اکھنڈ بھارت سے تقسیمِ بھارت تک کا سفر

1,128

ایک وقت تھا جب بھارت میں بسنے والے لوگوں کا یہ موقف تھا کہ ہندوستان کو مذہب کی بنیا پر دو الگ الگ ریاستوں پاکستان اور بھارت میں تقسیم کرکے گوروں نے زیادتی کی ہے۔ ہندو اور مسلمان صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں لہذا انہیں الگ الگ ملکوں کی ضرورت نہیں۔ نام نہاد بھارتی دانشور یہ دعویٰ کرتے تھے کہ دیکھ لینا ایک دن پاکستان دوبارہ بھارت میں ضم ہوکر رہے گا۔ اگرچہ یہ دعوے ماضی کا حصہ ہیں لیکن اب شاید یہ دعویٰ کوئی نہ کرسکے کیونکہ بھارت میں نریندر مودی کی حکومت نے ایسے حالات پیدا کر دئیے ہیں کہ اب بھارت میں بسنے والے مسلمان خود ہی پکار اٹھے ہیں کہ ستر سال پہلے قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے جو کہا تھا وہ سچ ہی کہا تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں اور انہیں رہنے کے لئے بھی دو الگ الگ ریاستیں درکار ہیں۔

بھارتی مسلمانوں کے نظریات میں اتنی بڑی تبدیلی کے پیچھے نریندر مودی کی حکومت کے مسلمان مخالف اقدامات ہیں۔ نریندر مودی کی حکومت نے جب بھارتی پارلیمنٹ میں متنازع شہریت بل منظور کروایا تھا تو اسکے ردعمل میں سب سے پہلے صوبہ آسام میں مظاہرے ہوئے لیکن سوال یہ ہے کہ یہ مظاہرے صوبہ آسام میں ہی سب سے پہلے کیوں شروع ہوئے؟ یہ لاوا کسی اور جگہ سے کیوں نہیں نکلا؟ تو اسکی وجہ یہ ہے کہ صوبہ آسام میں نریندر مودی کی حکومت پہلے ہی ایک مسلم مخالف اور اقلیت مخالف قانون جسے این آر سی کہتے ہیں متعارف کروا چکی تھی جسکی بدولت تقریبا 20 لاکھ مسلمانوں اور ہندوؤں کو غیر ملکی قرار دیا جاچکا تھا۔

این آر سی کی بدولت جن ہندوؤں کو غیر ملکی قرار دیا گیا تھا ان کو یہ بھی یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ آپ لوگوں کو دوبارہ شہریت دینے کے لئے ایک نیا قانون لاگو کیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اب سی اے اے یعنی شہریت قانون لایا گیا ہے لیکن ان تمام اقدامات کے باجود بھی سب سے پہلے ریاست آسام میں ہی مظاہروں کی شروعات ہوئی۔ جب یہ مظاہرے شروع ہوئے تو نریندر مودی کی حکومت نے ان کو روکنے کے لئے مظاہرین پر گولیاں برسائیں جس کی بدولت کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

بھارتی پارلیمنٹ میں اس وقت کل 545 ممبران پارلیمنٹ ہیں، ان میں مسلمانوں کی تعداد صرف اور صرف 27 ہے۔ اور ان میں سے بھی صرف اسدالدین اویسی وہ واحد مسلم لیڈر ہے جو مسلمان مخالف اقدامات پر آواز اٹھا رہا ہے۔ باقی تمام مسلمان رہنماوں کو ڈرا دھمکا کر چپ رہنے پر مجبور کردیا گیا ہے۔ اسی لئے مسلمان لیڈروں کی طرف سے کسی قسم کا ردعمل آنا تقریبا ناممکن ہو گیا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ پھر بھارت میں یہ طوفان کیوں برپا ہو گیا ہے، شہر شہر مظاہرے کیوں ہو رہے ہیں اور روز بروز ان مظاہروں میں شدت ور مظاہرین کی تعداد کیوں بڑھتی جارہی ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا جن میں کافی تعداد غیر مسلم طلبا ء و طالبات کی بھی تھی نے جب پرامن احتجاج کیا تو وفاقی وزیر داخلہ امیت شاہ کی ہدایت پر دہلی کی پولیس نے ان طلبا کو مسلمان سمجھ کر حملہ کر دیا، جس سے سیکڑوں طلباء زخمی ہوئے۔

