سوات کے غیر معیاری نجی سکول، سرکاری اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان

707

سوات میں سیکڑوں کی تعداد میں بڑھتے سکولوں کے ناقص معیار تعلیم سے بچوں کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے قائم کردہ پرائویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کی غیر تسلی بخش کارکردگی سے اِن سکولوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وادی میں جتنے سرکاری سکول ہیں، اس سے کئی سو زیادہ نجی تعلیمی ادارے بھی موجود ہیں۔ نجی تعلیمی اداروں کے کندھوں پر تعلیم کا آدھا بوجھ تو ہے مگر ایسے اکثر سکول صرف بورڈ میں پوزیشن حاصل کرنے تک محدود ہیں۔ سکولوں میں بچوں کی تربیت کا فقدان ہے اور بچوں کو رٹی رٹائی تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔

محکمہ تعلیم کی جانب سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق سوات میں 848 سرکاری تعلیمی ادارے لڑکوں کے لئے اور 432 ادارے لڑکیوں کے لئے ہیں۔ سوات تعلیمی بورڈ کے مطابق ضلع بھر میں رجسٹرڈ نجی سکولوں کی کل تعداد 731 ہے۔ ان نجی سکولوں میں 248 پرائمری، 143مڈل، 225 ہائی جبکہ 115 ہائیر سیکنڈری سکولز ہیں۔ پرائویٹ سکول منیجمنٹ ایسوسی ایشن سوات کے مطابق ان کے ساتھ ضلع بھر میں رجسٹرڈ و ان رجسٹرڈ سکولوں کی تعداد 1500 ہے جن میں تقریباً سو کے قریب ایسے سکول ہیں جن کی رجسٹریشن ہونی ہے یا رجسٹریشن کے عمل میں ہیں۔

سوات میں تعلیم کی فراہمی میں نجی تعلیمی اداروں کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن اکثریتی تعلیمی اداروں میں بچوں کی اخلاقی تربیت پر خاص توجہ نہیں دی جاتی بلکہ دہائیوں پرانے طریقہ تعلیم کو اپنایا گیا ہے۔ بچوں کو محض اس بات کا قائل کیا جاتا ہے کہ جو بورڈ میں پوزیشن حاصل کر لے گا وہی قابل اور کامیاب تصور ہو گا۔ تعلیم پر کام کرنے والی تنظیمیں الف اعلان اور ادھیانہ کی رپورٹس کے مطابق سوات میں نجی تعلیمی اداروں نے باقاعدہ ایک کاروبار کی شکل اختیارکر لی ہے۔ لوگ پیسہ بنانے کے لئے سکول کھول لیتے ہیں اور چند ہی سالوں میں بہت سارا پیسہ اکھٹا کرلیتے ہیں۔

ماہر تعلیم فیاض احمد نے بتایا کہ نجی ادارے معیاری تعلیم کی فراہمی کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر اصل میں یہ ادارے سکول بناؤ پیسہ کماؤ کی منطق پر عمل پیرا ہیں۔ ’’سکولوں میں بچوں کی اخلاقی تربیت پر خاطر خواہ کام نہیں جاتا اور بچوں کو رٹی رٹائی تعلیم کے ذریعے صرف بورڈ میں پوزیشن کے حصول کے لئے تیارکرتے ہیں جس طرح ایک کارخانے میں خاص قسم کی پراڈکٹ تیار کی جاتی ہے اُسی طرح سکولوں میں بچوں کے پراڈکٹ تیار ہوتے ہیں۔‘‘ ایک نجی سکول میں زیر تعلیم بچے کے والد محمد سلیمان نے گفتگوکے دوران کہا کہ ’’میرے بچے ایک معیاری تعلیمی ادارے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں لیکن مجھے محسوس ہوتا ہے کہ بچوں کی اخلاقی تربیت پر خاص توجہ نہیں دی جاتی۔ ہر مہینے ٹیسٹوں، امتحانوں اور سالانہ چارجز کے نام پر ہزاروں روپے بٹورے جاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’اگر مہینے کی فیس لیٹ ہو جائے تو اس کا اثر بچوں پر نہیں پڑنا چاہئے، سکولوں میں فیس کی عدم ادائیگی پر بچوں کو کلاس سے باہر کھڑا کیا جاتا ہے اور اکثر اوقات گھر واپس بھیج دیا جاتا ہے جس سے بچے احساس محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔‘‘

