پاکستان کی کشمیر پالیسی درست سمت گامزن؟

626

گزشتہ برس اگست میں بھارتی حکومت نے بنیادی انسانی حقوق کے عالمی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مقبوضہ کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370 منسوخ کر دیا، اس طرح کشمیر کا جداگانہ تشخص یکطرفہ طور پر ختم کر کے نہ صرف جابرانہ تسلط قائم کر لیا گیا بلکہ کسی لاوارث جائیداد کی طرح کشمیر کی اراضی کا لین دین ہندوستانی آبادی کیلئے جائز بھی قرار دے دیا، اس حوالے سے حقیقی فریق کشمیری باشندوں سے پوچھا تک نہیں گیا۔ یہ عمل کسی کی ذاتی جائیداد غنڈہ گردی سے ہتھیانے کے مترادف ہے۔

ان سنگین حالات نے بھارتی فوج اور وہاں باقاعدہ منصوبہ بندی سے لائے گئے ہندو آباد کاروں کے حوصلے بلند کر دیئے، تقریبا ہر گھر کے پہرے پر کھڑے جدید ترین اسلحے سے لیس بھارتی فوجیوں سے دن رات ہراساں ہونا کیا کم تھا کہ اب پورے ہندوستان سے مزید اوباش ہندو یہاں آ ٹپکیں گے۔ ان سازشی اقدامات میں چھپے نریندر مودی کے حقیقی عزائم تب واضح ہوئے جب کشمیری خواتین سے متعلق بھارتیہ جنتا پارٹی کے نام نہاد رہنماوں کے گھٹیا بیانات سامنے آئے کہ جونہی کشمیر کھلے گا وہاں سے دلہنیں لائیں گے۔

ہریانہ کے وزیراعلی منوہر لال کی طرح بی جے پی رہنما وکرم سنگھ سینی نے بھی متنازع اور ذومعنی بیان دیا کہ آرٹیکل 370 ختم ہونے سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکن بہت پرجوش ہیں کیوں کہ اب وہ گوری کشمیری لڑکیوں سے شادی کر سکیں گے۔ منوہر لال بھارت کے سن رسیدہ سیاستدان ہیں جنہیں بزرگ ہونے کے ناطے اپنی عزت کروانی چاہئے لیکن اس طرح کے بیانات کے سبب بس اتنا ہی کہا جا سکتا ہے کہ شرم تم کو مگر نہیں آتی۔

مودی سرکار کے گھناونے ارادے ان کی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ پرویش ورما کی دھمکی سے مزید واضح ہو جاتے ہیں جس میں انہوں نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں لوگ دہلی میں واقع ان کے گھروں میں گھس کر مسلم بیٹیوں کی عصمت دری کریں گے اور قتل کر دیں گے۔

سرکاری نمائندوں کی جانب سے اس طرح کے مجرمانہ بیانات کے بعد کیا امید ہو سکتی ہے، ظاہر ہے جس طرح بھارت بھر میں مکمل منصوبہ بندی کے ذریعے متنازع شہریت بل لا کر مسلمانوں کو دیوار سے لگا دیا گیا اور اب ان کے قتل عام اور گینگ ریپ کے مجرمانہ بیانات سرعام آ رہے ہیں، ایسا ہی کوئی بھی غلیظ کھیل کشمیر میں کھیلنے کی منصوبہ بندی بھی ہو رہی ہو گی۔ بھارتی پولیس اور فوج پہلے ہی شہریت کے کالے قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے درجنوں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار چکی ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر میں بھی مقامی نوجوانوں کی شہادتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے اور بھارت میں سی اے اے اور این آر سی شہریت قوانین کی آڑ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ مودی کے گزشتہ برس مئی میں ہونیوالے انتخابات کا پارٹی ایجنڈہ تھا۔ یعنی یہ سب پوری طرح سوچ سمجھ کر، باقاعدہ ایک پلان کے تحت کیا جا رہا ہے۔