پولیس نے نہ صرف ان طلباء پر تشدد کیا بلکہ جامعہ کی لائبریری میں گھس کر بلا امتیاز طلباء و طالبات کی خوب پٹائی کی، آنسو گیس کی شیلنگ کی جس سے کافی طلباء و طالبات شدید زخمی ہوئے۔ ان زخمیوں میں کافی بڑی تعداد میں غیر مسلم طلباء و طالبات بھی شامل تھے۔ اس واقعے کے بعد مودی حکومت کے خلاف پورے بھارت میں جگہ جگہ مظاہرے شروع ہو گئے ہیں اور صورتحال اتنی گھمبیر ہوچکی ہے کہ دارلحکومت نئی دہلی سمیت دیگربڑے بڑے شہروں مثلا چنائی، ممبئی اور کولکتہ وغیرہ میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔

بھارت میں حکومت مخلاف مظاہروں میں لوگوں کا اتنی بڑی تعداد میں شرکت کرنا تقسیم برصغیر کے بعد پہلا واقعہ ہے جس میں ہندو، مسلمان اور دیگر اقلیتوں کے لوگ برابر شریک ہوئے ہیں۔ اگرچہ ان مظاہروں میں حکومتی زیادتی کا نشانہ بننے والوں کی اکثریت مسلمان ہے لیکن دیگر اقلیتیں بھی سرکاری جبروتشدد کا نشانہ بنی ہیں۔ تاہم ہندووں اور دیگر اقلیتی گروپوں مثلا دلتوں اور سکھوں کی طرف سے مسلمانوں کو ملنے والی سپورٹ نے حکمراں جماعت کی نندیں حرام کردی ہیں اور بھارت کو ہندوریاست بنانے کے منصوبے کو زبردست دھچکا لگا ہے۔

شدید عوامی ردعمل کی بدولت نریندر مودی کی حکومت نے جگہ جگہ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر بھی پابندیاں عائد کردی ہیں جس سے ہندوستان کے شہریوں کو کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم کا احساس ہونے لگا ہے۔ بھارتی حکومت شاید حالات کو صحیح طرح پڑھنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔

بھارتی حکومت اب بھی یہی سمجھتی ہے کہ ظلم و جبر کے ذریعے سے مظاہرین کی آواز دبائی جا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف حکومتی وزراء بلکہ بھارتی پولیس بھی مسلم مظاہرین کو بھارت چھوڑنے کی دھمکی دے رہی ہے۔ اسکی تازہ ترین مثال وفاقی وزیر پٹرولیم دھرمیندر پردھان ہے جس نے دہلی میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ اب ہندوستان میں صرف وہی رہے گا جو ”ہندوستان ماتا کی جے” کہے گا۔ علاوہ ازیں انٹرنیٹ پر کئی پولیس افسران کی وڈیوز بھی وائرل ہوئی ہیں جن میں وہ مسلمانوں کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ ہندوستا ن چھوڑ کر پاکستان چلے جاؤ۔

مسئلہ یہ ہے کہ بھارتی حکومت حالات کے دھارے کو بدلتے ہوئے دیکھ تو رہی ہے لیکن سمجھنے سے قاصر ہے۔ مودی زبردستی حالات کے دھارے کو اپنی مرضی و منشاء کے مطابق بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم یہ ان کی خام خیالی ہے، انسان جو مرضی چاہے اس کو کاٹنا وہی ہوتا ہے جو اس نے بویا ہے۔ نریندر مودی نے بھارت میں نفرت کے بیج ہی بوئے ہیں۔