نجی تعلیمی اداروں کی درجہ بندی محکمہ تعلیم، سوات تعلیمی بورڈ، نجی سکولوں کی تنظیموں اور دیگر ذرائع سے حاصل شدہ ڈیٹا کے مطابق ضلع سوات میں نجی سکولوں کی کل تعداد 1600 سے تجاوزکر گئی ہے۔ سوات کے تمام نجی سکولوں کو ایک سروے کے مطابق اُن کے تعلیمی معیار، بنیادی سہولیات کی فراہمی، بچوں کی فیس اور اساتذہ کو ملنے والی تنخواہوں کی مناسبت سے تین درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

درجہ اول کے تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات سب سے زیادہ ہوتی ہیں۔ کمرہ جماعت اور سکول عمارت کی تزئین و آرائش پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ ان سکولوں میں بچوں کی ماہانہ فیس 10 ہزار سے لے کر 50 ہزار روپے تک جبکہ اساتذہ کی تنخواہیں 20 ہزار سے 60 ہزار تک ہوتی ہیں۔ اول درجے کے ان سکولوں میں زیادہ برانڈ یا سکولنگ سسٹم سے وابستہ سکول ہی ہوتے ہیں جن کی شاخیں ملک کے دیگر علاقوں میں بھی پھیلی ہوئی ہوتی ہیں۔

دوسرے درجے کے تعلیمی ادارے تعلیمی معیار کے حوالے سے بھی بہتر ہوتے ہیں جبکہ بنیادی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جاتی ہے۔ اس درجے کے تعلیمی اداروں میں بھی بچوں کی تربیت و تعلیم پر خصوصی توجہ مرکوز رہتی ہے۔ بچوں کی ماہانہ فیس دو ہزار سے لے کر 10 ہزار تک ہوتی ہیں جبکہ اساتذہ کو 10 ہزار سے لے کر 35 ہزار روپے تک تنخواہیں دی جاتی ہیں۔

سوات میں تیسرے درجے کے تعلیمی اداروں میں مسائل سب سے زیادہ ہوتے ہیں تاہم یہاں پر درجنوں ایسے ادارے بھی موجود ہیں جو کم فیس میں بھی بچوں کو معیاری تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں۔ ان سکولوں میں عمارت سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ کمرہ جماعت کی کمی، بنیادی سہولتوں میں اکثروبیشتر کا فقدان رہتا ہے۔ کم تعلیم یافتہ اساتذہ اور غیر تجربہ کار منتظمین ہوتے ہیں۔ بچوں کی فیس کم ہوتی ہیں جس کی وجہ سے اساتذہ کی تنخواہیں بھی انتہائی کم ہوتی ہیں۔ ماہانہ 800 روپے سے لے کر 2000 تک فیس وصول کرتے ہیں جبکہ اساتذہ کو تین ہزار سے لے کر 8 ہزار تک تنخواہیں ملتی ہیں۔

اسی درجے کے سکول کے ایک معلم ریاض علی خان نے گفتگو میں یہ بھی کہا ہے کہ جتنی تنخواہ انہیں ملتی ہیں وہ اُسی کے حساب سے بچوں کو پڑھاتے ہیں یعنی یہاں پر وہ بچوں کی تربیت پر زیادہ محنت نہیں کر پاتے۔ کھمبی کی تعداد میں اگتے سکول سوات کے محلوں اور گلی کوچوں کی سطح پر قائم ہیں جنہیں مشرومز گروتھ سکول کہا جاتا ہے۔ ایک محلے میں پانچ سے چھ سکولز قائم ہیں جن میں زیادہ تر لوئرکلاس فیملیز کے بچے پڑھتے ہیں۔ سوات میں ان سکولوں کی تعداد دو سو سے تین سو تک بتائی جاتی ہیں۔ ان میں زیادہ تر سکولوں کی رجسٹریشن بھی نہیں ہوئی ہے۔ ان سکولوں کی بلڈنگ دو یا تین کمروں پر مشتمل ہوتی ہیں جبکہ مشکل ہی سے چار یا پانچ اساتذہ ہوتے ہیں۔ سکول کے پرنسپل کو دوسری کوئی جاب نہیں ملتی تو وہ کرائے کی بلڈنگ لے کر سکول کھول لیتا ہے۔ تعلیمی معیار انتہائی ناقص، بنیادی سہولیات کا فقدان اور اساتذہ بھی ان کوالیفائڈ جو صرف دن کی دیہاڑی لگا کر واپس چلے جاتے ہیں۔ ایک نجی سکول کے پرنسپل نعمان سعید نے اس حوالے سے گفتگو میں کہا کہ یہی وہ تعلیمی ادارے ہوتے ہیں جن کے باعث دیگر نجی تعلیمی اداروں کی بدنامی ہوتی ہیں ۔ ان سکولوں کو بند کرنے یا ان کے خلاف کارروائی سے متعلق سرکاری اداروں نے بھی چھپ سادھ لی ہے جس کے باعث کاروباری ذہنیت رکھنے والے ان افراد کی مزید حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ اکثر اوقات سکولوں کے برانچز بھی کھول لیتے ہیں۔

