سی پیک، پاکستان سے غربت مٹانے کا منصوبہ

1,023

اٹھارہویں صدی کے صنعتی انقلاب سے انسانی تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا جس سے زندگی کے تقریبا ہر شعبے کی کایا پلٹ گئی۔ انسان نے وہ تمام کام مشینوں کے حوالے کر دیئے جو گزشتہ لاکھوں سالوں سے وہ اپنے ہاتھوں سے انجام دیتا آیا تھا۔ بھاپ کے انجن اور دوسری مشینوں نے زراعت، کان کنی، مواصلات اور اشیائے صرف سمیت صنعتوں میں تیز رفتاری پیدا کر دی جس سے تجارت میں وسعت پیدا ہوئی، ممالک کے باہمی تعلقات میں ہمہ گیریت آئی۔ اونٹوں، گھوڑوں کے ذریعے مہیںوں پر مشتمل طویل فاصلے ریل گاڑی کے سبب گھنٹوں، منٹوں پر آ گئے۔ سمندر میں چلنے والی چھوٹی چپو کشتیاں، بڑے سٹیم انجن بحری جہازوں میں بدلیں تو دیو ہیکل سامان کی ترسیل ممکن ہو گئی۔ یوں مختلف معاشروں اور مملکتوں کے افراد قریب ہوتے چلے گئے۔ دنیا کے گرد سرمایہ، جدیدیت اور تیز رفتاری میں آیا جس سے یورپ، شمالی امریکا اور پھر پوری دنیا میں سماجی و معاشی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

انسان کی توجہ ہلکی صنعتوں کے بعد بھاری صنعتوں کی جانب مبذول ہوئی، ہوائی جہاز کی ایجاد نے ہواوں کو مسخر کرنے کا پرانا خواب حقیقت میں بدل ڈالا، تخیل نے سائنس کو مزید راہ سجھائی تو چاند اور مریخ پر کمند ڈالنے کے بعد انسان اب زمین جیسی دوسری دنیا کی تلاش میں ہے جہاں زندگی ممکن ہو اور موجودہ دنیا کے مسائل میں کمی آئے۔ خلائی دوڑ میں امریکہ اور روس ایک دوسرے کو ہرانے کی سرتوڑ کوشش میں لگے ہیں تو چین ان سے بے نیاز اسی زمین کو بارآور بنانے کیلئے ایک نیا انقلاب لانے کی انتھک کوشش میں ہے جو ‘بیلٹ اینڈ سلک روڈ’ منصوبے کے نام سے موسوم ہے۔

چین کے اس عالمگیر منصوبے کے تحت 66 سے زائد ممالک کو تجارتی سطح پر جوڑا جا رہا ہے۔ ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ دنیا کی دو تہائی آبادی کو ملائے گا جس میں کم از کم ایک تہائی مجموعی ملکی پیداوار بھی شامل ہے۔ اس کا فائدہ ترقی یافتہ ممالک کی بجائے ترقی پذیر ممالک کو زیادہ ہو گا جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

مذکورہ منصوبہ زمانہِ قدیم کی شاہراہ ریشم کے نقشِ قدم پر بنایا گیا ہے۔ اس کے زمینی راستے کو ‘سلک روڈ اکنامک بیلٹ’ کا نام دیا گیا ہے جو کہ چین کو سڑک اور ریل کی مختلف راہداریوں کے ذریعے ایشیا کے تقریباً تمام ممالک سے ملاتے ہوئے یورپ تک جاتا ہے۔ ان راہداریوں کا ایک اہم حصہ چین پاكستان اقتصادی راہداری ہے جو کہ گوادر سے خنجراب کے راستے 62 ارب امریکی ڈالر کی مالیت پر مشتمل ہے۔

موجودہ حالات میں پاکستان کی خراب مالی حالت کا ملک کے عوام سے زیادہ کس کو پتہ ہو گا، ملکی معیشیت امریکہ کی جانب سے قائم کئے گئے ادارے آئی ایم ایف سے قرض لے کر چلائی جا رہی ہے جو عوام پر بھاری ٹیکس عائد کرنے کی شرط پر قرض دیتا ہے جس کا سود ادا کرنے کیلئے عوام پر ٹیکس در ٹیکس عائد کر کے خون نچوڑا جا رہا ہے۔ بجلی، پٹرول و گیس، کھانے پینے کی اشیا کے آسمان سے باتیں کرتے دام پاکستانی عوام کا بھرکس نکال چکے ہیں، وزیراعظم پاکستان عمران خان ناقابل برداشت مہنگائی کے باوجود عوام کو صبر کا سبق تو دیتے ہیں تاہم حقیقت وہ خود بھی جانتے ہیں کہ ان کی یہ باتیں صرف تسلیوں کے سوا کچھ نہیں۔