سانحہ گجرات میں شہید ہونیوالے نہ جانے کتنے ہی مسلمانوں کے خون سے مودی کے ہاتھ رنگے ہیں، کچھ عرصہ قبل گاو ماتا رکھشا کے نام پر سینکڑوں مسلمانوں کو مودی سرکار کی ناک کے نیچے جنونی ہندووں نے سرعام تشدد کر کے مار ڈالا، مسلمانوں اور سکھوں کو متعدد بار ریاستی قوت استعمال کر کے مظالم کا نشانہ بنایا گیا، بابری مسجد کی شہادت اور گولڈن ٹیمپل کے خونی واقعات نام نہاد بھارتی سیکولر ازم کی حقیقت آشکار کرنے کیلئے کافی ہیں۔

عیسائی بھی اقلیت ہونے کے ناطے شدت پسند ہندوؤں کے مظالم کا شکار ہیں۔ ان کے مذہبی تہواروں خصوصا کرسمس اور نیو ایئر کے مواقع اکثر ہندو انتہا پسندوں کے حملوں کی زد میں آتے ہیں۔ 2019ء میں ایسے 218 حملے رپورٹ ہوئے جن میں پولیس کی سرپرستی میں جنونی ہندووں نے گرجا گھروں پر ہلہ بول کر عیسائی شہریوں پر تشدد اور خواتین کو ہراساں کرنے کے متعدد واقعات بھی شامل ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کے مسلمان عوام 72 سالوں سے بھارتی ظلم و جبر کا شکار ہیں، آرٹیکل 370 کی منسوخی اور 140 روز سے زائد طویل کرفیو نے عوام کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے جس سے بھارت کے خلاف کشمیریوں کا غم و غصہ انتہا کو چھو رہا ہے اور جونہی صبر کا پیمانہ لبریز ہوا مقبوضہ کشمیر مودی حکومت کے قابو سے باہر ہو جائے گا۔ بھارت کی ناگا لینڈ ریاست میں بھی آزادی کی پکار عروج پر ہے، بھارتی پنجاب میں خالصتان تحریک کے علاوہ منی پور، آسام اور تریپورہ کی ریاستوں میں بھی عوام بھارتی حکومت سے برسرپیکار ہیں۔

مودی کی بھارتی حکومت نوشتہ دیوار پڑھنے سے قاصر نظر آتی ہے، جن ریاستوں میں آزادی کا خیال تک نہ تھا، عوامی جذبات کو طاقت سے دبانے اور ہندوتوا مہم کے سبب آج وہاں بھی آزادی کے نعروں کی گونج ہے۔ بھارتی مسلمانوں میں تو اب یہ سوچ زور پکڑ رہی ہے کہ دو قومی نظریہ درست تھا۔ سکھ اور عیسائیوں سمیت دوسری اقلیتیں بھی اب اسی سمت پیش قدمی میں کرتی نظر آتی ہیں۔ بھارت میں نریندر مودی نے ابھی بھی ہوش سے کام نہ لیا تو مختلف قومیتوں پر مشتمل ریاستوں کے غیر فطری اتحاد کے حامل بھارت کی تقسیم زیادہ دور نظر نہیں آتی، موجودہ اندرونی کشیدہ صورتحال اور عوام کے ریاستی اداروں سے ٹکراو کا سلسلہ جاری رہا اور آزادی کی تحریکیں مسلح جدوجہد میں بدل گئیں تو نتیجہ بھارت کی ٹوٹ پھوٹ کی صورت میں ہی نکلے گا۔ پاکستان کو واپس ہندوستان میں ضم کرنے کے خواب دیکھنے والوں کو بھی اب حقیقت کی دنیا میں واپس آ جانا چاہیئے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

Endeavoring writer, poet, blogger and columnist

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.