ایران امریکہ کشیدگی، پاکستان کیلئے مدبرانہ فیصلے کی متقاضی

829

ایران امریکہ تعلقات میں تناؤ اس خطے کیلئے نئی بات نہیں، امریکی صدور کو جب بھی ملکی سیاست میں مشکلات یا بالخصوص مواخذے کی تحریک کا سامنا ہو تو اس سے توجہ ہٹانے کیلئے ان کے پاس آخری آپشن کسی کمزور ریاست کے خلاف دہشتگردی کی آڑ میں فوجی کاروائی ہی ہوتا ہے جس کا نشانہ عموما مسلم ریاستیں ہی بنتی ہیں۔ ایران پر ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی عالمی پالیسی کی خلاف ورزی کے الزامات لگا کر دھکمی آمیز بیانات جاری کرنا ہر امریکی صدر کا وطیرہ رہا ہے جس کی بدولت ایران امریکہ تعلقات ہمیشہ تناو کا شکار ہی رہے ہیں۔

کشیدگی میں پہلی بار بڑا بریک تھرو جولائی 2015ء میں آیا جب یورپی یونین سمیت 6 عالمی طاقتوں امریکا، چین، روس، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور ایران کے مابین جوہری معاہدہ “جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن” عمل میں آیا۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے یورینیم کے افزود شدہ ذخائر کو 15 سال کیلئے محدود کرنا تھا اور یورینیم افزودگی کے لیے استعمال ہونے والے سینٹری فیوجز کی تعداد کو 10 سال کے عرصے میں بتدریج کم کیا جانا تھا۔ اس معاہدے کے بعد اقوام متحدہ، امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے ایران پر عائد کردہ اقتصادی پابندیاں اٹھا لی گئیں اور ایران امریکہ تناو میں کافی حد تک کمی آ گئی۔

معاہدے کو صرف 4 سال بھی نہ گزرے تھے کہ 9 مئی 2019ء کو امریکا نے ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے سے یک طرفہ طور پرعلیحدگی کا اعلان کر دیا۔ امریکہ کی طرف سے موقف اپنایا گیا کہ ایران ریاستی دہشت گردی کی سر پرستی کر رہا ہے، ایران، شام و یمن میں کارروائیاں کر رہا ہے اور دہشت گردی میں ملوث ہے، ایران سے جوہری معاہدہ نہیں ہونا چاہیے تھا، معاہدے کو جاری رکھا تو ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو جائے گی اور اس کے ساتھ ہی ایران کو 90 سے 180 روز میں سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنے کی دھمکی بھی دی۔   امریکہ کے اس رویئے کی روس، چین اور معاہدے کے دیگر فریق ممالک کی طرف سے شدید مذمت کی گئی۔

امریکہ کی معاہدے سے دستبرداری کے ردعمل میں ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ امریکی صدر کا اعلان عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے تاہم امریکا کے بغیر بھی جوہری معاہدہ جاری رہے گا۔ فرانسیسی صدر نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ افسوس ناک ہے، فرانس، جرمنی اور برطانیہ اس فیصلے پر افسردہ ہیں۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موغرینی نے کہا کہ ایران ایٹمی معاہدے پر عمل کررہا تھا، معاہدے کے ثمرات مل رہے ہیں، یورپ ایران سے جوہری معاہدے کے تحفظ کیلئے متحد ہے، ایران کے ساتھ معاہدہ جاری رہے گا۔ اقوام متحدہ میں روس کے نائب سفیر دمتری پولیانسکی نے کہا کہ روس کو ٹرمپ کے اس فیصلے سے مایوسی ہوئی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے امریکی فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکا کے بغیر بھی معاہدے پر عملدرآمد ہوسکتا ہے، ایران سے جوہری ڈیل جاری رکھی جائے۔

صرف اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈونلڈٹرمپ نے دلیرانہ اقدام کیا۔ لیکن معاہدے کی فریق عالمی طاقتوں سمیت اقوام متحدہ نے بھی اس معاہدے کی پاسداری کیلئے امریکہ پر کسی قسم کا دباؤ نہ ڈالا اور بات افسوس اور لفظی مذمت تک ہی محدود رہی۔

