مادی ترقی کے نظریات کا حقائق سے موازنہ

1,586

اگر ہم جنون کی کشمکش سے نکل کر تاریخ کے بہتے دریا کی منجدھار میں ڈوب کر ماضی کے واقعات کا جائزہ لیں تو ایک فیصلہ کن موڑ پر آن پہنچیں گے۔ کاش نوع بشر کی توجہ اس جانب بھی مبذول ہو جائے کہ مادّی ترقی کے مختلف نظریات کئی دہائیاں قبل کس طرح وجود میں آئے تھے۔

اس کرہ ارض پر مسیحیت کے دوبڑے گروہ تھے، جن میں سے رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ تھے۔ سولہویں صدی میں عیسائی راہب مارٹن لوتھر (1483ء-1546ء) کی قیادت میں اس فرقے نے جنم لیا تھا۔ یہ فرقہ بنیادی طور پر جدیدیت کا حامی تھا جبکہ رومن کیتھولک روایتی مذہبی اقدار کے پیروکار تھے۔ پروٹسٹنٹ نے لوگوں کی اصلاح کے لیے تحریک چلائی تھی جو “پروٹسٹنٹ اصلاحِ کلیسیا” کہلاتی ہے۔ اس تحریک کی ساخت تحریک تنقیدی عقلی دلائل پر انحصار کرتی تھی۔ اس فرقے کے جنم لینے کی اہم وجہ یہ تھی کہ تمام اختیارات پوپ کے پاس ہوتے تھے، سائنس کے تعامل میں مذہب کی وضاحت کرنے پر سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ چنانچہ31 اکتوبر 1517 مارٹن لوتھر ہی نہیں بلکہ مسیحیت کی تاریخ کا بھی اہم دن تھا۔ اس دن مارٹن لوتھر نے باقاعدہ طور پر پوپ کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا تھا تاہم 1546 میں لوتھر کا انتقال ہو گیا۔ لیکن ان کی تحریک کے مقاصد لوگوں کے سینے میں راسخ ہوگئے تھے لہذا ان کے حامیوں نے اس تحریک کومزید آگے بڑھایا تھا۔

مارٹن لوتھر کی اس اصلاحی تحریک کے نتیجے میں لوگ بد عنوان مسیحی علما کے خلاف متحد ہوگئے تھے جن وجوہات کی وجہ سے لوگ کلیسا سے دور ہوتے جا رہے تھے اور ان کے احکامات ماننے سے انکار کر رہے تھے۔ چونکہ یورپ کی تمام طاقتیں مذہب اور سیاست کی بنیاد پر 17 ویں صدی میں ایک دوسرے کے خلاف نبردآزما تھیں۔ مغرب میں ہالینڈ کے علاقے، جو اس وقت اسپین کی حکومت کے ماتحت تھے اپنی آزادی کے لیے 80 سالہ جنگ لڑ رہے تھے۔ یہ جنگ (1568ء-1648ء) پر محیط تھی جس کو ڈچ یا ولندیزی بغاوت بھی کہا جاتا ہے۔
چنانچہ بعض کیتھولک حامیوں نے چرچ کی اصلاح کرنے کی غرض سے آسٹریا کے مقام ٹرنٹ پر 1545 اور 1552 میں کونسلز کا انعقاد کیا۔ اس کا ایجنڈا یہ تھا کہ عوام کو کلیسا کے نزدیک لایا جائے مگر اس کونسل میں پوپ کے اختیارات کو باقی رکھا گیا تھا۔ پادریوں کی اخلاقی تربیت کے قوانین بھی مرتب کیے گئے تھے۔ مگر معاملات کی تفتیش کے لیے جس کو مقرر کیا جاتا تھا وہ پروٹسٹنٹ مسلک کا اقرار کرتا تو اسے سخت سزا دی جاتی تھی۔

