بھارتی متنازع قانون، ایک اور مسلم مملکت کی بنیاد

1,308

سنہ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد برصغیر جب مکمل طور پر انگریزوں کے قبضے میں آ گیا تو انھوں نے مسلمانوں کو خاص طور پر دشمنی کا نشانہ بنایا۔ ان کو جان بوجھ کر تعلیم سے محروم رکھا گیا، سرکاری عہدوں پر ان کی تعیناتی ناممکن بنا دی گئی، حتی کہ ان کی ملکیتی زمینوں، جائیدادوں کو چھین کر حق وراثت سے بھی محروم کر دیا گیا۔

وقت گزرتا گیا اور مسلمان احساس محرومی کی دلدل میں دھسنتے چلے گئے، ان کی معیشیت بالکل تباہ ہو گئی، مغل دور کے وزیر، امیر اور محلات میں رہنے والے فقیر بن گئے۔ تعلیمی لحاظ سے انتہائی ناقص اور ثقافتی و معاشرتی اعتبار سے کم ترین درجے تک گر گئے۔ اصل میں انگریزوں کو ڈر تھا کہ مسلمان کہیں پھر سے ان پر غالب نہ آ جائیں۔ اُن کو شہاب الدین غوری اور محمد بن قاسم جیسے مسلمان سپہ سالاروں کے حملے یاد تھے۔ اسی لیے انھوں نے ہندوؤں اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو سرکاری عہدوں پر برقرار بھی رکھا اور دیگر تمام سہولیات بھی مہیا کیں۔ لیکن مسلمانوں سے سب کچھ چین لیا جو انگریزوں اور ہندووں کے درمیان چکی کے دو پاٹوں کی طرح پسنے لگے۔

یہ وقت مسلمانوں کیلئے انتہائی جاں گسل اور مشکلات سے بھرپور تھا۔ ہندو، انگریزوں کی شہہ پر مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے، انہیں معمولی سرکاری کاموں کیلئے بھی رسوا کیا جاتا، عدالتوں میں اکثر سزائیں سنا دی جاتیں۔ کسمپرسی کا یہ عالم تھا کہ ایک ایک گھر میں مسلمانوں کے کئی کئی خاندان سر چھپانے کو بھرے ہوتے، کہیں چھت نہ ہوتی تو کہیں پہننے کو کپڑے نہ ملتے۔ بازاروں میں داخل نہ ہونے دیا جاتا، سرکاری ملازمتوں کے اشتہاروں میں صاف لکھا ہوتا کہ مسلمان ان کے اہل نہیں۔ ان سنگین ترین حالات میں قدرت کو مسلمانوں پر ترس آیا اور ان میں کچھ ایسے رہنما اٹھے جنہوں نے مسلمانوں کو ایک نیا طرز فکر دیا اور امید کی نئی شمع روشن کی۔ سر سید احمد خان سب سے پہلے رہنما تھے جنہوں نے مسلمانان برصغیر کو ایک علیحدہ قوم کی شناخت کی سوچ دی۔

انہوں نے مسلمانوں کو نہ صرف تعلیم کی جانب راغب کیا بلکہ اخبارات و جرائد میں مضامین اور کتابوں کے ذریعے ان میں اپنی پہچان کا شعور اجاگر کیا، علی گڑھ یونیورسٹی قائم کی جہاں سے بعد ازاں تحریک پاکستان کی قیادت کا بڑا حصہ میدان سیاست کا حصہ بنا۔

دو قومی نظریہ کی بنیاد وجود میں آئی تو آہستہ آہستہ ہر مسلمان کے دل کی آواز بن گئی، 1933 میں ایک علیدہ ریاست کا نام ابھرا تو چار دانگ ایک ہی مطالبہ سنائی دینے لگا جس کا نام تھا پاکستان۔ اس اثنا میں آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم تلے مسلمانان برصغیر کی قیادت محمد علی جناح کے ہاتھ آ چکی تھی جو بعد ازاں قائداعظم کہلائے۔ ان کی دن رات کی انتھک کوشش اور مسلمانوں کی قربانیوں کا ثمر بالآخر 14 اگست کو برصغیر کی تقسیم اور آزاد مسلم ریاست، پاکستان کی صورت دنیا کے نقشے پر ابھرا جہاں آج ہم مسلمان تمام تر آزادی کے ساتھ اسلام کے مطابق زندگی گزار سکتے ہیں۔