امریکی اقدامات کے بعد ایران امریکہ تعلقات دوبارہ کشیدہ ہو گئے۔ مئی 2019ء میں ہی متحدہ عرب امارات کے قریب کھلے سمندر میں 4 آئل ٹینکرز پر حملے کئے گئے جس پرامریکی قومی سلامتی امور کے مشیر جان بولٹن نے کہا کہ یہ امریکہ کو تیل کی سپلائی سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے جس کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔ حالات اس حد تک کشیدہ ہو گئے کہ امریکہ نے کسی بھی ممکنہ کاروائی کیلئے اپنا جنگی بحری بیڑا خلیج میں تعینات کر دیا۔

14 ستمبر 2019ء کو سعودی عرب میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والی دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو کے 2 پلانٹس پر ڈرون حملے ہوئے جس کی ذمہ داری حوثی باغیوں نے قبول کی لیکن امریکہ اور سعودی عرب نے الزام عائد کیا کہ ایران اس میں براہ راست ملوث ہے۔ اس حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کا ردعمل دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن نے اہداف لاک اور لوڈ کر لیے ہیں بلکہ ایک موقع پر تو صدر ٹرمپ نے حملے کا حکم بھی دیدیا جسے عملی جامہ پہنائے جانے سے چند لمحے قبل ہی پنٹاگان میں شامل سینئر مشیروں کی مداخلت پر واپیس لے لیا گیا۔

اس دوران دونوں جانب سے تندوتیز بیانات اور الزامات کا سلسلہ جاری رہا۔ صورتحال نے اس وقت خطرنا ک رخ اختیار کر لیا جب امریکہ نے تحقیق کئے بغیر ہی اپنے ایک کنٹریکٹر کے قتل کا الزام لگا کر عراق میں ایرانی حلیف ملیشیا پر میزائلوں سے حملہ کر دیا اور 25 اہلکار ہلاک اور 51 زخمی کر دیئے۔ صدر ٹرمپ نے یہیں پر بس نہیں کیا بلکہ ایک اور جارحانہ اقدام اٹھایا جس کے نتیجے میں پورا مشرق وسطیٰ جنگ کے دہانے پر آ کھڑا ہوا۔

31 دسمبر 2019ء کو بغداد میں ہزاروں مظاہرین اور ملیشیا کے جنگجوؤں نے جب اپنے 25 اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف امریکی سفارتخانے کے باہر احتجاج کیا تو امریکہ جیسے بہانے کی تلاش میں تھا ۔احتجاج کے دوران کوئی امریکی ہلاکت نہیں ہوئی اس کے باوجود امریکہ نے معاملے کو خوب اچھالا اورالزام عائد کیا کہ مظاہرین کو ایران کی پشت پناہی حاصل ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکم جنوری 2020ء کو ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو اس حملے میں ہونے والے کسی بھی جانی اور مالی نقصان کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی، یہ محض وارننگ نہیں بلکہ دھمکی ہے۔ اس کے بعدامریکہ نے وہ قدم اٹھایا جو تاریخ یاد رکھے گی۔

صدرِامریکہ نے 3 جنوری 2020ء کو عراق میں ڈرون حملے کے ذریعے ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی کو ہلاک کروا دیا ، قاسم سلیمانی کوئی عام جنرل نہیں تھے بلکہ ایرانی عوام میں انتہائی مقبول ہونے کے ساتھ ساتھ خطے کے دیگر ممالک عراق، شام، لبنان ،افغانستان اور فلسطین میں بھی خاصے بااثر تھے۔ یہیں پر بس نہیں صدر ٹرمپ نےایرانی قوم کے زخم پر نمک چھڑکتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ میرے حکم پر امریکی افواج نے دنیا کے نمبرون دہشتگرد کو ہلاک کیا جو کہ امریکی سفارتکاروں اور فوجیوں پر حملے کی منصوبہ بندی اور ایران میں حکومت مخالف مظاہروں میں شریک شہریوں کے قتل میں بھی ملوث تھا۔

