بھارت میں مسلم کش فسادات علاقائی امن کیلئے خطرہ

477

بھارتی دارالحکومت دہلی سمیت دیگر شہروں میں مودی سرکار کی سرپرستی میں راشٹریہ سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور مودی سرکار کے پروردہ ہندو انتہاء پسندوں کی جانب سے جس دیدہ دلیری کے ساتھ مسلم کش فسادات کا سلسلہ شروع کیا گیا اس سے مودی سرکار کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کیساتھ دشمنی پوری دنیا کے سامنے واضح ہو گئی ہے۔ انتہا پسند بجرنگ دل اور آر ایس ایس کے مسلح جتھوں نے مسلم اکثریتی علاقوں میں بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے درجنوں افراد کو شہید کیا، املاک پر حملوں اور مساجد کو نذرآتش کرنے کے بعد وہاں ترنگا لہرانے سے بھی گریز نہیں کیا۔

پوری دنیا جانتی ہے کہ بھارت میں انتہاء پسند ہندؤوں کی جانب سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو سیاسی، مذہبی، سماجی، ثقافتی اور معاشرتی مسائل اور پابندیوں کا سامنا ہے۔ اب حالیہ مسلم کش فسادات نے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور تمام مذاہب کو مساوی حقوق دینے کے نام نہاد دعویدار کا مکروہ چہرہ دنیا بھر کے سامنے عیاں کردیا ہے۔

مقام حیرت ہے کہ دنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کی بحالی اور ان کے مسائل کے حل کے لئے کوشاں عالمی طاقتیں بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیوں پر ہونے والے ظلم و زیادتی کے واقعات سے آگاہی کے باوجود پراسرار طور پر خاموش کیوں ہیں، بھارت میں انتہاء پسند ہندوؤں کی جارحیت رکوانے کے لئے عالمی سطح پر لب کشائی کیوں نہیں کی جا رہی۔ ان حالات میں نوبت یہاں تک آ گٰئی ہے کہ بھارت کے مسلم اکثریتی علاقوں میں بے بنیاد الزامات لگا کر مسلمانوں کو تشدد کرکے قتل کیا جا رہا ہے۔

درحقیقت اس وقت بھارت میں ایک متشدد، تنگ نظر، انتہا پسند ہندو تنظیم کی حکومت ہے جو کہ خطے کے مسلمانوں کی سب سے بڑی حریف بنی ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں مذہبی انتہا پسندی کے خلاف بین الاقوامی قوتیں جنگ لڑرہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ انتہاء پسندی اور مذہبی شدت پسندی عالمی امن کے لئے زبردست چیلنج اور بہت بڑا خطرہ ہے، لیکن دوسری جانب بھارت جو ڈیڑھ ارب کے آس پاس آبادی کے علاوہ ایک ایٹمی ملک بھی ہے عملاً ایک انتہاء پسند متعصب اور شدت پسند تنظیم کے تسلط میں جا چکا ہے جس پر کسی جانب سے کوئی تشویش ظاہر نہیں کی جا رہی۔

بھارتی ظلم و زیادتی پر استعماری طاقتوں کی پر اسرار خاموشی اور دوہرے معیار کی وجہ سے فساد، انتشار اور بدامنی فروغ پا رہے ہیں، علاقائی امن کو لاحق خطرات کی شرح تیزی سے بلند ہو رہی ہے۔ بھارتی حکومت کی اس روش سے واضح اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جب بھارت امریکی جدید ہتھیاروں سے لیس ہو جائیگا تو پاکستان اور بھارتی مسلمانوں کے ساتھ کیا حشر نہیں اٹھائے گا۔

دنیا کا امن و سکون اور چین و اطمینان اسی صورت قائم رہ سکتا ہے جب اسلام اور مسلمانوں کے خلاف معاندانہ سوچ اور رویئے میں تبدیلی اور دیگر مذاہب کے پیرو کاروں کی طرح مسلمانوں کے انسانی حقوق کا ہر سطح پر خیال رکھا جائے۔

بھارت کے اشتعال انگیز اور جارحانہ رویے سے صرف وہاں بسنے والی مقامی اقلیتوں کے حقوق ہی پامال نہیں ہو رہے بلکہ پاکستان اور جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک میں بھی بھارت کی بلاجواز دراندازی اور مداخلت جاری ہے جس سے ان ممالک میں امن ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے۔

پاکستان کے خلاف بھارت کی مسلسل اشتعال انگیزی کی روش باہمی کشاکش کو ہوا دینے کا باعث بن رہی ہے جو کسی طور دونوں ملکوں کے کروڑوں باشندوں کے مستقبل اور پر امن ماحول کے لئے سازگار نہیں۔

بھارت اس حقیقت کو بخوبی جانتا ہے کہ پاکستان ایک مضبوط ایٹمی قوت ہے اور اس کے لئے کسی بھی لحاظ سے تر نوالہ ثابت نہیں ہوسکے گا، تاہم اندرونی اور بیرونی طور پر مملکت خداداد کے خلاف متواتر سازشیں اور ریشہ دوانیاں کرکے اسے اس حد تک کمزورضرور کیا جاسکتا ہے کہ وقت آنے پر پاکستان کو پوری دنیا کے سامنے نقص امن کا شکار قراردے کر اس کی ایٹمی طاقت اور اقتصادی ترقی پر پابندیوں کا مطالبہ کرسکے لیکن پاکستان کے ارباب اقتدار و اختیار کو بھارت کی مکروہ چالوں سے مکمل آگاہی ہے اور پاکستانی فوج اور دیگر ادارے بھارت کی چال بازیوں کا تدارک کرنے کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہیں۔

امریکہ اور عالمی امن کے علمبرداروں کو چاہیے کہ وہ دوہرا معیار ترک کر کے بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر بے جا پابندیوں، انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں اور مسلمانوں کے بہیمانہ قتل عام کا نوٹس لیں تا کہ دنیا میدان جنگ کی بجائے امن و سلامتی کا گہوارہ بن سکے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

رانا اعجاز سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.