پاکستان کے نام پر مغربی و مشرقی برصغیر کے مسلمانوں کو تو آزاد ریاست مل گئی (مشرقی جانب اس کا ایک چھوٹا سا حصہ اب بنگلا دیش کے نام سے موجود ہے) لیکن باقی ماندہ ہندوستان یعنی بھارت میں مسلمانوں کی وہی مخدوش صورت حال آج بھی برقرار ہے بلکہ اب زیادہ بدتر ہو چکی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال تو پوری دنیا کے سامنے ہے ہی لیکن موجودہ ہندوستان کے حالات بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے مسلمانوں کا ہندوستان میں رہنا اذیت ناک ہو گیا ہے، نہ انہیں دن کا چین نصیب ہے نہ رات کا سکون۔ مسلمان مردوں کو دن دیہاڑے جنونی ہندووں کے جتھے جہاں چاہیں موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں، مسلم خواتین کی عزتیں پامال کرنا بھی معمول ہے۔ اب جب سے نام نہاد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مسلمانوں سے ان کا بنیادی حق یعنی حق شہریت چھیننے کا عمل شروع کیا ہے اس پر تمام ہندوستان کے مسلمان سراپا احتجاج ہیں۔

نریندر مودی کا پروگرام ہے کہ مسلمانوں کو ہندوستانی شہریت سے محروم کر دیا جائے جس کے بعد ان کے بحثیت شہری تمام حقوق منسوخ ہو جائیں گے جن میں رہائش، کھانا، لباس، علاج معالجہ سمیت دیگر شامل ہیں۔ قانونی حیثیت ختم ہونے کے سبب عدالتیں بھی ان کو کوئی ریلیف نہیں دیں گی۔ اس طرح وہ بالکل بے دست و پا ہو کر اپنے ہی ملک میں مہاجر بن جائیں گے جن سے کوئی بھی حکومت جیسا مرضی چاہے سلوک کرے۔ جائیدادیں بحق سرکار ضبط ہونے پر بھارتی فوج ان کو جیلوں میں ٹھونس دے گی جو مسلمانوں کیلئے گھناونی سازش کے تحت خصوصی طور پر تیار بھی کئے جا رہے ہیں۔ یوں ہندوستان کے مسلمانوں کا جو صدیوں سے وطن ہے وہ ان سے چھین لیا جائے گا۔

یہ سنگین ظلم دنیا بھر میں کہیں بھی نہیں کیا جاتا، حتی کہ انگریز دور میں بھی مسلمانوں کو ایسے دیوار سے نہیں لگایا گیا۔ ہندوستانی مسلمان اب شہریت کا یہ نیا کالا قانون واپس لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں جو لا محالہ نریندر مودی تسلیم نہں کرے گا تو مسلمانوں کے پاس وہ آخری حل، یعنی آزادی کی راہ باقی رہ جائے گی جس پر مشرقی و مغربی برصغیر (موجودہ پاکستان و بنگلا دیش) کے مسلمانوں نے 72 سال قبل عمل کیا تھا۔ کچھ ہندوستانی مسلمان یہ بات سمجھ چکے ہیں اور وہ متنازع کالے قانون کے خلاف مظاہروں میں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں اور لطف کی بات یہ کہ ان کے خلاف غداری کے مقدمات بھی قائم کئے جا رہے ہیں، یہ وہی اقدامات ہیں جو قیام پاکستان سے قبل انگریز مسلماںوں کے خلاف کر رہا تھا۔ اس طرح کے مقدمات سے ہندوستانی مسلمانوں کی تحریک مزید طاقت پکڑے گی اور مودی کے مزید مسلم کُش اقدامات دیگر مسلمانوں کو بھی آزادی کی راہ دکھائیں گے۔ یہ قدرت کا ہی انتقام ہے کہ نریندر مودی متنازع شہریت قانون کی شکل میں ہندوستان کی تقسیم اور مسلمانوں کیلئے نئے وطن کی بنیاد رکھ چکا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.