یہ امریکہ کا ایسا اقدام تھا جس نے بعد ازاں خود ٹرمپ قیادت کو بھی پریشان کر دیا، ایرانی قوم کی جانب سے اتنا شدید ردعمل آیا جس کی خود امریکی حکام کو بھی توقع نہیں تھی، ایران کے کئی شہروں میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور انتقام کا مطالبہ کرنے لگے، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے نہ صرف امریکہ سے بدلہ لینے کے اعلان کیا بلکہ یورپ کے ساتھ جاری ایٹمی معاہدے بھی منسوخ کر دیا۔ ایران کے پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈر جنرل غلام علی ابو حمزہ کی طرف سے35 امریکی اہداف کے ساتھ اسرائیلی دارلحکومت تل اببیب کو تباہ کرنے کی دھمکی دے دی۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو باون مقامات سے نشانہ بنانے اور سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کیلئے ایرانی وزیرخارجہ جوادظریف کو ویزہ نہ جاری کرنے جیسے غیر ذمہ دارانہ اقدامت شروع کر دیئے جنہوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔

آخر ایران نے خطرناک اقدام کرتے ہوئے عراق میں موجود 2امریکی اڈوں پر میزائل حملے کر دیئے جس سے جنگ جیسی صورتحال پیدا ہو گئی جس کی تپش ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے پاکستان میں محسوس کئے جانا لازم تھا۔ اس صورتحال سے دنیا بھر میں تیل اور سونے کی قیمتیں بڑھ گئیں، سٹاک مارکیٹس کریش کر گئیں اور خلیج میں ایک مرتبہ پھر تباہی و بربادی کے بادل منڈلانے لگے۔ ایسے میں ہمیشہ کی طرح مشکل وقت میں امریکہ کو پاکستان کی یاد آئی اور امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو اور وزیردفاع مارک ایسپر نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے رابطہ کیا اور خطے میں کشیدگی سے متعلق تبادلہ خیال کے دوران دبے لفظوں میں حمایت چاہی۔

تاہم آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکہ کو اس مرتبہ صاف صاف کہہ دیا کہ پاکستان خطے میں کسی ملک کی بجائے صرف امن کاساتھ دے گا، وزیراعظم عمران خان اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی اپنے بیانات میں امریکہ کو باور کروا دیا کہ پاکستان خطے کے کسی ملک کیخلاف جنگی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی اپنی سرزمین استعمال کرنے دے گا ۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان نے وقتی طور پر تو غیر جانبداری کا موقف اختیار کر کے مصیبت ٹال دی اورخوش قسمتی سے خطے میں فوری جنگ کے خطرات بھی ختم ہو گئے ہیں تاہم عالمی سیاست میں حالات بدلتے دیر نہیں لگتی، پاکستانی حکومت کو قدرت کی طرف سے مہلت مل گئی ہے کہ اگر خطے میں دوبارہ جنگ جیسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس ہماری خارجہ پالیسی کون سی سمت اختیار کرے اس طرح کہ ہم صرف اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کریں نہ کہ بیرونی طاقتوں کے ہاتھ میں کھیل کر اپنے ہاتھ دوبارہ پرائی جنگ کی آگ میں جلا دیں۔

کسی ممکنہ جنگ میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہو گا ، حکومت کیلئے فیصلہ کرنا مشکل ضرورہو گا کیونکہ اس وقت دنیا دو بلاکس میں تقسیم نظر آرہی ہے اور ان دونوں بلاکس کے حامیوں کی کثیر تعداد پاکستان میں پائی جاتی ہے۔ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت نے اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عزم کا اعادہ تو کیا ہےلیکن یہ کتنا مضبوط اور موثر ثابت ہوگا یہ تو وقت ہی بتا سکتا ہے ۔اس لئے ضروری ہے کہ پی تی آئی حکومت مستقبل کے چیلنجز سے نبردآزما ہونے کیلئے جمہوری روایات ملحوظ خاطر رکھے اور اپوزیشن کیساتھ ساتھ تمام مسالک کی مذہبی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر داخلی طور پر مضبوط پوزیشن اختیار کر کے پائیدار فیصلے کرے جس کیلئے تمام ریاستی اداروں کا ایک پیج پر ہونا بھی بہت ضروری ہے۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

احتشام اللہ ایک نوجوان لکھاری ہیں جو حالات حاضرہ اور سیاسی پیش رفت پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔۔۔ بلاگز میں ذاتی آرا کا اظہار کرتے ہیں، جس کا کسی سیاسی جماعت یا ادارے کی راۓ سے کوئی تعلق نہیں۔۔۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.