پاور لومز کے ٹھنڈے کارخانے اور مہنگائی کا جن 

656

پاور لومزانڈسٹری نے برسوں توانائی بحران کا سامنا کرنے کی مشکل سےچھٹکارا پانے کے بعد سر اٹھاناشروع ہی کیا تھا کہ موجودہ دور حکومت میں یہ صنعت ایک بار پھر مسائل کے بھنور میں پھنسنا شرو ع ہوگئی  اورچند ماہ کے وقفے کے بعد ہی رہی سہی کسر پولیسٹر پر عائد کی جانیوالی 36 فیصد امپورٹ ڈیوٹیوں نے نکالی ۔پاور لومز انڈسٹری بھاری ٹیکسوں کی زد میں آگئی جس کے باعث کاروباری افراد کیلئے کام کرنا مشکل ہوگیا ،مزدوروں کی تنخواہوں ،پیدواری لاگت کے ساتھ  ٹیکسوں نے فیکٹری مالکان کو امتحان میں ڈال دیا ،صرف یہی نہیں فیکٹری مالکان کیلئے پہلے سے عائد موٹر ٹیکس ،پروفیشنل ٹیکس ،پراپرٹی ٹیکس ،شہری دفاع اور سوشل سکیورٹی کی فیسیں دینے کا عمل بھی مشکل ہوگیا ۔منافع کم اور اخراجات زیادہ ہوئے تو فیکٹری مالکان کیلئے طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنا مشکل ہوگیا ،نومبر 2018 میں فیکٹریوں کو تالے لگنے شروع ہوگئے ، تالے لگنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔موجودہ دو رحکومت میں پاورلومز انڈسٹری کو دیگر کئی چیلنجز درپیش ہوگئے ،مختلف مدتوں کے دوران حکومت کی جانب سے پاورلومز کی مشینری میں استعمال ہونے والے دھاگے پر امپورٹ 17 فیصد ڈیوٹی ،ریگولیٹر ی ڈیوٹی اور کسٹم ڈیوٹی عائد کردی گئیں ۔چیئرمین پاورلومز ایسوسی ایشن  ملتان کے چیئرمین عبدالخالق قندیل انصاری نے کہاکہ اب تک تین سو سے زائد فیکٹریاں بند ہوگئی ہیں اور ان میں کا م کرنیوالے ہزاروں مزدوروں کو نوکریوں سے فارغ کردیا گیا ہے ۔ٹیکسوں کا بوجھ کم نہیں ہوا تھا کہ کاٹن کی پیدوار میں کمی اور ری ایکسپورٹ کی سہولت کے غلط استعمال نے مسائل بڑھا دیئے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت 14 ملین گانٹھ کاٹن کی ضرورت ہے جبکہ پیدوار10 ملین گانٹھ ہے ،4 ملین گانٹھ ضرورت کو پورا کرنے کیلئے دوسرےملک سے کاٹن منگوانا پڑتی ہے ۔ عبد الخالق قندیل انصاری نے مزید کہا کہ پچھلی حکومتوں کے دور سے پاورلومز انڈسٹری بحرانوں کا شکار چلی آرہی تھی لیکن موجودہ حکمرانوں نے انڈسٹری کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دیا ہے۔جلد احتجاجی تحریک کو پورے پاکستان تک پھیلا دیا جائے گا ۔پاورلومزمزدور گزشتہ 20 سے 25 سالوں سے پاورلومز پر کام کررہے ہیں جو نوکری سے فارغ ہوئے اب تو وہ کوئی اور کام نہیں جانتے اب وہ کہاں جائیں جبکہ جو مزدور کام کررہے ہیں ان کی آمدن اتنی کم ہے کہ گھر کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے۔پاورلومز سیکٹر میں جتنے گھنٹے کام کریں اس حساب سے پیسے ملتے ہیں ،دیہاڑی دار مزدور دکانوں سے چند کلو آٹا اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء ادھار لیتے ہیں اور پھر پیسے ملنے پر ادھار ادا کرتے ہیں کئی مزدور تومقروض ہوچکے ہیں اور گھروں کی اشیاء بیچ بیچ کر گزار ا کررہے ہیں ۔