!…سب ٹھیک ہے

619

زندگی ہر شخص کے لیے مختلف ہے، غریب کے لیے روٹی زندگی ہے، بیمار کے لیے صحت، امیر کے لیے سکون۔ ہر شخص اپنے نظریئے اور زاویئے سے زندگی کو دیکھتا اور پرکھتا ہے۔ زندگی صرف حسین خواب یا پھولوں کا ہار نہیں، بہاروں کا موسم یا تاروں بھری رات نہیں بلکہ زندگی ایک ڈراؤنی حقیقت بھی ہے، کانٹوں کی سیج بھی ہے، خزاں کی شام بھی ہے اور درد بھری داستان بھی ہے۔ یہ وہ سچائی جس سے نہ بھاگا جا سکتا ہے اور نہ اس سے انحراف کیا جا سکتا ہے۔

جہاں خوشیاں ملتی ہیں وہیں غموں کی بارش بھی رہتی ہے۔ جہاں سکھ ہے وہیں دکھ بھی ہے یا یوں کہہ لیں کہ ان دونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ آپ اور میں لاکھ کوشش کر لیں، ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنے میں ناکام رہیں گے۔ زندگی اگر کچھ دیتی ہے تو اکثر سب چھین بھی لیا کرتی ہے۔ وہ آئیڈیل صورتحال جسے ڈراموں اور فلموں میں دکھایا جاتا ہے کبھی نہیں آتی۔ شادی سے پہلے ہیرو، ہیروئین سے کہتا ہے کہ میں تمہاری زندگی جنت بنا دوں گا، سارے غم دور کر دوں گا اور پھر بعد میں وہ دونوں خود ایک دوسرے کو کوس کوس کر زندگی جہنم بنا لیتے ہیں۔ اس آئیڈیل زندگی کی چاہت میں سب مسلسل بھاگ دوڑ کرتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں کہ کوئی آئے گا اور سب ٹھیک کر دے گا مگر ایسا ہوتا نہیں۔

ہم زندگی میں کچھ مختلف، کچھ اچھا کرنا چاہتے ہیں مگر حالات کے ناساز ہونے کی وجہ سے اس انتظار میں رہتے ہوئے یہی سوچتے ہیں کہ جب سب ٹھیک ہو جائے گا تب کچھ کریں گے، مگر نہ سب ٹھیک ہوتا ہے اور نہ ہم کچھ کر پاتے ہیں۔ زندگی ایسی ہی کھٹی میٹھی ہے اور اس نے ایسے ہی رہنا ہے، ہمیں اگر کچھ کرنا ہے تو اسے ایسے ہی قبول کرتے ہوئے کرنا ہے۔ دکھ سکھ کے ساتھ ہی آگے بڑھنا پڑے گا وگرنہ ہم بس انتظار کرتے ہی رہ جائیں گے۔

آپ کو اپنی زندگی میں سب خود ہی ٹھیک کرنا ہے، آہستہ آہستہ مگر مستقل مزاجی سے، چھوٹے چھوٹے قدموں کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ زندگی میں جو تکلیف دہ لمحات ہیں ان سے راہ فرار اختیار کئے بنا ڈٹ کر سامنا کرنا ہے اور پھر مزید آگے جانا ہے۔

ہاں یہ کسی طور آسان نہیں مگر ناممکن بھی نہیں۔ خدا نے آج تک کسی کو اس کی استطاعت سے زیادہ نہیں آزمایا مگر جہاں ہم زندگی سے بدلنے کی امید رکھتے ہیں وہیں ہمیں خود کو بھی بدلنا پڑے گا۔ اگر آپ دکھ کے حصار میں ہیں تو یقین مانیں کوئی شخص بھی اس سے مبرا نہیں، ہاں کیفیت یا حالات مختلف ہو سکتے ہیں۔ چونکہ ہم نے اپنے رویوں سے اس معاشرے کو ایسا بنا دیا ہے جہاں اگر کوئی کھل کر سانس بھی لے تو اعتراضات اٹھا دیئے جاتے ہیں لیکن جب مشکل خود ہمارے اوپر پڑتی ہے تو ہمیں اپنا وجود انتہائی مظلوم لگنے لگتا ہے۔

ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں جہاں مر مر کر جیا جاتا ہے، ہم روز جینے کے لئے ایک دوسرے کو مارتے ہیں اور افسوس کہ کوئی بھی اس عمل سے باز نہیں آتا۔ ہم ایک گھٹے ہوئے معاشرے کی پیداوار ہیں، جہاں روز ہمارا دم گھٹتا ہے اور تازہ ہوا کا کوئی جھونکا بھی دستیاب نہیں۔ اب ہم اس ماحول کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ ہمیں اگر کوئی ہوادار اور روشن دریچہ دکھائی بھی دے تو ہم اس کو بند کرنے لگ جاتے ہیں۔ اس اندھیرے میں ہم بھاگ رہے ہیں اور بس بھاگ رہے ہیں، ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کے لئے ایک دوسرے کو ٹکریں مار کر گرانے سے بھی نہیں کتراتے۔ کم علمی کے سبب یہ سمجھتے ہیں کہ وہی کامیاب ہے جو دوسروں کو پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ اس المیے کے باوجود سب ٹھیک ہے، زندگی نارمل ہے۔

ہماری زندگی مزید نارمل ہو سکتی ہے اگر ہم نارمل ہونا شروع کر دیں اور ایک دوسرے کو قبول کرنا شروع کر دیں۔ غم تب تک غم ہے جب تک بندے نے اسے قبول نہیں کیا، چاہے اس کی شدت کتنی ہی کیوں نہ ہو۔ جیسے ہی بندہ قبول کر لے گا تو وہ اسکی شدت سے نکل کر آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا۔

یہ درست ہے کہ ایسا کرنا آسان نہیں تاہم چیلنجز سے نمٹنے کیلئے آپ کی منصوبہ بندی مشکل صورتحال کی پیچیدگی میں ضرور کمی لے آئے گی۔ حالات ہر وقت ایک جیسے نہیں ہوتے مگر ہم کوشش کر سکتے ہیں کہ زیادہ مثبت رہیں، گر پڑیں تو روئیں، بہت روئیں مگر پھر ہمت کریں، اٹھ کھڑے ہونے کی، پھر سے چلنے کی کوشش کریں چاہے رینگ کر ہی کچھ فاصلہ طے کریں۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم سے زیادہ دکھی کوئی نہیں مگر جب کسی دوسرے سے بات کریں تو اپنا غم ہلکا لگتا ہے۔ لوگوں سے بات چیت کیا کریں ان کے حالات جاننے کی کوشش ضرور کیا کریں۔

جہاں حالات کی قبولیت ضروری ہے وہیں شکر گزاری بھی۔ شکر گزاری کو عادت بنا لیں تو خوش قسمتی ہمارے دروازے پر دستک دے سکتی ہے، کیونکہ شکر گزاری ہی خوش قسمتی کی گنجی ہے۔ فرمایا گیا: جو جتنی شکرگزاری کرے گا اسے اتنا ہی دیا جائے گا اس لیے شکر واجب ہے۔ یاد رہے شکر گزاری کی عادت سے کٹھن وقت بھی کٹھن نہیں رہتا۔ بس حالات سے ڈٹ کر مقابلہ کیجئے، مثبت رویہ اپناتے ہوئے سفر جاری رکھیں، کامیابی ضرور آپ کے قدم چومے گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.