تبدیلی سرکار اور تھانہ کلچر

1,569

تبدیلی کے پُرکشش نعرے نے پورے پاکستان میں امید کی ایک نئی لہر پیدا کر دی تھی اور بالخصوص ایسے محکمے جہاں غریبوں اور کمزوروں کا ہر روز استحصال ہوتا ہو وہاں تبدیلی ایک سہانا خواب تھا۔ رشوت اور بد عنوانی کے فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ دینے کے بلند و بالا نعرے ابھی بھی لوگوں کے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کو شاید نیا پاکستان راس نہیں آیا اور وہ پرانے پاکستان کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالات کی پہلے سے ابتری نے جمہورت پر کئی سوال اٹھا دیئے ہیں۔ ایسی جمہوریت کا کیا کرنا جہاں غربت، بیروزگاری اور مہنگائی اپنے عروج پر ہو۔ جہاں تھانے میں جنگل سے بد تر نظام رائج ہو اور اس میں تبدیلی کے آثار کوسوں نظر نہ آ رہے ہوں۔ غریب کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا پولیس والوں کا وطیرہ بن چکا ہے۔

وطن عزیز کی سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ یہاں قانون ساز ادارے کی رکنیت کے لئے تعلیم کی کوئی شرط نہیں۔ قانون ساز کے لئے بھی پڑھا لکھا ہونا بھی ضروری نہیں۔ اس لئے ہم نے آج تک 1860 کے انڈین پینل کوڈ، 1898 کے کوڈ آف کریمنل پروسیجر اور 1908 کے کوڈ آف سول پروسیجر کو چھیڑنا گوارا نہیں کیا۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے، نئے زمانے کے نئے تقاضے ہوا کرتے ہیں مگر ہم اب بھی اسی پرانی دنیا میں بستے ہیں۔ ستاروں کو کمند ڈالنے کے اس دور میں پرانے فرسودہ اور ناقص نظام کی کوئی گنجائش نہیں مگر سوال یہ ہے اسے تبدیل کون کرے؟ قانون میں ترمیم کیسے ہو گی؟ اس کے لئے تو آئینی و قانونی ماہرین کی ٹیموں کو کئی سال تک کام کرنا ہو گا۔ مگر ہم تو حکومت گرانے اور حکومت بچانے میں الجھے ہوئے ہیں۔ ہمیں کیا غرض کہ روزانہ کتنے ہی بے گناہ اور معصوم لوگ اس ناقص تفتیشی نظام کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ نہ جانے کتنے گھروں کے چراغ گل ہو رہے ہیں اور نہ جانے کتنی خواتین کے سہاگ اجڑ رہے ہیں۔

ایف آئی آر سے حتمی چالان جمع ہونے تک ایک غریب اور بے بس آدمی کو نا انصافی اور ذہنی بلیک میلنگ کی جس چکی میں پسنا پڑتا ہے اسے صرف وہی جانتا ہے جس پر بیتتی ہے۔ ایف آئی آر کی مختلف دفعات کے مختلف تھانوں میں مختلف ریٹ ہیں اور اس کے اخراج کے ریٹ اس سے بھی دگنا ہیں۔ بغیر کسی سیاسی پشت پناہی کے ایسا ممکن ہی نہیں۔ اسی لیے تو شرفاء کی اکثریت واردات کے بعد تھانہ میں رپورٹ درج کرانے سے کتراتی ہے کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ ‘‘ایک مجرم تو ہمارے روایتی نظام قانون کا لاڈلا بیٹا ہے’’ اسے وہ پروٹوکول حاصل ہے جو ایک عام باعزت شہری تصور نہیں کر سکتا۔ مجرم کی اس کھلی آزادی سے متاثرہ فریق کی زندگی غیر محفوظ بن جاتی ہے۔ تھانہ کلچر کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں تہذیب کے آداب بھلا دیئے جاتے ہیں اور سینئر ہائوس آفیسر (ایس ایچ او) کا شہریوں کے ساتھ عمومی رویہ انتہائی تحقیر آمیز اور قابل مذمت ہوتا ہے۔

کہانی صرف ایف آئی آر کے اندراج پر ختم نہیں ہوتی، دوسری طرف اگر کوئی بے گناہ پولیس کے ہتھے چڑھ جائے تو کئی دنوں تک اسے مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش نہیں کیا جاتا۔ جس کے لیے پولیس 24 گھنٹے کے اندر اندر پیش کرنے کی پابند ہے۔ اس کی بندی تک نہیں ڈالی جاتی اور کچی بندی ہر وقت تیار ہوتی ہے کہ کہیں بیلف کا چھاپہ نہ پڑ جائے۔ رات کے وقت سکیورٹی کیمرے بند کر کے فرمائشی طور پر بے گناہوں پر تشدد کیا جاتا ہے۔ فی جوتا مارنے کے حساب سے مخالف پارٹی سے اجرت لی جاتی ہے۔ اور بعض اوقات ایسا سیاسی آقائوں کی ایماء پر کیا جاتا ہے۔