ایسے میں کشمیری بہنیں بیٹیاں بی جے پی کے درندوں کے رحم و کرم پر ہوں گی جبکہ مردوں کو قتل کر دیا جائے گا، انتہا پسند ہندووں کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس بھارتی فوج کا مکمل تعاون بھی حاصل ہو گا۔ دشمن کا یہ ہتھکنڈہ نیا نہیں، 1947ء میں پاکستان بننے کے موقع پر بھی ہندو، لاکھوں مسلمان مردوں کو قتل اور خواتین کی آبرو ریزی کر چکے ہیں۔ کیا اب یہ دوبارہ بڑے پیمانے پر کشمیر میں قتل عام کی تیاری ہو رہی ہے جس کا برملا اظہار وزیراعظم پاکستان عمران خان چند ماہ قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں کر چکے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں بڑی طاقتوں سمیت دنیا کو خبردارکرتے ہوئے کہا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں ’قتل عام‘ ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وزیراعظم نے عالمی برادری کو کسی ایٹمی طاقت کی طرف سے آخر تک لڑی جانے والی جنگ کے نتائج سے بھی خبردار کیا تھا۔ تاہم ہمیشہ کی طرح عالمی طاقتوں کی جانب سے کشمیر میں مظالم پر روایتی بیانات کے علاوہ کوئی حقیقی اقدام دیکھنے میں نہیں آیا جس سے مسئلہ کشمیر کے حل کی کوئی راہ نکلتی ہو۔

اس حوالے سے پاکستانی حکمرانوں کو محض بیانات سے کچھ قدم آگے بڑھنا ہو گا، پاکستان کی کشمیر پالیسی فی الحال امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی پیشکشوں پر مبنی لالی پاپ سے آگے نہیں بڑھ رہی، ہماری تمام تر سفارتکاری کے باوجود 51 میں سے صرف 3 اسلامی ممالک ترکی، ملائشیا اور ایران نے مقبوضہ کشمیر میں ہونیوالے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی ہے، جبکہ ہمارے ساتھ برادرانہ دوستی کا دم بھرنے والے اکثر ممالک نریندر مودی کو ایوارڈز سے نوازتے رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے ہم خیال ممالک ترکی، ملائشیا، اران اور قطر کے علاوہ ہمارے دکھ سکھ کے ساتھی چین کے ساتھ مل کر ایک نیا دفاعی حصار تشکیل دے، روس کے ساتھ بھی نئے سرے سے اچھے تعلقات ترتیب دیئے جائیں۔

علاقائی سطح پر پاکستان کو بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر مضبوط آواز بلند کرنی چاہئے، موقع ملے تو اخلاقی مدد کے ساتھ ساتھ پاکستان بھارت کو متنبہ بھی کرسکتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف کسی بھی غیر انسانی کارروائی کی صورت میں پاکستان راست اقدام اٹھا سکتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کرتارپور کوریڈور منصوبے کے ذریعے جس طرح سکھ برادری کے دل جیتنے میں کامیاب ہوا ہے ایسے ہی بھارت میں دیگر آزادی کی تحریکوں سے تعاون کر کے بھارت کو تزویراتی سطح پر کمزور کر سکتا ہے۔

خطے میں بھارت کے جن ممالک کے ساتھ سرحدی تنازعات کے سبب تعلقات کشیدہ  ہیں خصوصا چین کے ساتھ، کسی ایک پر حملہ دونوں پر حملہ کی بنیاد پر دفاعی معاہدہ پاکستان کو بھارت کے مستقل خطرے سے نجات دلانے کے علاوہ خطے میں اہمیت بڑھانے کا سبب بنے گا۔ بھارت کی خطے میں ہٹ دھرمی سے تنگ نیپال، بھوٹان اور سری لنکا کے ساتھ بامقصد سفارتکاری بھارت کو کسی حد تک علاقائی تنہائی کا شکار کر سکتا ہے۔ مودی کے جنگی جرائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، گجرات فسادات، بابری مسجد اور مقبوضہ کشمیر میں 5 ماہ سے جاری کرفیو جیسے ناقابل تردید ثبوت مودی کو جنگی مجرم قرار دلوانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں، یورپی پارلیمنٹ میں بھارتی متنازع شہریت قانون کے خلاف ووٹنگ جلد متوقع ہے، آر ایس ایس کی نازی ازم سے مشابہت عالمی برادری خصوصا یورپ کو بدظن کرنے کا اہم ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. عشرت زاہد کہتے ہیں

    بہت عمدہ تحریر ہے، بہترین تجزیہ ۔ آپ کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ مشاہدہ گہرا ہے اور یہ ہر درد مند پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔ اللہ اس پاک سرزمیں کی حفاظت کرے۔ کشمیریوں کو ان کا حق عطا کرے۔ آمین یا رب العالمین ۔

تبصرے بند ہیں.