“میرا اس تنخواہ میں گزارہ نہیں ہوتا”

1,859

وزیراعظم پاکستان کی کم از کم تنخواہ 2 لاکھ روپے ماہانہ ہے، ان کا کھانا پینا، آنا جانا، بیرونی سفر اور علاج معالجہ تک کے اخراجات بحق سرکار مفت ہیں، پھر بھی ان کا اس “معمولی” رقم میں گزارہ نہیں ہوتا۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ایک مزدور کی تنخواہ محض 17500 ہے، دیہاڑی دار 500 روپے کماتا ہے اور اس کی کچھ دیہاڑیاں لگتی بھی نہیں، اس نے کھانا پینا، سفر، دوائی دارو ہر چیز کا انتظام اسی رقم میں سے کرنا ہے۔ پھر آپ خود بتائیں مظلوم کون ہے۔

حیران کن امر یہ ہے یہ کہہ کون رہا ہے کہ میرا گزارہ نہیں ہوتا، جس نے 12 ماہ میں بجلی 12 دفعہ مہنگی کی، پٹرول و ڈیزل 80 سے 120، ایل پی جی 80 سے 160 روپے تک پہنچا دی۔ یہ تو عام آدمی بھی جانتا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہو تو ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آٹا، دال، چینی، چاول اور سبزیاں اب عام آدمی کی قوت خرید سے ہی باہر ہو گئی ہیں مگر، پاکستانیو گھبرانا نہیں ہے۔

غربت ختم کرنے کی بجائے حکمران شاید غریب ختم کرنا چاہتے ہیں، آئی ایم ایف جیسے عالمی اداروں کے کہنے پر عوام کا بھرکس نکال دیا گیا ہے، پہلے غریب آدمی 2 وقت کی روٹی جیسے تیسے کر کے کھا لیتا تھا، اب تو اشیائے ضروریہ کے جتنے ریٹ بڑھ گئے ہیں، آٹے کا جو حال ہو گیا ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اب انسان روٹی کھانے سے بھی گیا۔

حکومتی وزرا کے کہنے کے مطابق پاکستان بھر میں آٹا فراوان اور سستا دستیاب ہے، کوئی بحران نہیں۔ لیکن جب مارکیٹ میں جائیں تو صورتحال کچھ اور ہی ہے، روٹی کا وزن کم کر دیا گیا، اب روٹی کم اور پاپڑ زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ آٹا تلاش کریں تو دکاندار کہتے ہیں شارٹ ہے، پیچھے سے نہیں آ رہا، آخر جائیں تو کہاں جائیں۔

سرائیکی میں ایک مثال ہے ایک فقیر قرعہ کے ذریعے بادشاہ بنتا ہے، اسکا ایک ریچھ ہوتا ہے، وہ تمام وقت ریچھ پالنے پر لگاتا ہے، نہ ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے کوئی فیصلے کرتا ہے اور نہ مملکت کی حفاظت کیلئے کوئی اقدام اٹھاتا ہے۔ ملک کی مخدوش صورتحال دیکھ کر دشمن کی فوج حملہ کر دیتی ہے تو بادشاہ ریچھ لے کر نکل جاتا ہے، لوگ سوال کرتے ہیں بادشاہ سلامت، دشمن کا مقابلہ کریں، وہ کہتا ہے مجھے تم سے کیا، مجھے اپنا ریچھ پالنا تھا وہ پل گیا، میرا کام ختم۔

لہذا ہمارے نیازی صاحب بھی اپنا ریچھ پال رہے ہیں، ٹھہریں، وزیراعظم صاحب کی آواز آ رہی ہے کہیں سے۔ سنیں تو، کیا کہہ رہے ہیں؟ ہاں، کہتے ہیں “میں ریچھ نہیں پال رہا، الزام ہے مجھ پر، یہ مثال مجھ پر صادق نہیں آتی”۔ چلیں عمران صاحب، کچھ دیر کیلئے آپ کی بات درست مان لیتے ہیں۔ لیکن ایک شرط ہے۔ جو آٹا، چینی، گھی  اور چاول کا مصنوعی بحران بنا رہے ہیں، ان کو پکڑیں۔ یہ بھی تو وزیراعظم صاحب ہی کی ذمہ داری ہے،  دوسروں کے سر محض الزام تھوپ دینے سے مسئلے حل  نہیں ہو جاتے، کارروائی کریں مجرم پکڑیں اور سزا دیں۔ ویسے وزیراعظم صاحب کے احتساب کے نعرے اور کرپٹ ٹولے سے قوم کا 300 ارب ڈالر واپس نکلوانے کے نعرے کا حال تو سب نے دیکھ ہی لیا ہے، پھر بھی کوئی بات نہیں، عوام آپ کو ایک اور موقع دے دیتے ہیں۔ آپ 300 ارب ڈالر نکلوائیں، جب تک یہ کام نہیں ہوتا، آپ 2 لاکھ روپے تنخواہ فی کس عوام کو دینی شروع کر دیں، یقین کریں، اس سے آپ کا گزارہ نہیں ہوتا، 17500 ماہانہ روپے والے عوام گزارہ کر لیں گے۔ ورنہ ریچھ پالنے والی مثال خودبخود آپ کیلئے درست ثابت ہو جائے گی۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.