آزادی کے مطالبے کا گولی سے جواب

805

 یہ لو آزادی، کہتے ہوتے انتہا پسند ہندو نے نہتے مظاہرین پہ سیدھی گولی چلا دی۔ عالمی میڈیا کے مطابق یہ منظر دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کا ہے، جس کے تقریبا ایک ہزار طلبا مسلمانوں کے خلاف امتیازی شہریت کے نئے قانون پہ احتجاج کر رہے تھے۔ سینکڑوں پولیس والے حالات کنٹرول کرنے کے لیے مظاہرین کے سامنے کھڑے تھے جب یہ ہندو دہشت گرد ہاتھ میں پستول لہراتا ہوا سامنے آیا۔ تصویر میں واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس اہلکار انتہا پسند ہندو سے صرف 20 میٹر پیچھے کھڑے آرام سے اسے دیکھ رہے ہیں جب اس نے مظاہرین پہ گولی چلائی، گویا اسے یہ موقع فراہم کیا گیا۔

گولی شاداب فاروق نامی طالبعلم کو لگی، بعد میں سوشل میڈیا پہ اس دہشت گرد کی شناخت رام بخت گوپال کے نام سے ہو گئی، گولی چلانے سے پہلے اپنے فیس بک اکاونٹ پہ اپنے انتہا پسند عزائم بتاتے ہوئے اپنی فیملی کی حفاظت کی اپیل کی تھی (کسی کے فیملی ممبر کو گولی مارنے والے کو اپنی فیملی کی کس قدر فکرہے)۔ پولیس کے مطابق اسے گرفتار کرلیا گیا ہے لیکن پولیس میڈیا کو معلومات دینے کو تیار نہیں تھی جو اس گرفتاری کو مشکوک بناتی ہے۔

اس بات کا تعلق دہلی کے ریاستی انتخابات سے بھی ہوسکتا ہے جس میں پانچ دن باقی ہیں اور بی جے پی نے اپنا سب سے اہم ہتھیار، نفرتوں کا مبلغ، اترپردیش کا وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ میدان میں اتار دیا ہے۔ اس نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہا، مودی جی کے وزیراعظم بنتے ہی حکومت نے دہشت گردوں کی نشاندہی شروع کردی تھی اور بریانی کے بجائے انہیں گولی دینی شروع کردی تھی کیونکہ ہم نہ بریانی کھاتے ہیں اور نہ کھلاتے ہیں۔ اسکے بعد شاہین باغ کے مسلمان مظاہرین پہ فائرنگ کرنے والا ایک اور ہندو نسل پرست، میڈیا نے پولیس کی حراست میں یہ کہتا ہوا دکھایا کہ ہندوستان میں وہی ہوگا جو ہندو چاہے گا۔ واضح رہے کہ مسلمانوں کو ٹارگٹ کرتے نریندر مودی سرکار کے متنازع شہریت کے قانون کے خلاف ہونے والے حالیہ مظاہروں میں انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق کم از کم پچیس مسلمانوں کو شہید اور سینکڑوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

انتیس جنوری کو یورپی پارلیمنٹ میں بھی اس قانون پہ بحث ہوئی لیکن انڈین لابی اس پر ووٹنگ کو مارچ تک موخر کرانے میں کامیاب ہو گئی، ان کا موقف یہ تھا کہ انڈیا کی سپریم کورٹ میں اس قانون کے خلاف درخواستیں دائر ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے تک یورپی پارلیمان کو اس پر ووٹنگ نہیں کرانی چاہیے۔ ایوان کے بعض اراکین نے انڈیا میں اس نئے منظور شدہ قانون کو نازی دور سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور سٹیٹ لیس یا بے وطن بنانے کی کوشش ہے۔

