کاشانہ سکینڈل پر کلین چٹ، کئی سوال کھڑے ہو گئے

2,193

گئے وقتوں میں دسمبر پر ہونے والی شاعری اداس ہونے کا سبب بن جاتی تھی، مگر جب سے عملی زندگی میں آئے تو جہاں دیگر بہت سی چیزیں بدلیں، وہیں اداس ہونے کی وجوہات بھی بدل گئیں۔ اب شاعری پڑھنے کی اول تو فرصت ہی نہیں ملتی اور اگر مل جائے تو اس شاعری پر اداس ہونے کو دل نہیں کرتا کہ اب معیاری شاعری ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا، دسمبر بڑی تیزی سے اپنے اختتام کی جانب گامزن تھا کہ 28 دسمبر کو آنے والی اس خبر نے کہ “کاشانہ سکینڈل میں پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر بیت المال اجمل چیمہ کو ڈاکٹر راحیل صدیق کی سربراہی میں کام کرنے والی انسپکشن ٹیم نے انکوائری کے بعد کلین چٹ دے دی”۔

یوں بظاہر تو یہ معاملہ انجام کو پہنچ گیا مگر ملک کے سنجیدہ حلقوں کے لیے سوالیہ نشان ضرور چھوڑ گیا کہ بالآخر سچا ہے کون۔ کاشانہ کی وہ خاتون انچارج جنہوں نے یتیم بچیوں کے تحفظ کے لیے اپنی نوکری کی پرواہ کیے بغیر جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق بلند کیا یا پھر محترم جناب اجمل چیمہ صاحب، جن کی شرافت کی گواہی سینئر صحافیوں سمیت معززین سیاست دے رہے ہیں اور جن کو انکوائری کے بعد دودھ کا دھلا بھی قرار دے دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ کاشانہ سے متعلق گذشتہ ادوار میں بھی منفی خبریں اخبارات کی زینت بنتی رہی ہیں مگر کوئی قابل ذکر کارروائی نہ ہو سکی۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ خاتون انچارج کے شوہر بے روزگار ہیں اور زندگی کی گاڑی صرف خاتون کی نوکری کی بدولت ہی چلتی ہے، اس کے باوجود طاقت کے مراکز سے ٹکرا جانے کا کام انہوں نے بڑے حوصلے سے انجام دیا ہے۔

اس سے پہلے کہ بات آگے بڑھے کاشانہ کے بارے میں عرض کرتا چلوں کہ یہ ادارہ 1971 کی جنگ میں بے آسرا ہونے والی بچیوں کو سہارا دینے کے لیے 1974 میں قائم کیا گیا، ادارے میں 57 بچیاں جو یا تو یتیم ہیں یا جن کے والدین اخراجات اٹھانے سے معذوری کے سبب یہاں چھوڑ گئے، رہائش پذیر ہیں۔ کاشانہ کے علاوہ بھی ملک بھر میں یتیم خانے قائم ہیں جن کی ضروریات مخیر حضرات کے تعاون سے پوری کی جاتی ہے، کیونکہ اقوم متحدہ کے ادارے یونیسف کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 15 کروڑ 30 لاکھ بچے یتیم ہیں، ان بچوں میں سے 6 کروڑ صرف ایشیا میں ہیں اور پاکستان بھر میں 42 لاکھ بچے یتیم ہیں۔ اگر یہ 15 کروڑ 30 لاکھ یتیم بچے اپنے ہاتھوں کی زنجیر بنائیں تو پوری دنیا کے گرد حصار بن سکتا ہے۔

کاشانہ کی سابق انچارج کے الزامات کے بعد ہونے والے تمام تر حکومتی اقدامات اور سابق وزیر بیت المال اجمل چیمہ کو ڈاکٹر راحیل صدیق کی سربراہی میں کام کرنے والی انسپکشن ٹیم کی کلین چٹ کے بعد میرے جیسے عام آدمی کے لیے صرف ایک ہی راستہ بچا ہے کہ وہ ن لیگی رہنما اور منشیات کیس کے ملزم رانا ثنااللہ صاحب کی طرح خدائے بزرگ و برتر کے حضور دعا کرے کہ “اگر خاتون سچی ہوں اور اللہ کے فضل سے سچی ہوں تو جن پر انہوں نے الزامات لگائے ہیں، وہ لوگ اور ان کے معاونین، سہولت کار، مستفید ہونے والے تمام لوگوں پر اللہ تعالی کا قہر اور عذاب نازل ہو”۔ اور اگر سابق وزیر بیت المال اجمل چیمہ سچے ہوں اور اللہ کے فضل سے سچے ہوں تو خاتون پر اللہ کا قہر اور عذاب نازل ہو اور وہ نشان عبرت بن جائیں۔

نوٹ: ادارے کا قلمکار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

محمد عمران چوہدری کامرس گریجوئیٹ ہونے کے ساتھ ، کمپیوٹر سائنسز ،ای ایچ ایس سرٹیفیکٹس اور سیفٹی آفیسر ڈپلومہ ہولڈر ہیں۔ ایکسپریس اور جسارت نیوز میں بلاگز لکھتے ہیں ،فی الوقت ایک ملٹی سکلڈ پروفیشنل ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.