مزدور لیڈر بابا لطیف انصاری نےکہا ہے کہ مزدوروں کے حقوق کیلئے تحریک چلا رہے ہیں اور نئی حکومت سے امیدیں لگا کر بیٹھے ہیں یہ حکومت گزشتہ حکومتوں کے لگائے گئے بے جا ٹیکسوں کا خاتمہ کرے گی ۔ان ٹیکسوں کے خاتمے سے یہ انڈسٹری اپنے پاوں پر کھڑی ہوسکتی ہے مگریہاں سب کام الٹے ہو رہے ہیں۔۔کلاتھ مارکیٹ ایسوسی ایشن کے عہدیدار حمزہ احمد ہے کہ پاورلومز کی بندش اور کام متاثر ہونے سے کپڑ ے کے ریٹس بڑھے ہیں اور اس کا بوجھ عام آدمی پر پڑا ہے ۔اگر پاورلومز انڈسٹری میں کام چلے تو کپڑے کی قیمتیں کم ہوسکتی ہیں ۔اس سلسلہ میں ویمن چیمبر آف کامرس ملتان کی صدر عنبرین عباس کے مطابق چمبرکے پلیٹ فارم سے پاورلومز فیکٹریوں کے ایشوپر آواز اٹھائی جارہی ہے ۔حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ٹیکسوں میں کمی کی جائے تاکہ یہ فیکٹریان چلیں ۔روز گار کے مواقع پیدا ہوں ۔اور بے روزگار کم ہو۔واضح رہے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی پہچان پاورلوم انڈسٹری سے ہے۔ ٹریڈر کی رجسٹریشن کا معاملہ حل نہ ہونے اور سستی بجلی کی عدم فراہمی پر ملتان میں مالکان نے پاورلوم انڈسٹری کو تالے لگا دئیے، ایک لاکھ سے زائد پاورلومز بند ہیں جس سے لاکھوں مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں۔ مڈل مین کی رجسٹریشن نا ہونے سے مالکان اپنی جیب سے 17 فیصد سیلز ٹیکس ادا کررہے ہیں جبکہ حکومت نے ساڑھے 7 سینٹ فی یونٹ بجلی کی فراہمی کا مطالبہ بھی پورا نہیں کیا۔ کئی مالکان نے اپنی فیکٹریاں کباڑ لوہے کے بھاؤ بیچنا شروع کردی ہیں۔فیکٹری مالکان نے شہر کے مختلف مقامات پر بینر زآویزا ں کردیئے ہیں جن پر لکھا ہے کہ پاورلومز مشینری ٹماٹروں سے بھی فی کلو سستی ہے ۔8-2007 میں ملتان پاورلومز مشینری کی تعداد 2 لاکھ سے تجاوز کرگئی اور ان کے ساتھ براہ راست کام کرنیوالے مزدوروں کی تعداد 70ہزار ہوگئی تھی،2008 سے2013 کے  درمیان بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث اس شعبے میں پیدواری کام متاثر رہا،مزدوروں نے شہر بھر کی سڑکیں بلاک کرکے احتجاج کئے جبکہ مالکان بھی کئی احتجاجی تحریکیں چلائیں جن کے بعد اس انڈسٹری کو کسی حدتک ریلیف دیا گیا ۔ ملتان سمیت پنجاب کے متعددعلاقوں میں پاورلومز فیکٹریاں 1960 کی دہائی میں قائم ہوئیں، ان فیکٹریوں کے قیام سے بے روزگار،مزدور طبقہ اورناخواندہ افراد کیلئے روز گار کے مواقع پیدا ہوئے۔جو وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہو رہے ہیں موجودہ دور حکومت میں نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ایک وقت میں منافع بخش کاروبار آج خسارے سے دور چار ہو کر اس سے وابستہ افرادکے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر چکا ہے

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.