مقام حیرت ہے کہ چند پاکستان باسی اب بھی پاکستان کے قیام کے مخالف ہیں اور مولانا ابوالکلام آزاد کی تقلید میں تقسیم ِہند کواس بنیاد پہ غلط فیصلہ کہتے ہیں کہ قیام پاکستان مسلمانوں کی تقسیم کا سبب بنا اور ان کی قوت میں کمی آئی وگرنہ مسلم اکثریتی علاقوں کے رہائشی مسلمانوں کی بھلائی ہوتی۔ اس بیانیے کیخلاف یہ دلیل پیش ہے کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد غیر مسلم اکثریت کے علاقوں میں مقیم تھی اور پاکستان نہ بنانے کا مطلب انہیں ہندووں کے رحم و کرم پر چھوڑنا تھا۔ دوسری بات آج کشمیر، اتر پردیش اور ان دیگر علاقوں کی حالت دیکھ لیں جہاں مسلمان ابھی بھی اکثریت میں ہیں اور عالمی میڈیا ہندو دہشت گردوں کو ان پہ سیدھی گولیاں چلاتا دکھا رہا ہے۔

قیام پاکستان کے مخالفین کا دوسرا اہم پوائنٹ یہ ہے کہ پاکستان نہ بنتا تومتحدہ ہندوستان بڑی طاقت ہوتا اورعالمی طاقتوں کے لیے ایسی مضبوط ریاست کو دبانا ممکن نہ رہتا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ایسا ہو بھی جاتا تو کیا فرق پڑتا؟ پھر بھی مودی جیسا موذی ہی وزیراعظم بنتا، جسکے دور میں مسلمانوں پہ پولیس کی موجودگی میں سیدھی گولیاں چلائی جا رہی ہیں۔

تقسیم ہند کے مخالفین کی تیسری دلیل یہ ہے کہ ہندووں اور مسلمانوں میں اگرچہ مذہبی تفریق موجود تھی لیکن مذہب ہر شخص کا ذاتی معاملہ ہے اور ریاست کو سیکولر رہنا چاہیئے۔ اسکے برعکس جب بعض لوگوں نے سیاسی مسائل کو مذہب کے زاوئیے سے دیکھا تو الجھاؤ پیدا ہوا اور اس عمل میں قائداعظمؒ بھی شریک تھے لہذا، اگر متحدہ ہندوستان ایک سیکولر ریاست کے طور پر قائم رہتا تو اس میں مسلمان اسی طرح ترقی کر سکتے تھے جس طرح دوسری اقوام کے لوگ ترقی کر رہے ہیں۔

یہ نقطہ نظر رکھنے والے موجودہ تنازعے کو دیکھیں تو انڈیا میں لاکھوں ہندو، سکھ، بدھ اور مسیحی تارکین وطن عشروں سے مقیم ہیں اور شہریت کے ترمیمی قانون کا مقصد ایسے تمام غیر مسلم تارکین کو شہریت دینا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تارکین کو شہریت دینے کا فیصلہ مذہب کی بنیاد پر کیوں کیا گیا؟ کیا یہ مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں؟ کیا نام نہاد سیکولر ریاست بذات خود مذہب کے نام پہ اپنے شہریوں کو بےوطن نہیں کررہی؟ کیا ہندوستان کی ریاست مذہب کے نام پہ وہی کام نہیں کررہی جس کا الزام مولانا ابوالکلام آزاد اور انکے حامی قائداعظم پہ لگاتے تھے اور اب بھی لگاتے ہیں؟

آخری بات، متحدہ ہندوستان کے مخالفین کو یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ارض پاکستان میں سب کو اپنی بات کہنے کا ویسے ہی حق ہونا چاہیئے جیسے امریکا میں نوم چومسکی اور بھارت میں ارون دھتی رائے کو ہے جو ایک آزاد معاشرے کیلئے ضروری ہے، اس طرح دونوں جانب کے دلائل سے عوامی شعورکی سطح بلند ہو گی اور عام پاکستانی خود صحیح بات تک پہنچ سکے گا۔ ایسے موضوعات پہ بحث سے اساس پاکستان کو خطرہ نہیں، وہ دنیا کے نقشے پر ایک حقیقت ہے اور انشااللہ رہے گا۔

محمد منیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کنسلٹنٹ ہیں۔ پاکستانی انتخابی نطام کی خامیوں کے ناقد ہیں لیکن جمہوریت پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.