یہ وادیاں یہ پربتوں کی شاہزادیاں

1,562

ہمیشہ سے سنا تھا ازدواجی زندگی کو بہتر رکھنے کے لیے دل میں گھومنے پھرنے، سیر و سیاحت کے شوق کو جگا کر رکھیں، اس سے رشتوں کی سانسیں ہموار رہتی ہیں۔ تو جب ہماری شادی ہوئی، ہم نے تہیہ کر لیا کہ چھٹی آئیگی اور ہم سیاحت کو نکل جائیں گے۔ ان دنوں میرے شریک حیات کی پوسٹنگ راولپنڈی میں تھی اسی وجہ سے ہمارا گھومنا پھرنا آسان تھا کیونکہ ناردرن ایریاز وہاں سے کچھ قریب ہی واقع ہیں۔

جیسے ہی 14 اگست کا طویل ویک اینڈ آیا ہم نے سوچا اس بار کشمیر کی سیر کو چلتے ہیں۔ کشمیر کی طرف روانہ ہوئے تو ہماری منزل شاردہ تھی جو کہ نیلم ویلی سے تقریباً 73 کلو میٹر کے فاصلے پر تھی۔ اسلام آباد سے سفر کا آغاز ہوا تو مری،لوئر ٹوپہ کو کراس کرتے ہوئے ہم مظفرآباد پہنچے، وہاں سے ہم نے نیلم جہلم ڈیم کو کراس کیا، کچھ ہی کلومیٹر آگے گئے تو نیلم ویلی شروع ہو گئی۔

اب جو حسین مناظر شروع ہوئے تو یہ سلسلہ پھر رکا نہیں۔ جب ہم چھوٹے تھے تو ایک نغمہ، پاکستان ٹیلی ویژن پہ اکثر سنا کرتے تھے، دوران سفر کشمیر کے مناظر دیکھ کر نغمے کا ایک ایک حرف بالکل معنیٰ خیز لگا، نغمے کے الفاظ کچھ یوں تھے:

“یہ وادیاں یہ پربتوں کی شاہزادیاں”

نیلم ویلی واقعی ایک شہزادی کی مانند تھی، نیلم ویلی کے بارے میں بس اتنا ہی لکھوں گی کیوںکہ اگر تفصیل میں گئی تو جس جگہ کی سیر آپ کو کروانی ہے وہ رہ جائیگی۔ ہم شاردہ پہنچے کچھ دیر آرام کیا، اگلی صبح ہمیں رتّی گلی جانا تھا کیوں کہ کشمیر آنے کا ہمارا اصل مقصد وہی تھا۔ معلومات حاصل کرنے کے بعد پتہ لگا شاردہ سے تقریباً 12 کلو میٹر پیچھے رتّی گلی کا راستہ شروع ہوتا ہے، وہاں پہنچے تو پتہ لگا بیس کیمپ تک کا سفر جیپ سے طے کرنا ہو گا۔

جب جیپ کے سفر کا آغاز ہوا تو راستہ مسلسل چڑھائی پر مشتمل تھا، یہاں پہنچ کر اندازہ ہوا کہ ہمارا ملک کتنا حسین ہے، ایسے مناظر میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے، یہ ایک بہت دلکش وادی کے سفرکا آغاز تھا۔ راستے میں ایک طرف اونچے اونچے پہاڑ تو دوسری طرف کبھی آبشار نظر آ جاتی، ایک خوابوں سا نظارہ خوبصورت پتھروں کو کاٹتا ہوا دریا نظر آیا۔

مزید آگے چلے تو اونچائی بڑھتی گئی، یہاں دریا کے اوپر جمے ہوئے گلیشئرز نظر آئے۔ جان تو ہماری تب نکلی جب آگے دیکھا کہ زمین کو برف اور بارش کے پانی سے روکنے کے لئے درخت کے تنوں کو بہت مضبوطی سے لگایا ہوا تھا۔ دیکھنے میں تو ایسا لگ رہا تھا کہ ابھی ہماری جیپ اس پر چڑھے گی اور ہم دریا میں گر کر غائب ہو جائیں گے لیکن جیپ چلانے والے واقعی اپنے کام کے خاصے ماہر تھے، ان اونچے نیچے، ٹیڑھے میڑھے راستوں پر گزرتے ہوئے 12 ہزار 130 فٹ کی بلندی پر آ پہنچے تھے، یہاں شدید ٹھنڈ کے ساتھ ہلکی ہلکی بارش بھی ہو رہی تھی اور سرد ہوا تو اپنے زوروں پر تھی۔

