معاشی ترقی کیلئے کرپشن کا خاتمہ ناگزیر

1,677

نو دسمبر کو دنیا بھر میں انسداد بدعنوانی کا دن منانے کا مقصد کرپشن کے بُرے اثرات سے آگاہی اور روک تھام کے لیے اقدمات پر زور دینا ہے۔ کرپشن نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کا ایک اہم مسئلہ ہے جس سے ہر سال کھربوں روپے عوامی بہبود پر خرچ ہونے کی بجائے کرپشن کی نذر ہو جاتے ہیں۔

ہمارے ملک کے سرکاری اداروں میں ‘کرپشن سے انکار کریں’ بورڈ پر ضرور لکھا ہوتا ہے مگر یہاں کسی کام کا بخوبی انجام پانا بغیر رشوت دیئے عموماً ممکن نہیں۔ ہر سرکاری دفتر کے باہر کچھ لوگ بیٹھے ہوتے ہیں جو اس دفتر کے ماحول اور مشکلات کو حل کرنے کا فن جانتے ہیں جبکہ بدعنوانی کے بڑھتے ہوئے اس ناسور کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اب لوگ بدعنوانی کے مرتکب ہو کر بھی شرمندگی محسوس نہیں کرتے بلکہ اس پر فخر کرتے ہیں، اسے اپنی عقلمندی، عیاری، چالاکی، ذہانت اور ہنر سمجھتے ہیں۔

موجودہ حکومت کرپشن کے خلاف آواز ضرور بلند کر رہی ہے تاہم روایتی اتحادی جماعتوں کے کندھوں پر کھڑی یہ حکومت کرپشن کے خلاف مؤثر قانون سازی کرپائے گی یا نہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ وسائل کی غیرمنصفانہ تقسیم اور اختیارات کے ناجائز استعمال نے سماجی اور معاشرتی سٹرکچر کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے اور معاشرتی و مذہبی اقدار کو پامال کرکے رکھ دیا ہے۔ کرپشن سے بھرپور تھانہ کلچر، حکومتی اداروں میں کرپشن کا راج، حصول انصاف کا کمزور نظام، مصلحتوں اور بدعنوان افسران کی وجہ سے عوام میں بے بسی اور بے اختیاری کا احساس بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

عوام میں عدم اطمینان کے باعث حکومتی و سرکاری اداروں پر ان کے اعتماد میں کمی واقع ہو رہی ہے جبکہ ملک میں موجود انسداد بدعنوانی کے محکموں کی سست رو کارکردگی اور ان سے استفادے کا پیچیدہ طریقہ کار، سرکاری اداروں میں کرپشن کا سبب بن رہا ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بنیادی سرکاری ادارے مثلاً بجلی، سوئی گیس، شہری ترقی کے ادارے، میونسپل کمیٹیاں، لوکل گورنمنٹ کے دفاتر، سرکاری ادارے کم اور بدعنوانی کی نرسریاں زیادہ دکھائی دیتے ہیں، یہاں تعینات معمولی افسران کے بھی اثاثہ جات اور عالیشان طرز زندگی دیکھ کر عام شہری انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ یہاں بر سراقتدار رہنے والے حکمرانوں میں سے بھی بعض کلیدی عہدوں پر فائز سیاسی لیڈر کرپشن میں بری طرح ملوث رہے ہیں، ان کی کرپشن ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے مگر کہیں سیاسی مصلحتوں اور کہیں کمزور سسٹم کے باعث یہ افراد کرپشن کے تمام الزامات سے اس طرح بری الذمہ ہوجاتے ہیں جیسے دودھ کے دھلے ہوں۔

یہاں اقتدار پر قابض رہنے والے بدعنوان حکمرانوں کی لوٹ مار اور قر ضوں کے انبار کی وجہ سے مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے اور عام لوگوں کا زندگی گزارنا اجیرن ہو چکا ہے۔ ایک طرف بڑے بڑے عہدوں پر فائز سرکاری افسر اور حکمران طبقہ قومی دولت کی لوٹ مار کے باعث عیش و عشرت میں مگن ہیں اور دوسری طرف غربت سے تنگ فاقہ کش لوگ آج بھی خودکشی کرنے پر مجبور ہیں۔ قومی دولت اور وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے باعث پی آئی اے، پاکستان سٹیل ملز اور پبلک سیکٹر کے کئی ادارے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

یقیناً بدعنوانی کا خاتمہ ایک ایسا چیلنج ہے جس سے متعلق موجودہ حکومت ابھی تک کسی قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکی۔ ایف آئی اے، انٹی کرپشن اور نیب جیسے ادارے محض روایتی انداز میں کام کر رہے ہیں جن پر عوام کو اعتماد نہ ہونے کے برابر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اداروں کو بھی نئے ٹاسک دئیے جائیں، جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور ان کی کارکردگی کو تیز تر کیا جائے۔

خوش قسمتی سے پاکستان جغرافیائی لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے اور اسے ہم اپنی بد قسمتی کہیں یا ستم ظریفی کہ ہمارے حکمران یہاں دستیاب وسائل سے بھر پور استفادہ نہیں کر رہے، اس بدقسمتی کو ہم کچھ اصول اپنا کر خوش قسمتی میں بدل سکتے ہیں اور اپنے پیارے پاکستان کو جنت نظیر خطہ بنا سکتے ہیں۔

اگر اداروں میں میرٹ کو فروغ دیا جائے، ہر سرکاری ادارے سے رشوت ستانی کا مکمل خاتمہ کرنے کی کوشش کی جائے، سستے اور فوری انصاف کو فروغ دیا جائے اور عدلیہ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہوئے ان پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ ملکی مفاد کو ذاتی اور انفرادی مفاد پر ترجیح نہ دی جائے، سفارشی کلچر کا خاتمہ، امیری اور غریبی کے سٹیٹس کو مٹانے کے لئے کلیدی کردار ادا کیا جائے، ملک سے سندھی، پنجابی، بلوچی، پٹھان اور کشمیری کے سٹیٹس کو مٹا کر سب سے پہلے پاکستان کی بات کی جائے، ٹیکس چوری کا خاتمہ، قرضے معافی اور بجلی چوری جیسے اقدامات سے پرہیز کیا جائے تو حقیقی طور پر پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے جس سے ہر پاکستانی خوشحال ہو گا۔

شرط یہ ہے کہ ہمیں خواب غفلت سے بیدار ہو کر ترقی یافتہ ممالک کی پیروی اور اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلنا ہو گا۔ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ بدعنوان عناصر کے خاتمے کے لئے نئے موثر قوانین کا اطلاق کرے اور انسداد رشوت ستانی کے تمام اداروں کو مکمل فعال کیا جائے۔ کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے والوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

سب سے اہم اقدام کے طور پر عوام کو اپنے دائرہ اختیار میں کرپشن ختم کرنے کے لیے متحرک ہو کر اداروں و محکموں میں رشوت لینے کے لیے تیار بیٹھے لوگوں کا شکار بننے سے خود کو بچانا چاہیے۔ بلاشبہ ملک سے کرپشن کے ناسور کے مکمل خاتمے تک ملک و قوم کی حقیقی ترقی ممکن نہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.