ایف آئی آر کے بعد تفتیشی افسر کی لوٹ مار کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ تفتیشی افسر بیک وقت مدعی اور مدعا الہیہ سے رقم بٹورتا رہتا ہے۔ کبھی ایک کے حق میں ضمنی لکھی جا رہی ہے تو کبھی دوسرے کے۔ حتیٰ کہ جو ضمنی تھانہ میں لکھی جاتی ہے وہ اور ہوتی ہے اور جو عدالت میں پیش کی جاتی ہے وہ اور ہوتی ہے۔

تفتیشی آفیسر اس ساری صورتحال میں مختیار کل ہوتا ہے اور پر کشش پیش کش پر حتمی چالان کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس سے قبل انکوائری درانکوائری ہوتی ہے۔ فائل کا پیٹ بھراجاتا ہے۔ یہ سب کچھ افسران بالا کی تیکھی نظروں کی موجود گی میں ہوتا ہے اور بعض اوقات تو ایماندار تفتیشی افسر صاف لفظوں میں کہہ ہی دیتا ہے کہ ایس ایچ او، ڈی ایس پی اور ڈی پی او کا بھی اس میں حصہ ہے اس لئے اس کے خلاف اعلیٰ حکام کو درخواست دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا الٹا نقصا ن ہو گا۔

حتمی چالان کے جمع ہونے تک مدعی یا متاثرہ فریق کا اصل نقصان سے زیادہ خرچہ ہو چکا ہوتا ہے اور جب اسے خبر ملتی ہے کہ وہ ساری بازی اس لیے ہار چکا ہے کہ اس کے علاقائی سیاسی رہنمائوں سے کوئی خاطر خواہ اچھے تعلقات نہیں تھے۔ وہ ایک ہارے ہوئے جواری کی طرح گھر کو لوٹتا ہے جس کے پاس اب کچھ کرنے کو کوئی اور راہ نہیں ہوتی کہ وہ خاموشی سادھ لے اور آئندہ کبھی دوبارہ تھانے کا رخ نہ کرے۔

تھانے کا منشی بھی اس اجرِ خیرمیں کسی سے پیچھے نہیں رہتا اور وہ حصہ لینا اپنا حق سمجھتا ہے۔ غرض تھانے میں موجود ہر فرد اسی طرز پر اپنے فرائض منصبی سرانجام دینے میں محو رہتا ہے۔ نہ تو کبھی ان کا پیٹ بھرتا ہے اور نہ ہی ان کی مٹھی کبھی پوری طرح گرم ہوتی ہے۔ یہاں گناہ و ثواب کا کوئی تصور ہی نہیں۔ پولیس میں ایماندار افسران شاید آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔ اگر کچھ ہیں بھی تو وہ بھی اسی رنگ میں رنگے جاتے ہیں۔ محکمہ خود ان کا جینا دوبھر کر دیتا ہے۔

یہ نظام اور یہ قصہ تو پچھلی صدی سے زیرِ تنقید ہے مگر سوال یہ ہے کہ تبدیلی سرکار نے اسے تبدیل کرنے کی کوئی کوشش کی؟ اب تک تو کوئی تبدیلی نظر آئی ہے اور نہ ہی زیرِ غور ہے بلکہ حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ تھانوں کے اندر پہلے سے زیادہ نا انصافی، تشدد اور بربریت کے کیس رپورٹ ہو رہے ہیں۔ مہنگائی کے اعتبار سے تھانوں میں رشوت کے ریٹ بھی بڑھا دیئے گئے ہیں۔ تھانہ اب امن کی علامت نہیں رہا بلکہ خوف اور غیر یقینی کی علامت بن چکا ہے۔ یہاں سیاسی ایجنٹوں اور ٹاوٹوں کا دور دورا ہے۔ شریف آدمی رپورٹ درج کرانے کے خیال سے بھی گھبراتا ہے۔ خان صاحب کی حکومت بھی پچھلی حکومتوں کی ڈگر پر چل پڑی ہے اور اصلاحات کا مستقبل قریب میں کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔ عمران خان کے ’’قبر میں سکون‘‘ کے بیان کے بعد رہی سہی امیدیں بھی دم توڑ رہی ہیں اور لوگ تھانوں میں جانے کی بجائے اپنے معاملات کو چاہے نقصان ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے، اپنے طور پر سلجھانے کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔

مشتاق کھرل نے ماس کمیونیکیشن اور انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز ڈگری لے رکھی ہے اور ڈیجیٹل میڈیا صحافی ہونے کے ناطے معاشرتی مسائل پر لکھنا پسند کرتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.