تاہم امید افزا بات یہ ہے کہ پاکستان کے اندھیرے تقریبا اب چھٹنے کو ہیں، پاکستان-چین اکنامک کوریڈور کے ذریعے پاکستانی قوم کیلئے ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہونے کو ہے، اس منصوبے سے پاکستان میں سڑکوں کا جال بچھے گا، صنعتی زون قائم کئے جائیں گے، ابھی تک تمام صوبوں کے تعاون سے 9 زونز کی نشاندہی ہو چکی ہے جن میں چین کے سرمایہ کاروں کو دعوت دی جائے گی جو بڑے پیمانے پر مینوفکچرنگ کو فروغ دے سکیں، خام مال کی تیاری سے لیکر فنشنگ تک تمام مراحل یہیں مکمل کئے جائیں گے، اس طرح ہزاروں بے روزگار پاکستانیوں کو نہ صرف ملازمت ملے گی بلکہ تکنیکی مہارت میں بھی اضافہ ہو گا۔

اسوقت تک سی پیک سے متعلقہ جاری منصوبوں میں 70 ہزار پاکستانیوں کو روزگار ملا ہے۔ سی پیک اتھارٹی حکام کے مطابق 15 سال کے دوران 23 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنے میں مدد ملے گی، نوکریاں ملیں گی تو غربت کم ہو جائے گی۔

اسی طرح صوبہ خیبرپختونخوا میں حطار اکنامک زون، رشکئی اکنامک زون، بونیر اکنامک زون، ڈی ائی خان، سوات اور مہمند ماربل سٹی کو جلد از جلد فعال بنانے کی بھی احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ انقلابی اقدامات سے صوبے کے صنعتی شعبے کے میدان میں ایک انقلاب رونما ہوگا جبکہ صوبے کی معیشت بھی مستحکم ہو گی۔

بلوچستان میں گوادر بندرگاہ، پنجاب اور سندھ میں پاور پراجیکٹس سمیت سی پیک کے دیگر منصوبے اگلے مراحل میں مکمل ہوں گے۔ چین کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدہ فیز 2 شروع ہو چکا ہے، اکنامک زون کی جلد تعمیر کے لیے 18 ارب روپے کی لاگت کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے اور اس سلسلے میں پی ایس ڈی پی ایک کثیر رقم مختص کی گئی ہے۔

ان اقدامات سے درآمدی بجٹ میں کمی ہو گی، روپے کی قدر بڑھے گی اور پاکستان کی دوسرے ممالک کی معیشتوں پر انحصار میں کمی آئے گی یعنی قرض یا امداد کی مد میں دوسرے ممالک کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑے گا۔ پاکستان آئی ایم ایف کے چنگل سے نکل جائے گا اور قوم کے خون پسینے کی کمائی جو آئی ایم ایف کے سود کی مد میں ادا کرنا پڑتی ہے وہ عوام پر ہی خرچ ہو گی۔ توانائی انفراسٹرکچر کی فراہمی اور صنعتی ترقی کے سبب ملکی صنعتی پیداوار میں اضافہ ہو گا۔ معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف کا کہنا ہے کہ سی پیک کے ذریعے جی ڈی پی میں 3.5 فیصد اضافہ ہو گا۔

قدرت نے پاکستان کو ایک سنہری موقع فراہم کر دیا ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ عسکری قیادت جہاں سی پیک کے بارے میں سنجیدہ ہے وہاں سیاست دانوں کو بھی تمام اختلافات پس پشت ڈالتے ہوئے عظیم تر قومی مفاد میں ایک ہونا ہو گا۔ ’’پاک چین دوستی۔ زندہ باد‘‘ کے نعرے بھی کانوں کو بھلے لگتے ہیں، اب عمل کی ضرورت ہے۔

کمال حسین نظریہ پاکستان سے محبت کے سبب وطن عزیز کی بہتری کیلئے قلم کے ذریعے جہاد کرتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.