یوم یکجہتی کشمیر منانے کا تقاضا

561

اہل پاکستان پانچ فروری کا دن مظلوم کشمیری بھائیوں کیساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر مناتے ہیں۔ اس دن عزم کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ہر پاکستانی مقبوضہ وادی کشمیر میں بھارتی تسلط سے آزادی کے لیے برسر پیکار کشمیری بھائیوں کیساتھ ہے۔ کشمیر در حقیقت تقسیم ہند کا ایسا حل طلب مسئلہ ہے جو کہ بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی، ظلم و ناانصافی اور اقوام عالم کی چشم پوشی کے باعث تاحال حل نہیں ہو سکا۔ گزشتہ 72 سالوں کے دوران کشمیری مسلمانوں نے جدوجہد آزادی اور اپنے حق خود ارادیت کے حصول کیلئے لاتعداد قربانیوں سے تاریخ رقم کی ہے۔ مودی سرکار کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے کے منصوبے سے دیگر ریاستوں کے ہندو شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور مستقل رہائش کا حق حاصل ہوگیا ہے، جس سے کشمیری مسلمانوں میں تشویش شدت اختیار کرگئی ہے اور جدوجہد آزادی کشمیر میں شدت آئی ہے۔ یہ امر انتہائی اہم ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کو 2 حصوں میں تقسیم کرنا عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور شملہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے، یہ بھارتی اقدام کشمیریوں کے بنیادی اور انسانی حقوق پر ڈاکہ ہے، مقبوصہ کشمیر میں غیر مسلموں اور غیر کشمیریوں کو بسا کر یہاں کشمیری مسلمانوں کی تعداد کم کرنے کی ویسی ہی سازش ہے جو اسرائیل نے فلسطین میں اپنائی۔ مودی سرکار کا یہ فیصلہ 1947 ء میں مقبوضہ کشمیر کی لیڈر شپ کی جانب سے بھارت سے الحاق نہ کرنے کے فیصلے سے متصادم ہے، یکطرفہ بھارتی فیصلہ سراسر غیر قانونی اور غیر آئینی ہے جس کے خطرناک نتائج ہوں گے، اس سے مسئلہ کشمیر مزید پیچیدہ ہوگا اور خطے کا امن تباہ ہوکر رہ جائے گا۔

یہی وجہ ہے کہ کنٹرول لائن کے دونوں جانب بسنے والے کشمیری مسلمانوں اور پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی خود مختار حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور35 اے ختم کرنے کا بھارتی فیصلہ مسترد کردیا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی بجائے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی خاطر بھارت نے جو لاک ڈاون کیا تھا، 185 روز گزرنے کے باوجود تاحال جاری ہے، کشمیری بالکل غزہ جیسی صورتحال کا شکار ہیں جہاں نہ خوراک مہیا کی جا رہی ہے نہ ضرورت کے مطابق پانی، ننھے بچے دودھ جیسی بنیادی ضرورت اور بزرگ ادویات کیلئے ترس رہے ہیں، انسانیت دم توڑ گئی جب ہسپتالوں تک کی سپلائی معطل کر دی گئی، جہاں مریض تمام تر میڈیکل سہولیات سے محروم ہیں، آپریشن کے منتظر مریض درد سے تڑپنے پر مجبور ہیں لیکن ان کا پرسان حال کوئی نہیں، الٹا بھارتی فوجی مزید نوجوان کشمیروں کو گولیوں کی بوچھاڑ سے یا تو شدید زخمی کر رہی ہے یا شہید کر دیتی ہے۔ کشمیریری نوجوانوں کو علم ہے کہ جو زخم وہ اپنے سینوں پر کھا رہے ہیں اس پر مرہم بھی نہیں رکھا جائے گا، اس کے باوجود وہ اپنے آزادی جیسے حق سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔

