اہل خانہ نے انکا وہاں رہنا مشکل کر دیا۔ پاکستان اور چین کی دوستی کے امیج کو بھی نقصان پہنچا کیوں کہ ہماری حکومت نے بغیر سوچے سمجھے فلائٹ آپریشن معطل کیا، پھر بحال کیا اور پھر معطل کر دیا۔ جو لوگ چین سے واپس آ رہے تھے حکومت ایئر پورٹ پر ان کا صرف بخار چیک کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہو گئی۔

اس دوران حالات کو سنبھالنے کے بجائے پردہ ڈالنے کی کوشش کی گئی، میڈیا بھی ٹھنڈا پڑ گیا لیکن وائرس تھا کہ دنیا میں پھیلتا چلا گیا۔ ایک طرف پوری دنیا میں ایمرجنسی کا سماں تھا اور دوسری طرف ہمارے ہاں کھیل کے میدان سجے تھے۔ میڈیا وائرس کو صرف بین الاقوامی وبا کے طور پر پیش کررہا تھا۔

آج جب ہم اس وائرس کا شکار ہوچکے ہیں تو کیا ہم اپنے بڑے شہروں کو بند کرسکتے ہیں؟ کیا ہم ان شہروں کو بند کر سکتے ہیں جہاں جہاں کیسز رپورٹ ہوئے ہیں؟ کیا ہم اپنے سینما، شاپنگ مالز، پارکس، عبادتگاہیں اور دوسری عوامی جگہیں بند کرسکتے ہیں؟ کیا ہمارے ادارے اتنی تیزی اور دلجمعی سے کام کرسکتے ہیں جیسے چین میں کیا گیا؟ کیا ہم دس دن تو دور دس ماہ میں بھی ہسپتال بنا سکتے ہیں؟ ان تمام سوالوں کا جواب یقینا نفی میں ہی ہوگا۔

لیکن ایک سوال ہے جس کا جواب ہم شاید مثبت دے سکتے ہیں اور وہ ہے اس وائرس کو سنجیدگی سے لینا۔ جہاں ساری دنیا کرونا سے لڑ رہی ہے وہاں اس وبا پر صرف مذاق کررہے ہیں۔ اب ہمیں سنجیدہ ہونا ہوگا اور اس وائرس سے لڑنے کیلئے خود اقدامات کرنے ہوں گے۔

ہمیں دنیا کی طرح اپنی معاشی و معاشرتی سرگرمیاں محدود کرنی ہوں گی، ثقافتی، سماجی، مذہبی اور کاروباری اجتماع منسوخ یا ملتوی کرنے ہوں گے۔ حکومت سے پہلے عام آدمی کو ذمہ داری محسوس کرنی ہو گی اور اہل خانہ کی صحت کیلئے سنجیدہ ہونا ہوگا۔ دوسروں سے ملتے وقت احتیاط برتنی ہوگی اور ساتھ ساتھ نزلہ زکام ہونے پر جلد از جلد ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہوگا۔ سب سے ضروری یہ کہ حکیموں، نیم حکیموں، گھریلو معالجوں، مذہبی طبقے اور طرح طرح کے دم درود والوں اور دوسرے تمام ایسے ٹوٹکوں سے بچنا ہوگا۔

کرونا وائرس سے بچاو کیلئے آج فیصلہ کرلیں کہ گھروں سے غیرضروی نکلنے سے پرہیز کریں گے۔ گھر سے باہر موجود لوگوں سے ایک مخصوص فاصلہ رکھ کر ملیں گے اور ہاتھ ملانے یا بغل گیر ہونے سے پرہیز کریں گے۔ گھر واپس آتے ہی سب سے پہلے ہاتھ دھوئیں گے۔ کرونا وائرس سے بچاو کی اس جنگ میں جہاں حکومت نے کچھ خاص نہیں کیا توہم نے خود بھی تاحال کچھ نہیں کیا، اب وقت ہے خود قدم اٹھانے کا کیوں کہ ہمارے تعاون کے بغیر حکومت بھی کچھ نہیں کر سکتی۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

ہائر ایجوکیشن کیلئے چائنہ میں مقیم ہیں ۔ حالات حاضرہ پر بحث،صحافت اور سیروسیاحت کے شوقین ہیں۔ پاکستان کے بڑے صحافتی اداروں میں بطور صحافی فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.