نقاش کہاں چلا گیا؟

4,555

وہ خوش شکل اور خوش عقل ہونے کے ساتھ ساتھ بہت محنتی اور ثابت قدم طالب علم تھا۔ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہونے کے ناتے والدین کی بہت سی امیدیں اسی سے وابستہ تھیں۔ اسکا تعلق گوجرانوالہ شہر کے بہت ہی شریف اور عزت دار گھرانے سے تھا۔ تھانہ کچہری کے معاملات کیا ہوتے ہیں، اس ملک کا زنگ آلودہ نظام کتنا بھیانک ہے وہ یہ نہیں جانتے۔ 2 جون کی درمیانی شب ایک ٹیلی فون کال نے مطلع کیا کہ نقاش اب نہیں رہا۔

کیا؟ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ اسے کیا ہو سکتا ہے؟

بس وہ اپنے میڈیکل کالج کے ہاسٹل کی چھت سے پھسل کر نیچے گرا اور یوں جاں بحق ہو گیا۔

یہ واقعہ لکھتے ہوئے تو میری قلم کے قدم رک رہے ہیں۔

ٹی-وی کی جانب رخ کیا تو سوائے ایک آدھ نجی چینل کے کہیں سے کوئی خبر موصول نہ ہوئی، اور حیرت کی بات تو یہ کہ جو ٹی-وی چینل یہ خبر چلا رہے تھے وہاں سے بھی یہ خبر غائب ہو گئی۔ زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا، اس کا مجھے کوئی علم نہیں، نہ پوسٹ مارٹم ہوا نہ کوئی پولیس کارروائی اور نہ ہی کوئی تفتیش ، اور ہوتا بھی کیوں؟ وہ کونسا کسی ایم -این-اے یا گلو بٹ کا اوباش بیٹا تھا۔ وہ تو محض ایک شریف آدمی کا محنتی اور قابل بیٹا تھا، جو اس ملک کا حقیقی اساسہ تھا، جس نے مستقبل میں اس قوم کی خدمت کرنی تھی، پر ہمیں ایسے نوجوانوں کی کوئی ضرورت نہیں، ہمیں بلاول اور حمزہ جیسے ذہین لوگوں کی فکر اور انتظار ہے۔

اس کے ساتھ رہنے والے طلبہ سے معلوم ہوا کہ جب وہ زمین پر لیٹا اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہا تھا تو اس کے کالج کا پرنسپل کہنے لگا ‘بیان ریکارڈ کرواؤ کہ تم نے خود کشی کی ہے’، اور پولیس کو بھی اس نے یہی کہہ کر ٹرخا دیا کہ یہ ایک نشئی اور آدھے ذہن کا مالک اوباش لڑکا تھا، جس نے ناجانے کس وجہ کے تحت موت کو اپنے گلے لگا لیا۔

یہ ہمارے اخلاقی زوال کی بے شمار داستانوں میں سے ایک داستان ہے۔ آج ہم اخلاقی پسماندگی میں وہاں پہنچ چکے ہیں جہاں سے ظلمتوں کے پہاڑ بھی اک لکیر نظر آتے ہیں۔

وکیل کا سچ بک گیا، جج کا انصاف بک گیا، ڈاکٹر مریض کو کسٹمر اور کلائنٹ کے طور پر ٹریٹ کرنے لگے، علم فروشی اک پیشہ بن گئی جہاں امیر پیسے دے کر کاغذ کی ڈگریاں خریدنے لگے۔ پیسے کی ہوس کی بدولت بچے کے دودھ سے لے کر بستر مرگ پر پڑے ہوئے مریض کی دوائی تک ہر اک شے ملاوٹ شدہ ہو گئی۔

مجھے نہیں پتہ نقاش کی موت کیسے ہوئی، اور نہ ہی اس کے عزیز یہ بات جانتے ہیں، لیکن میں ایک بات پورے وثوق کے ساتھ اور قسماً کہہ سکتا ہوں کہ اگر انصاف اور عدلیہ تک رسائی ہر انسان کے لئے برابرنہ ہوئی، قانون سب کے لئے برابر نہ ہوا، ایس-ایچ-او اور تھانے دار کا رویہ عام شہری اور بااثر لوگوں کے لئے یکساں نہ ہوا تو یہ معاشرہ بد سے بدتر ہونے کی راہ پر گامزن رہے گا۔

الله نقاش کو غریق رحمت کرے اور اسکے خاندان اور دوستوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

نوٹ: مصنف کے اصرار پر ان کا نام ظاہر نہیں کیا جا رہا

بلاگر کی درخواست پر ان کا نام صیغہ راز میں رکھا جا رہا ہے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. M-15 کہتے ہیں

    Don’t know who you are and from where u are ……. but recalled us of the immortal memories …… may ALLAH bless him with jannat ….. ameen ….. and the point must be raised so that no other child becomes the front page ……

تبصرے بند ہیں.