حالیہ برطانوی انتخابات نے بریگزٹ کی گھنٹی بجا دی

465

برطانیہ نے 1973ء میں کنزرویٹو پارٹی کے ایڈورڈ ہیتھ کے دور حکومت میں یورپی یونین کی رکنیت حاصل کی جس کی توثیق 1975 میں ایک ریفرنڈم میں عوام نے کی۔ اس وقت لیبر پارٹی کی جانب سے یورپی یونین میں شمولیت کی مخالفت کی گئی تھی تاہم بعد ازاں لیبر پارٹی نے ووٹرز کے کہنے پر اپنا موقف بدل لیا۔ اُدھر کنزرویٹو پارٹی نے یو ٹرن لیتے ہوئے یورپی یونین کی مخالفت کا ایجنڈا اپنا لیا۔ یوں کنزرویٹو پارٹی اور لیبر پارٹی کے درمیا ن یہ سیاسی جنگ چلتی رہی حتی کہ چند سال قبل2015 ء کی انتخابی مہم کے دوران ڈیوڈ کیمرون نے عوامی مطالبے پر یورپی یونین سے انخلاء کیلئے نئے ریفرنڈم کے انعقاد کا وعدہ کیا، اگرچہ وہ ایسا نہیں چاہتے تھے۔

حکومتی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے اپنی پارٹی میں موجود یورپین یونین کے حامیوں کے دباؤ پر انخلاء سال 2016 میں مکمل کرنے کا اعلان کیا، برطانوی معاشی وسائل سے یورپی یونین کا رکن ملک ہونے کے ناطے دیگر یورپی اقوام بھی برابر لطف اندوز ہو رہی تھیں جس پر برطانوی عوام سخت تشویش کا شکار تھے۔ اس سلسلے میں 23 جون 2016ء میں ایک ریفرنڈم کروایا گیا جس میں برطانوی عوام نے یورپی یونین سے انخلاء کے حق میں فیصلہ دے دیا۔

ریفرنڈم نتائج سے دلبرداشتہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے استعفیٰ دے دیا، ان کی جگہ سابق ہوم سیکرٹری تھریسا مئے نے وزرات عظمیٰ کا منصب سنبھالا اور ایک سال بعد ہی عام انتخابات کروا دیئے،2017 ء کے الیکشن میں کنزرویٹو پارٹی پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل نہ کر سکی لہذاحکومت بنانے کیلئے ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی کا سہارا لینا پڑا۔ وزیراعظم تھریسامئے کی حکومت نے یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات جون 2017 میں کیے اور اکتوبر 2018 تک انخلا کے معاہدے کو پورا کرنے کا وعدہ کیا تاہم ایسا ممکن نہ ہو سکا۔

نومبر 2018 میں برطانوی حکومت اور یورپی یونین کے درمیان مسودے کی واپسی کا معاہدہ اور آؤٹ لائن کا اعلامیہ جاری کیا گیا، 15 جنوری 2019 کو ہاؤس آف کامنز نے معاہدے کے خلاف 432 کے مقابلے 202 ووٹ دیئے جس کے سبب حکومت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، یہ برطانوی حکومت کی تاریخ کی سب سے بڑی پارلیمانی شکست ہے۔ بریگزٹ میں ناکامی پر وزیراعظم تھریسامئے نے 24 مارچ 2019 کو استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔ پارلیمنٹ میں ناکامی کے بعد تھریسامئے 7 جون کو مستعفی ہو گئیں اور کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ وہ بریگزٹ ڈیل پر عملدرآمد نہیں کروا سکیں۔

سرکاری طور پر 24 جولائی کو انھوں نے 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کا گھر چھوڑ دیا جس کے بعد ٹوری پارٹی سے بورس جانسن نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا اور بریگزٹ کے وعدے پر قائم رہے۔ بریگزٹ پر پارلیمنٹ میں پے در پے شکست کے بعد وزیر اعظم بورس جانسن نے قبل ازوقت انتخابات کا اعلان کردیا۔

ایک صدی بعد سخت سردی میں الیکشن کروانے کا فیصلہ ہوا، 12دسمبر کو برطانیہ میں گذشتہ پانچ برس سے بھی کم عرصے میں یہ تیسرے عام انتخابات تھے۔ پارلیمنٹ میں اکثریت پانے کے لیے کسی بھی پارٹی کا 326 نشستیں جیتنا ضروری ہے، برطانیہ میں تقریباً 4 کروڑ 60 لاکھ افرادرجسٹرڈووٹرز ہیں، 12 دسمبر کو دارالعوام کے لیے 650 ارکان کا چناؤ ہوا، مرد و خواتین اور نوجوانوں نے ووٹ ڈالا، ووٹنگ ٹرن آؤٹ67.3 فیصد رہا۔

انتخابی نتائج کے مطابق کنزرویٹو پارٹی نے365 سیٹیں، 43.6 فیصد ووٹ حاصل کیے لیبر پارٹی نے 203 سیٹیں، 32.2 ووٹ فیصد ووٹ حاصل کیے۔ اسکاٹش نیشنل پارٹی نے 8 سیٹیں اور 3.9 فیصد ووٹ حاصل کئے۔ لبرل ڈیمو کریٹ 11 سیٹیں لینے میں کامیاب ہوئی جب کہ اس کی رہنماء جو سونسن اپنی ہی سیٹ کا دفاع نہ کر سکیں۔ ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی8 سیٹیں اور 8.0 فیصد جبکہ دیگر چھوٹی جماعتوں اور آزاد امیدواران نے 15 سیٹیں حاصل کیں۔

برطانوی عام انتخابات میں پاکستانی نژاد امیدواروں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جنہیں کنزرویٹو، لیبر اور لبرل ڈیموکریٹ پارٹیز نے ٹکٹ دیا جبکہ کچھ امیدواروں نے آزاد حیثیت سے بھی الیکشن میں حصہ لیا۔ نازشاہ مسلسل تیسری بار بریڈ فورڈ سے رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئیں، ساجد جاوید برومس گرو سے فاتح ٹھہرے۔ خالد محمود اور طاہر علی نے برمنگھم، یاسمین قریشی نے ساؤتھ بولٹن سے کامیابی سمیٹی۔ پاکستانی نژاد زارا سلطانہ، شبانہ محمود، محمد یاسین، نصرت غنی، افضل خان، عمران احمد اور رحمان چشتی بھی اپنی نشستیں جیت گئے۔

برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اپنی سیٹ بڑے مارجن سے جیتنے میں کامیاب رہے، انہوں نے اپنے خطاب میں وعدہ کیا کہ وہ اپنے ووٹرز کے اعتماد کو مجروح نہیں کریں گے اور بغیر کسی اگر مگر کے 31 جنوری کو یورپی یونین چھوڑ دیں گے۔ بورس جانسن کو عوام کی جانب سے برطانوی معیشیت بچانے کا مینڈیٹ ملنے کے بعد یورپی یونین اور برطانیہ میں علیحدگی کی گھنٹی بج چکی ہے جو دیگر یورپی ممالک کیلئے اپنا معاشی نظام بچانے کی قابل تقلید مثال بن سکتا ہے۔

صاحبزادہ محمد سلیمان خان لکھنے کا شوق رکھتے ہیں اور دنیا نیوز سے منسلک ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.