تیسرےدرجے کے ایک تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم بچے کے والد اسرار خان نے گفتگو کے دوران کہا کہ ’’جن تعلیمی اداروں میں تعلیم کا معیار بہتر ہے یا بنیادی سہولیات زیادہ ہیں وہاں پر اپنے بچوں کو پڑھانا مشکل ہو جاتا ہے۔ سکول کی فیس بہت زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث ہم مجبوراً اپنے بچوں کو اسی سکولوں میں پڑھاتے ہیں۔‘‘

پرایویٹ سکولز منیجمنٹ ایسوسی ایشن کے تحصیل صدر نثار احمد نے گفتگو کے دوران بتایا کہ ’’سوات میں محکمہ تعلیم اور سوات تعلیمی بورڈ سکولوں کی رجسٹریشن کرواتی تھی۔ جن سکولوں میں کہیں پر بھی کوئی کمی ہوتی تو ان کی رجسٹریشن تب تک نہیں ہو پاتی جب تک وہ اپنی کمی یا خامی کو دور نہیں کر پاتے۔‘‘

صوبائی حکومت کی جانب سے قائم ادارہ پی ایس آر اے اب سکولوں کی رجسٹریشن کروا رہا ہے، جو سکول رجسٹرڈ ہیں وہ اتھارٹی کی رجسٹریشن کے تابع آ جاتے ہیں جبکہ جن کی رجسٹریشن نہیں ہوئی وہ پرائویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کے لئے قابل قبول نہیں ہوتے۔ نجی سکول کے ایک پرنسپل محمد رضوان نے بتایا کہ ’’جن مشرومز سکولوں کی وجہ سے بچوں کا مستقبل تاریک ہوتا دکھائی دے رہا ہے، ان میں سے زیادہ تر کو پرائویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے رجسٹرڈ کروایا جا چکا ہے۔ اتھارٹی کے اہلکار نہ تو کسی سکول کا معائنہ کرتے ہیں اور نہ ہی سکول کے دورے لئے کسی انسپکشن ٹیم کو بھجوایا جاتا ہے۔ اتھارٹی پیسے لے کر سکول کو رجسٹرڈ کروا لیتی ہیں جس سے مشرومز سکولز یا ناقص تعلیمی معیار رکھنے والے سکولوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔‘‘

مشرومز سکولوں کے معیار تعلیم کا اندازہ اُن کے طلبہ کی قابلیت سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ ایک سکول کے آٹھویں جماعت کے طالب علم جو سکول میں ہمیشہ پہلے نمبر پر آتے ہیں، سے جب پوچھا گیا کہ elephant، ہاتھی کے سپیلنگ کیا ہیں؟ تو طالب علم کا جواب تھا ’’ALIFANT‘‘۔

جب سکول کے پرنسپل سے پوچھا گیا کہ آُپ کے قابل ترین طالب علم کو تو ہاتھی کی سپیلنگ تک نہیں آتے تو وہ کہنے لگے ’’بچہ آپ لوگوں کو دیکھ کر NAWRAS ہو گیا ہے‘‘، یعنی اس کا مطلب تھا Nervous ہوگیا ہے۔ ان سکولوں میں زیادہ تر اساتذہ میٹرک پاس یا انٹرمیڈیٹ تک تعلیم کے حامل ہوتے ہیں جو بچوں کو پڑھا سکتے ہیں اور کم تنخواہ پر بھی کام کرلیتے ہیں۔

