پریشانی حالات سے نہیں، خیالات سے پیدا ہوتی ہے

2,888

عظیم ڈرامہ نگار شکسپئر نے کہا تھا، “دنیا میں کوئی چیز اچھی یا بری نہیں ہوتی ہماری سوچ اسے ایسا بنا دیتی ہے”، خیالات کا انسانی زندگی اور انسانی رویوں پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ کبھی انسان اپنے خود ساختہ خیالات سے اس قدر خوفزدہ ہو جاتا ہے کہ کئی دن تک وہی خیالات آسیب بن کر اس کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔ زندگی میں حالات اتنے سنگین نہیں ہوتے جتنا ہماری سوچ انھیں بنا دیتی ہے۔

وطن عزیز میں روز بروز بڑھتی مہنگائی، گرتی اخلاقی اقدار اور معاشرے میں بڑھتی سماجی برائیاں ایک عام شخص کو شدید پریشانی یا ڈپریشن میں مبتلا کرنے کیلئے کافی ہیں، نفسیاتی نقطہ نظر سے اگر ہم تجزیہ کریں تو جو تصویر ہمارے سامنے آتی ہے اس میں خیالات کی جنم گاہوں اور پرورش گاہوں کا ادراک ہوتا ہے۔ جب ہم دماغ کی ساخت کا عرضی تراشا یا طولی تراشا لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں شعور، لاشعور اور تحت الشعور کی فرمانروائی ہے۔ تخیل اور یادداشت ان کے بعد آتے ہیں۔ قلیل یا طویل المعیاد یادداشت اور حساسیت دماغ کے وہ لازمی اجزاء ہیں جو اسکی کشمکش پر جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔ تحت الشعور کے زیر سایہ پروان چڑھنے والے خیالات کا حقیقت کی دنیا سے بہت کم تعلق ہوتا ہے۔

اب چلتے ہیں حالات کی دنیا میں جہاں موت وحیات کے قصے عام ہیں۔ جہاں قتل و غارت روز کا معمول ہے، اولاد کی نافرمانی اب کوئی نئی بات نہیں رہی حتی کہ ضمیر نام کی کوئی چیز نہیں رہی۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے، بلا اتنی خوفناک نہیں ہوتی جتنی ہم سمجھتے ہیں۔ بقول اشفاق احمد جتنا آج کے طلباء سوچتے ہیں کاش اتنا پڑھ لیں اور جتنا پڑھتے ہیں اتنا سوچ لیں تو یقینا کامیاب ہونگے۔

حالات پر تو اس بنا پر بھی سمجھوتہ ہو جاتا ہے کہ وہ انسان کے بس میں نہیں ہوتے۔ تقدیر اور تدبیر کے گورکھ دھندے میں انسان رگڑا جاتا ہے۔ بُری سوچیں انسان کو دیمک کی طرح چاٹتی رہتی ہیں۔ مثبت سوچ کے زاویئے  اوج ثریا پر پہنچا دیتے ہیں تو منفی سوچ تحت الثراء تک۔ انسانی خیالات الجھن کو سلجھن اور سلجھن کو الجھن میں بدلنے کا گر جانتے ہیں۔ اس لئے مایوس کن حالات زندگی کے باوجود اہم فیصلے کرتے وقت ضروری ہے کہ مثبت خیالات کو کام میں لایا جائے اور منفی خیالات جھٹک دیئے جائیں۔ پہلے اپنی سوچ بدلی جائے، آپ کا مثبت عمل دیکھ کر دوسرے لوگ اپنے خیالات خودبخود درست سمت کی جانب تبدیل کر لیں گے۔

مولانا جلال الدین رومی کہتے ہیں، “مجھے سردی کی شدت اور گرمی کی حدت اس وقت زیادہ محسوس ہوتی ہے جب میں ان کے بارے میں سوچتا ہوں”۔ روزمرہ امور زندگی میں پائی جانے والی مشکلات کا بھی یہی حال ہے، ان کو سر پر سوار کرنے کی بجائے حل کی طرف جائیں، کوئی ایسا سوال نہیں جس کا جواب نہ ہو، بس نیت صاف، معاملہ برحق اور منزل کی جستجو ہو تو راستہ خودبخود بن جاتا ہے۔ درپیش مسائل کا مثبت انداز فکر اپناتے ہوئے گہرا جائزہ لیں اور جو بہترین راہ ممکن ہو، منتخب کر لیں۔ ہاں کسی دانش مند یا تجربہ کار شخصیت سے مشورہ لینا مت بھولیں تا کہ فیصلے کے درست ہونے کی تصدیق ہو جائے۔ یاد رہے زندگی بہت خوبصورت نعمت ہے، اسے ہنسی خوشی گزار دینا خالق کی نعمتوں کے شکر گزار ہونے کا ہی ایک انداز ہے۔

مشتاق کھرل نے ماس کمیونیکیشن اور انٹرنیشنل ریلیشنز میں ماسٹرز ڈگری لے رکھی ہے اور ڈیجیٹل میڈیا صحافی ہونے کے ناطے معاشرتی مسائل پر لکھنا پسند کرتے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.