نازک معاشی صورتحال فوری اصلاحات کی متقاضی

759

تاریخ کے اوراق اس بات کے گواہ ہیں کہ بڑی بڑی سلطنتیں بیمار معاشی نظام کی بدولت صفحہ ہستی سے مٹ گئیں- فرانس کی بادشاہت ہو، روس کے زار ہو یا متحدہ ہندوستان کی مغلیہ سلطنت ہو۔ جب وہ اپنی عوام کو روزگار، انصاف، معاشی مساوات اور مہنگائی سے نجات نہ دے سکے تو عوام نے تنگ آ کر ان کی سلطنتوں کا خاتمہ کر دیا۔

کسی ملک کی تعیمر میں معیشت کو بنیادی اور مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ایک مضبوط معاشی نظام کسی بھی ملک کے استحکام کیلئے ضروری ہے۔ موجودہ دور میں پاکستان کا معاشی نظام مخدوش صورتحال سے نبرد آزما ہے۔ پچھلی حکومتوں کی کرپشن اور مافیا کلچر کی وجہ سے ملک تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ مہنگاِئی میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے جس کے سبب عوام کی قوت خرید روز بروز دم توڑ رہی ہے۔ حکومتی ادارے مافیا اور منا فع خوروں کے سا منے بے بس اور مجبور ہیں۔ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ ان حالات میں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فوری طور پر انقلابی اقدامات اٹھاَئے۔

پاکستان کا ٹیکس نظام فرسودہ اور نا کارہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں جدید اصولوں سے ہم آہنگ مربوط اور منظم ٹیکس نظام تشکیل دیا جائے۔ ملک میں چالیس لاکھ تاجر مختلف تنظیموں سے رجسٹرڈ ہیں جن میں صرف تین لاکھ تاجر ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ یہ شرح ہمسایہ ممالک کے مقابلے بہت کم ہے۔ پاکستان میں صرف 0.57 فیصد یعنی لگ بھگ 21 کروڑ میں سے صرف 7 لاکھ 68 ہزار لوگ انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں جو آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ یعنی صرف 1 فیصد پاکستانی ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ جبکہ ہندوستان میں یہ شرح 4 فیصد، ملایشیا میں 8 فیصد، نیپال میں 5 فیصد اور ویتنام میں 8 فیصد ہے۔ زمینوں پر کوئی ٹیکس نہیں صرف خرید و فروخت اور پیداوار پر مختلف ٹیکس لاگو ہیں جس سے براہِ راست صارفین متاثر ہوتے ہیں۔ جبکہ زمین کے مالکان پر زمین کی ملکیت کا کوئی ٹیکس نہیں جس کی وجہ سے ان کا جاگیردارانہ رعب داب اور شان و شوکت قائم رہتی ہے اور اسی عنصر کی وجہ سے آج بھی پاکستان میں جاگیردارانہ نظام اسی شان وشوکت سے قائم دائم ہے۔ اور یہی جاگیردار اسمبلیوں اور پالیسی ساز اداروں پر مسلط ہیں۔

پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال تقاضا کرتی ہے کہ حکومت اس شعبے کو بھی ٹیکس کے دائرہ کار میں لائے اور جاگیرداروں کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ اپنی جاگیروں پر عائد ٹیکس بروقت ادا کریں۔ اس سے ٹیکسوں کے حجم میں تیس سے چالیس فیصد تک اضافہ ممکن ہیں۔

حالیہ معاشی ابتری کے سبب عوام کی قوت خرید میں کمی آئی ہے کیونکہ شرح سود میں اضافے کی وجہ سے عوام مہنگائی کی دلدل میں پھنس گئے ہیں۔ پاکستان میں حالیہ سود کی شرح 13.25 ہے جس کی وجہ سے اکنامک گروتھ میں کمی آئی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ شرح سود میں کمی کی جاتی، اس وقت پاکستان میں سود کی شرح تمام علاقائی ممالک سے زیادہ ہے۔ انڈیا میں یہ شرح 5.15 فیصد چین میں 4.35، سری لنکا میں 8 فیصد جبکہ ملائشیا میں صرف 3 فیصد ہے۔ شرح سود میں کمی سے معاشی ترقی کی رفتار تیز ہو سکتی ہے۔ مارکیٹ میں سرمایہ کاری ہو گی تو کاروبار پھلے پھولے گا اور لوگوں کو روزگار ملے گا، پیسہ ارتکاز سے نکل کر معاشی سرگرمیوں کا حصہ بنے گا تو خوشحالی آئے گی۔

کسی ملک میں پڑھے لکھے اور ہنرمند افراد معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، حکومت کو انہی خطوط پر کام کرنے کی ضرورت ہے، عوام کو تعلیم اور تجارت کے لئے شناختی کارڈ کی بنیاد پر نرم شراِئط پر میرت پر قرضے فراہم کئے جائیں۔ قومی سطح پر بچت سکیمیں متعارف کروائی جائیں تاکہ زیادہ لوگ بڑھ چڑھ کر بچت سکیموں میں حصہ لیں اور سرمایہ کاری کا بند دروازہ کھلے۔ عوام کی قوت خرید میں اضافہ کے لئے بروقت اور انقلابی اقدامات وقت کی ضرورت ہیں جو جتنی جلدی اٹھائے جائیں، بیمار ملکی معیشت کیلئے تریاق ثابت ہوں گے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.