اس وقت کرفیو کے باوجود پوری وادی سراپا احتجاج ہے اور ’’آزادی آزادی‘‘ کی صدائوں سے گونج رہی ہے جبکہ تحریک آزادی کے دوران بھارتی بربریت سے شہید ہونے والے نوجوانوں کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر بڑے بڑے جلوسوں کی صورت میں آخری منزل تک پہنچایا جارہا ہے اس سے بھارتی حکمرانوں کے دہشت گردی کے پروپیگنڈے کی دھجیاں بکھر گئی ہیں۔ دنیا بھر میں انسانیت کی اعلیٰ اقدار سے محبت کرنے والے لوگ مقبوضہ کشمیر کے ان بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کو سلام پیش کررہے ہیں جنہوں نے ہر قسم کے مظالم کا سامنا کرنے اور ہر روز اپنے پیاروں کی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے باوجود آزادی و حریت کا پرچم نہ صرف سر بلند رکھا بلکہ ان کی جدوجہد ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ ولولہ انگیز نظرآرہی ہے۔ مظلوم کشمیری عوام نے بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہر ظلم کے باوجود آزادی آزادی کے نعرے لگا کر اور جابجا پاکستانی پرچم لہرا کر اقوام عالم کے سامنے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ اپنی مرضی سے کرنے کے حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آرٹیکل 35 اے کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے سوا بھارت کا کوئی بھی شہری یا ادارہ جائیداد نہیں خرید سکتا جبکہ سرکاری نوکریوں، ریاستی اسمبلی کے لیے ووٹ ڈالنے اور دوسری مراعات کا قانونی حق بھی صرف کشمیری باشندوں کو حاصل تھا۔ بھارتی انتہاپسند چاہتے ہیں کہ آرٹیکل 35 اے کوختم کرکے مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جائے اور پھر اسے ختم کرکے مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ مستحکم بنایا جائے۔

حکومت پاکستان کی جانب سے کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں کئی بار پہنچایا گیا اور ہر بار اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے کر اس کے حل کے لئے بھارت پر زور دیا گیا۔ بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر مظالم کے بہتر سال کے بعد تک اس مسئلے کے حل کے سلسلے کی کوششیں جاری ہیں، جس کے لئے کئی فارمولے اور معاہدے ہو چکے ہیں لیکن بھارت کبھی اس معاملے کے حل میں مخلص نہیں رہا۔

جہاں تک بڑی طاقتوں کا تعلق ہے وہ چاہتی ہیں کہ پاکستان اور بھارت میں کبھی امن و امان قائم نہ ہو۔ یہ تاریخی خطہ چونکہ لامحدود وسائل و معدنیات سے بھرا ہوا ہے، عالمی طاقتوں کا طویل المدت مفاد اسی میں ہے کہ پاکستان و بھارت آپس میں کوئی سمجھوتہ نہ کریں، تاکہ عالمی سیاست میں اپنا کوئی کردارادا کرنے کے قابل نہ ہو سکیں۔ یہ بعید از قیاس نہیں کہ عالمی طاقتیں بھارت کے ساتھ اس پر بھی متفق ہوں کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ریاست پاکستان کو کہیں اقوام عالم اور ترقی یافتہ ممالک میں برتری حاصل نہ ہو جائے۔

کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا تو بلاشبہ ہے ہی لیکن یہ عصرحاضر کے چند اہم ترین سیاسی اور انسانی مسائل میں سے ایک ہے۔ کشمیریوں کی بے پناہ مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے موجودہ حالات تقاضا کرتے ہیں کہ اس وقت بطور ریاست اور من حیث القوم ہم یہ سوچیں کہ ایسے کیا اقدامات اٹھا سکتے ہیں جن کے ذریعے ہم اپنے کشمیری بھائیوں کی بھرپور حمایت کریں اور انہیں بھارتی مظالم سے نجات دلوا کر آزادی کا پروانہ تھما  دیں۔ فی الحال پاکستان کو چاہیئے کہ وہ سفارتکاری اور میڈیا کے ذریعے کشمیر کی اصل صورتحال اور سنگینی کے بارے میں دنیا کو آگاہ کرے تاکہ بھارتی میڈیا کا مقابلہ کر کے کشمیری عوام کے حق پر مبنی موقف کی صحیح ترجمانی ہو سکے۔

رانا اعجاز سیاسی و سماجی موضوعات پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.