سوات کے ماہر تعلیم ڈاکٹر جواد نے گفتگو کے دوران کہا کہ ’’زیادہ تر نجی تعلیمی اداروں کا معیار سرکاری سکولوں سے بھی ابتر ہوتا ہے بلکہ اب تو سرکاری تعلیمی ادارے بھی اچھی پوزیشن لیا کرتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور بچوں کو بہتر تربیت دینے کے لئے مذکورہ رگولیٹری اتھارٹی، محکمہ تعلیم یا دیگر متعلقہ اداروں کو نجی سکولوں کے لئے یکساں تعلیمی پالیسی بنانا ہوگی۔ ایک جیسا نصاب اور اس کو پڑھانے کے لئے ایک جیسا طریقہ کار اپنانا ہوگا، جو سکول ایک ہزار روپے کے عوض بہتر اور معیاری تعلیم مہیا کرتے ہیں، دیگر اعلیٰ درجے کے سکولوں کو بھی اس بات کا پابند بنانا ہوگا کہ وہ اپنی فیسوں میں کمی لائیں تاکہ نجی تعلیمی اداروں کے درمیان موجود تفریق کو ختم کیا جا سکے اور ایک عام آدمی کے بچے کو بھی معیاری تعلیم مہیا ہو سکے۔‘‘

نجی سکولوں کے حوالے سے ہائی کورٹ نے تحریری فیصلہ بھی سنایا تھا اور باقاعدہ طور بھی بچوں کی فیس اور اساتذہ کی تنخواہیں بھی متعین کی گئی تھیں جسے نجی سکول کے مالکان نے سپریم کورٹ میں چیلنج بھی کیا تھا۔ تجزیہ نگاروں اور تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جاتا یا اُس فیصلے میں موجود خامیوں کو درست کر کے اُسے اپنایا جاتا تو شاید نجی سکولوں کے مابین پائی جانے والی تفریق ختم ہو جاتی اور ممکن تھا کہ ناقص درجے کے تعلیمی ادارے یا تو بند ہو جاتے یا وہ اپنا تعلیمی معیار بہتر کر پاتے۔

صوبائی حکومت کی جانب سے 2017ء میں نجی سکولوں کو مانیٹر کرنے اور حکومتی دائرہ کار میں لانے کے لئے پرائیویٹ سکول سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا ۔ اس ادارے کا مقصد سکولوں کی رجسٹریشن کروانا اور یکساں تعلیمی نصاب نافذ کرنا تھا جبکہ سکولوں کی درجہ بندی کر کے اُن کے لئے فیس سٹرکچر بھی متعین کرنا تھا۔ پی ایس آر اے نے سکولوں کی اے سے ای کیٹیگری میں درجہ بندی کا فیصلہ کیا تھا۔

درجہ بندی میں سکول کی عمارت، اساتذہ کی تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی مدنظر رکھتے ہوئے سکولوں کے لئے فیس سٹرکچر مقرر کرنا تھا۔ دو سال کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ریگولیٹری اتھارٹی اپنی پالیسی کو نافذ نہیں کر سکی اور صرف سکولوں کی رجسٹریشن تک ہی محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ اس حوالے سے ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے موصولہ رپورٹ کے مطابق اب تک صوبہ بھر میں آٹھ ہزار کے قریب سکولوں کو رجسٹرڈ کروایا جا چکا ہے جبکہ مختلف علاقوں میں رجسٹریشن سنٹرز بھی کھولے جا رہے ہیں تا کہ نجی سکولوں کے مالکان اپنے سکولوں کو آسانی سے رجسٹرڈ کروا سکیں۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ریگولیٹری اتھارٹی مکمل طور پر فعال نہیں ہو جاتی، ادارے پر اندرونی و بیرونی دباؤ کا خاتمہ نہیں کیا جاتا تب تک یہ ادارہ بغیر معائنے کے صرف رجسٹریشن اور پیسے بٹورنے تک محدود رہے گا۔ جب تک تمام نجی تعلیمی اداروں کے لئے یکساں نصاب، درجہ بندی کے لحاظ سے فیس سٹرکچر متعین نہیں کیا جاتا تب تک ناقص تعلیمی ادارے وجود میں آتے رہیں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.