اس مذہبی معتصبانہ برتاؤ کی وجہ سے یورپ میں جنگ شروع ہوگئی تھی۔ رومی سلطنت کے شہنشاه کی خواہش تھی کہ کیتھولک غالب رہیں جبکہ دیگر ریاستیں جو اس سلطنت کی تھیں، وہ پروٹسٹنٹ کہلاتے اور کیتھولک کے مخالف تھے۔ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کی یہ نظریاتی جنگ جاری رہی جو کہ 30 سالہ جنگ (1618ء-1648ء) کے نام سے موسوم ہے۔ جس میں تقریباً 80 لاکھ افراد کی ہلاکتیں ہوئی تھیں مگر بات اس حد تک چلی گئی تھی کہ یورپ پر حکمرانی کون کرے گا۔

لہذا چند اکابرین نے یہ سوچا کہ ایک کانفرنس منعقد کی جائے جس میں اس مذہبی سیاسی جنگ سے باہر نکلنے کا حل تلاش کیا جائے۔ صدیوں پر محیط جنگ سے کئی علاقوں پر بدترین اثرات مرتب ہوئے تھے، ساتھ ہی ساتھ بھوک و افلاس کی وجہ سے ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے تھے۔ دونوں گروہ شدید اختلافات کی بنیاد پر ایک دوسرے سے ملنا بھی نہیں چاہتے تھے۔ لہذا طے پایا کہ کیتھولک گروہ کے نمائندے میونسٹر شہر، جہاں کیتھولک کے پیروکار کثیر تعداد میں تھے جبکہ پروٹسٹنٹ گروہ کے نمائندے شمال میں 80 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اوسنابروک شہر میں متجمع ہوں گے۔

اس کانفرنس کو جنگ میں بھی جاری رکھا گیا۔ سال 1643 تا 1649 کے عرصہ پر محیط اس کانفرنس میں 16 یورپی ممالک، 140 آزاد ریاستوں نے حصہ لیا۔ یوں شورش کا سدباب کرکے تاریخ کے اوراق پر معاہدہ ویسٹ فیلیا نقش ہو گیا۔

اس معاہدے کے بعد یورپ کی اقوام مذہبی اور سیاسی نظریات کی قید سے آزاد ہوکر خودساختہ تہذیب کے ساتھ سترہویں صدی تک اپنی زندگی کو بسر کرنے پر آمادہ ہوچکی تھیں۔ جب انسان عقلیت کی بنیاد نئی نئی ایجادات کرنے لگا تو اس کو مادیت کا نام دیا گیا تھا۔ مذکورہ بالا اقتباس میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ مارٹن لوتھر نے جس طرح مذہب اور سائنس کے درمیان جو شعور بیدار کیا تھا، اس کے نتیجے میں”خدا کی مرضی“ اور ”انسان کی مرضی“ کے دو نظريات سامنے آئے تھے۔

دراصل خدا کی مرضی کے نظریئے کے مطابق انسان خدا کی مرضی کے بغیر کوئی بھی عمل انجام نہیں دے سکتا، جس میں خدا کی بنائے گئے قوانین پر عمل کرنا لازمی ہوتا ہے۔ اس کے تحت اپنی سوچ کو وہ خدا کے نظریات کے متضاد نہیں لا سکتا خواہ وہ انسان خدا کا جو بھی تصور رکھتا ہو۔ جبکہ انسان کی مرضی کا نظریہ جو “پروٹسٹنٹ اصلاحِ کلیسیا” سے متعلق تھا، خدا کی مرضی کے نظریئے کے الٹ تھا۔

انسان کی مرضی کے نظریئے نے خودساختہ خیالات کو تشکیل دیا اور اس بنیاد پر وہ مادیت کی جانب متوجہ ہوا۔ اسی دوران صنعتی انقلاب نے زور پکڑ لیا تھا جس کی وجہ سے مادی ترقی میں مزید تیزی آ گئی تھی۔ غرض کہ دنیا تیزی سے مادی ترقی کی جانب بڑھنے لگی اور اب صورتحال یہ ہے کہ مغرب (یورپ) سے متعلق کچھ مفکر اس ترقی کو مذہب سے علیحدگی کا نتیجہ قرار دینے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔

