حج اخراجات میں ہوشربا اضافہ

998

حج اسلام کا ایک عظیم رکن اور پوری امت مسلمہ کے لیے ہمہ گیر عبادت ہے۔ حج ادا کرنے والے اہل ایمان رنگ و نسل، قبائل و برادریوں سے بالا تر ہو کر، دنیاوی زیب و زینت کو چھوڑ کر ایک طرز کے احرام میں ملبوس ہوکر یہ اقرار کرتے ہیں کہ ’’ اے اللہ حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں۔ یقینا تعریف سب تیرے ہی لیے ہے، نعمت سب تیری ہی ہے اور ساری بادشاہی تیری ہے تیرا کوئی شریک نہیں‘‘۔ حجاج کرام حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق وارفتگی اور دیوانگی سے حج کی ادائیگی کرکے اپنا تعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عظیم قربانیوں کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صاحب ثروت ہی نہیں، ہر اہل ایمان اپنے سینے میں حج بیت اللہ اور در مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دیدار کی تڑپ رکھتا ہے، مگر پاکستان میں روز بروز بڑھتی مہنگائی نے غریب پاکستانیوں کے لیے اس عظیم سعادت کو بہت مشکل بنا دیا ہے۔

وزارت حج ومذہبی امور نے اس سال سرکاری سکیم کے تحت حج پر جانے والوں کے لیے حج پیکج میں 1 لاکھ 15 ہزار روپے کا اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد 2020ء میں حج پر جانے کے خواہش مند حجاج کرام کو مجموعی طور پر 5 لاکھ 50 ہزار روپے جمع کروانا ہونگے۔ گذشتہ دنوں سیکرٹری وزارت مذہبی امور مشتاق بھرانہ نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کے اجلاس میں بتایا کہ سال 2020ء کے دوران ایک لاکھ 79 ہزار عازمین ہی حج کی سعادت حاصل کرسکیں گے اور سال 2020 ء کے لیے حج پیکج میں ایک لاکھ 15 ہزار روپے کا اضافہ کیا جا رہا ہے، اس طرح نارتھ ریجن کا حج پیکج 5 لاکھ 50 ہزار روپے تک ہوگا جب کہ ساوتھ ریجن کا پیکج 5 لاکھ 45 ہزار روپے ہو گا۔ اس پر چیئرمین قائمہ کمیٹی مولانا عبدالغفور حیدری نے پوچھا کہ آپ کہتے ہیں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا، اس وجہ سے حج پیکج بڑھا ہے؟ اس پر سیکرٹری مذہبی امور نے جواب دیا کہ اس سال روپے کی قدر میں گراوٹ اور ایئر لائنز کے کرایوں میں اضافے کی وجہ سے حج پیکچ میں اضافہ کرنا پڑا۔ گزشتہ سال حاجیوں سے 4 لاکھ 33 ہزار روپے تک وصول کئے گئے اور جو پیسے بچ گئے، ہر حاجی کو واپس کر دیئے گئے، اس طرح حجاج کرام کو تقریباً 5 ارب روپے واپس کیے گئے، ایک شرح کے مطابق 37 ہزار روپے فی حاجی واپس کئے اور کچھ کو 60 ہزار فی کس تک بھی واپس کئے گئے۔

پی ٹی آئی کی حکومت میں جاری مہنگائی کے سونامی اور معاشی بدحالی، ڈالر، ریال کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے گزشتہ دوسالوں سے حج اخراجات میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ یہاں واضح رہے کہ حج 2018ء میں سرکاری سکیم کے تحت اخراجات 2 لاکھ 80 ہزار روپے سے 2 لاکھ 92 ہزار روپے تک تھے، اس طرح گزشتہ دوسالوں کے دوران حج اخراجات تقریباً ڈبل ہو چکے ہیں۔ جبکہ گزشتہ سال دسمبر میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزارت مذہبی امور نے اعتراف کیا تھا کہ ’’عازمین حج کی جانب سے بینکوں میں جمع کروائی گئی رقوم پر وزارت سود بھی حاصل کرتی ہے اور گزشتہ 5 سالوں میں 1 ارب روپے سے زائد کا سود حاصل ہوا ہے جو کہ حجاج کرام کی ادیات اور دیگرامور پر خرچ کیا گیا‘‘۔

بلاشبہ حج ایک مقدس عبادت اور اسلام کا بنیادی فریضہ ہے جبکہ اسلام میں سود کی بھرپور ممانعت ہے بلکہ یہاں تک کہ سود لینا دینا اللہ باری تعالیٰ سے جنگ کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے سود سے متعلق تحریری بیان پر عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ اس سال حج درخواستوں کی وصولی ماہ رمضان المبارک میں کی جائے تاکہ سودی لعنت کا قلع قمع ہو سکے۔ حج اس لحاظ سے بڑی نمایاں عبادت ہے کہ یہ بیک وقت روحانی، مالی اور بدنی تینوں پہلوؤں پر مشتمل ہے، یہ خصوصیت کسی دوسری عبادت کو حاصل نہیں۔ کسی بھی مسلمان کے سفر حج کا مقصد ایک فرض کو ادا کرنا، اپنے ربّ کو راضی کرنا، گناہوں کی معافی مانگنا ، اپنے نفس کو پاک کرنا اور اب تک کی زندگی میں کئے جانے والے اعمال پر توبہ کرکے باقی عمر اسلامی احکامات کے مطابق گزارنے کا عزم کرنا ہوتا ہے۔ مگر صد افسوس کہ حکومتیں اس مقدس فریضے کی مد میں وصول کی گئی رقم پر بھی سود لیتی رہی ہے۔ اورگزشتہ دور حکومتوں میں حج سہولیات کے نام پر بھی حکومتی شخصیات نے کرپشن کے ریکارڈ بنا کر اور حجاج کرام کو مشکلات سے دوچار کرکے کرپشن کی بدترین مثالیں قائم کی ہیں۔

موجودہ دور حکومت میں بھی وزارت مذہبی امور کی جانب سے حج 2020ء اخراجات میں ہوشربا اضافہ کرکے غریب اور متوسط طبقے کے پاکستا نیوں کے لیے مشکلات پیدا کی جارہی ہیں۔ جبکہ ضروری تھا کہ بھر پور کوشش سے حج اخراجات میں کمی لائی جاتی تا کہ سینے میں اللہ تعالیٰ کے گھر اور در مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دیدار کی تڑپ رکھنے والے غریب پاکستانی بھی حج کی سعادت سے محروم نہ رہتے اور فریضہ حج ادا کرسکتے۔ موجودہ حالات متقاضی ہیں کہ حکومت بڑھتی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرے اور حج اخراجات میں حالیہ اضافہ واپس لیا جائے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.