جیپ بیس کیمپ پہنچی تو پتہ چلا کے یہاں سے ابھی 45 منٹس کی ٹریکنگ کرنی تھی۔ ہم نے چلنا شروع کیا، اوپر پہنچے تو الٹے ہاتھ پر ہرے بھرے پہاڑ کے بیچ ایک آبشار اپنی مکمل رعنائیوں کے ساتھ پھوٹ رہی تھی اور اس کے بالکل سامنے ایک چھوٹی جھیل تھی جس میں آبشار کا پانی گر رہا تھا اور آگے بہتے ہوئے دریا میں شامل ہو رہا تھا۔

یہاں راستہ پتھریلا بھی تھا جس کی وجہ سے پھلانگ پھلانگ کر آگے بڑھنا پڑ رہا تھا۔ گھوڑے اور خچر والوں نے بیچوں بیچ بہت روکا، باجی آو ہم اوپر تک چھوڑ دیتے ہیں لیکن راستہ دیکھ کر اپنے پائوں پر زیادہ بھروسہ محسوس ہوا۔

ہمارے سامنے بلکل ایک ہری بھری چٹان نما چھوٹی سی چوٹی موجود تھی۔ پیچھے والے بھائی نے بتایا اس چوٹی کے بعد ہی آپ کو جھیل نظر آئے گی۔ کچھ دیر چلنے کے بعد ہم چڑھائی کے سبب کافی اوپر آ چکے تھے، اب ہماری سانس بھی ہلکی ہلکی ناہموار ہو رہی تھی، آگے اوپر چڑھنے میں دشواری پیش آرہی تھی۔ ایک وقت ایسابھی آیا کہ ہم تھک کر بیٹھ گئے، 5 منٹ کو آرام کیا اور پھر چلنا شروع کیا۔ چڑھائی ایک دم سیدھی تھی اور اس پہ سیدھا چلنا مشکل ہو رہا تھا تو ہم نے بچوں کی طرح گڈالیاں کر کے اپنا سفر مکمل کیا۔

جب سر اٹھا کر سامنے دیکھا تو آنکھوں پہ یقین نہ آیا، سامنے سے آتے بادل آنکھوں کا منظر دھندلا رہے تھے۔ تھوڑا آگے پہنچے تو منہ سے بے ساختہ پہلا الفاظ ’’سبحان اللہ‘‘ نکلا اور کیوں نہ نکلتا وہ واقعی جنت جیسا منظر ہی تھا۔ چینی کے کٹورے میں پانی کے مانند جھیل جاذب نظر منظر پیش کر رہی تھی، نیلگوں صاف شفاف پانی، تھلکتا، چمکتا اپنی طرف کھینچتا محسوس ہوا۔

 اُس پار نہایت شاہانہ انداز میں کھڑے برف پوش پہاڑوں کا سلسلہ تھا اور زمین کی طرف دیکھو تو گھاس کے درمیان سرخ پھول اس نظارے کو چار چاند لگا رہے تھے۔ وہ منظر ایسا تھا جس سے نہ تصویر انصاف کرے نہ الفاظ، یہ ایسے مسحور کن احساسات تھے جو ناقابل بیان ہیں۔ ایسی دل نواز وادی جہاں سے کبھی واپس آنے کا دل نہ کرے۔ اگر پیچھے سے ہمیں آوازیں نہ چونکاتیں تو ہمارے پائوں تو جیسے وہیں جم گئے تھے۔ بادل بہت تیزی سے نیچے آ رہے تھے اور پوری وادی کو ڈھانپ رہے تھے، یہ دھندلا دھندلا منظر ایسے تھا جیسے ہم خواب دیکھ رہے ہوں، ہم اس حسین منظر کو دل میں اتارے نیچے اترنے لگے۔ ہم واقعی افسردہ تھے، جنتّ سے جو بچھڑ رہے تھے۔

الف اللہ دل رتاّ میرا
مینوں ب دی خبر نہ کائی
(بلھےّ شاہ)

اسما اعوان کراچی یونیورسٹی میں ایم ایس سی ماس کمیونیکیشن کی طالبہ ہیں اور مختلف ٹی وی چینلز کیلئے بطور فری لانسر کام کرچکی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.