مغربی افکار کے مطابق انسان کی مرضی کا نظریہ اپنا کر ہی ترقی کی جا سکتی ہے، اس کا ثبوت وہ اپنی موجودہ صنعتی ترقی سے دینا چاہتے ہیں جس کے بل بوتے پر وہ نہ صرف چاند بلکہ اب مریخ پر پہنچ چکے ہیں اور اس سے آگے بھی نئی منزلیں تلاش کرنے کی فکر میں نظر آتے ہیں۔

تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کتنے ہی مسلمان سائنسدان ہیں جن کی تحقیق و نظریات پر آج کی سائنس کی عمارت کھڑی ہے۔ ابن الہیثم وہ مسلم سائنسدان ہیں جنہوں نے تاریخ انسانی میں پہلی دفعہ یہ سائنسی حقیقیت آشکار کی کہ انسانی آنکھ جو منظر دیکھتی ہے اس کا عکس خود آنکھ میں نیہں بلکہ دماغ میں بنتا ہے۔ مناظریات اور بصریات کے اصول متعین کرنے پر انہیں بابائے علم بصریات بھی کہا جاتا ہے۔ ان کی کتاب، کتاب المناظر کا اطالوی زبان میں بھی ترجمہ کیا گیا جو بعدازاں وہاں پڑھائی بھی جاتی رہی۔ ابن االہثیم، علم تحقیق کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرتے ہوئے مفروضے کو سائنسی تجربات اور قابل تصدیق ریاضیاتی اصولوں کے ذریعے ثابت کرنے کے قواعد متعارف کرانے کے حق میں تھے۔

ابن سینا نےعلم طبیعات میں تجرباتی علم کو سب سے معتبر سمجھا۔ وہ پہلے طبیعات دان تھے جنہوں نے کہا کہ روشنی کی رفتار لا محدود نہیں بلکہ اس کی ایک معین رفتار ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے آنکھ کی فزیالوجی اور اناٹومی بیان کی اور آنکھ کے اندر موجود تمام رگوں اور پٹھوں کو تفصیل سے بیان کیا۔ انہوں نے اپنی تحقیق سے بتایا کہ سمندر میں پتھر کیسے بنتے ہیں نیز سمندر کے مردہ جانوروں کی ہڈیاں پتھر کیسے بنتی ہیں۔

ابو الحسن طبری نے خارش کا سبب بننے والے کیڑوں کو دریافت کیا تھا۔ کوپرنیکس سے صدیوں پہلے شام کے سائنسدان علاؤ الدین ابن شاطر نے تیرھویں صدی میں انکشاف کیا تھا کہ سورج اگرچہ آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے مگر اس کے باوجود زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے۔ ابو القاسم زہراوی نے دو سو سے زیادہ سرجری آلات ایجاد کئے تھے۔ وہ پہلے سرجن تھے جنہوں نے کہا تھا کہ گھوڑے کی آنتوں سے بنے ٹانکے قدرتی طور پر جسم میں تحلیل ہو جاتے ہیں۔ یہ سارے وہ لوگ تھے جو پکے مسلمان تھے اور انسان کی مرضی کے نظریئے کے برخلاف اسلام کے عقائد پر کاربند تھے اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے یہ ساری سائنسی تحقیق کیں جو بعد ازاں جدید سائنس کی بنیاد بنیں۔ لہذا یہ کہنا کہ خدا یا خالق کائنات کے اصول اپنانے سے دنیا میں ترقی نہیں ہو سکتی، ایک باطل خیال ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

خطیب احمد طالب علم ہیں۔ صحافت اور اردو ادب سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ سماجی مسائل پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ فن خطابت سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.