ذیابیطس خاموش قاتل، اس سے کیسے بچیں؟

3,174

ذیابیطس کا مرض جسے عرف عام میں شوگر کہا جاتا ہے، روز بروز بڑھنے والا ایسا مرض ہے جو لوگوں کی بڑی تعداد کو مسلسل اپنے شکنجے میں جکڑ رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 42 کروڑ 22 لاکھ افراد اس مرض کا شکار ہیں۔ صرف پاکستان میں ہر سال ذیابیطس کے مرض کے باعث تقریباً ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد معذور ہو جاتے ہیں۔ حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر چار میں سے ایک فرد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے اور یہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یہی نہیں بلکہ ذیابیطس پاکستان میں ہلاکتوں کی آٹھویں بڑی وجہ بھی ہے اور2005ء کے مقابلے میں اس سے متاثرہ افراد کی ہلاکتوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق ذیابیطس کے اسباب موٹاپا، تمباکو نوشی اور ورزش نہ کرنا ہے جبکہ ذیا بیطس کا مرض جسم میں انسولین کی مقدارغیر معتدل ہونے سے پیدا ہوتا ہے۔ درحقیقت انسان جو بھی خوراک کھاتا ہے، اس خوراک کا اکثر حصہ خاص طور پر میٹھی اور نشاستہ دار اشیاء شوگر میں تبدیل ہوتی ہیں، اس شوگر کو گلوکوز کہتے ہیں اور یہ گلوکوز جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے۔

انسانی جسم میں معدہ سے ذرا نیچے لبلبہ ہوتا ہے جو انسولین نامی ہارمون پیدا کرتا ہے، یہ گلوکوز کی مقدار کو حدود میں رکھتا ہے اور ساتھ ہی ممکن بناتا ہے کہ ہمارے عضویات خون کے ذریعے سے گلوکوز حاصل کر سکیں، اگر ایسا نہ ہو تو پھر انسانی جسم میں شامل چربی ہی توانائی کا ذریعہ رہ جاتی ہے۔

ذیا بیطس کا مرض لاحق ہونے پر جو نقصان ہوتا ہے کہ لبلبہ صحیح کام نہیں کرتا اور ضروری مقدار میں انسولین خارج نہیں ہوتی، یا پھر یہ ہوتا ہے کہ خلیات انسولین کے ساتھ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں، دونوں صورتوں میں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ خون میں گلوکوز کی مقدار متوازن نہیں رہتی جس کے نتیجے میں تمام عضویات پر برا اثر پڑتا ہے جبکہ سب سے برا اثر خون کی شریانوں پر ہوتا ہے۔

بنیادی طور پر ذیا بیطس کی دو قسمیں ہیں، اول جس میں انسانی جسم میں انسولین قطعاً نہیں بنتی، یہ بیماری کبھی بھی نمودار ہو سکتی ہے مگر عموماً بچپن سے ہی لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کا علاج مستقل انسولین لیتے رہنا ہے مگر ساتھ ہی ساتھ خون میں گلوکوز کی مقدار سے آگاہ رہنا بھی ضروری ہے تاکہ انسولین کی صحیح مقدار لی جا سکے۔ کچھ صورتوں میں خون میں گلوکوز کی مقدار بہت زیادہ یا بہت کم ہو سکتی ہے لہٰذا محتاط رہنے کی ضرورت رہتی ہے۔

دوسری قسم کی ذیا بیطس میں یہ ہوتا ہے کہ خلیات اور ٹشوز میں انسولین کے ساتھ کام کرنے والے کیمیائی اجزاء صحیح طریقے سے اپنا عمل سرانجام نہیں دے پاتے جس کے نتیجے میں وہ نظام جس کو انسولین کی آمد کے بعد کام کرنا ہوتا ہے، یہ اندازہ نہیں لگا پاتا کہ انسولین کی مقدار کتنی ہے۔ اس طرح جسم کو گلوکوز کی صحیح مقدار حاصل نہیں ہو پاتی۔ نتیجہ گلوکوز کی زیادتی یا کمی دونوں صورتوں میں نکل سکتا ہے، ذیا بیطس کی یہ قسم زیادہ عام ہے۔

ذیا بیطس کی عمومی علامات میں دھندلا نظر آنا، چکر آنا، مستقل پیاس لگنا، تیزی سے وزن گرنا، بھوک لگتے رہنا، بہت زیادہ پیشاب آنا شامل ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ان علامات کا خیال رکھا جائے، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ذیا بیطس پر نظر رکھی جائے اور وقتاً فوقتاً ذیا بیطس کا ٹیسٹ کروایا جائے جبکہ چالیس سال سے زیادہ عمر کے خواتین و حضرات کو ذیابیطس سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ذیا بیطس موروثی اثرات کی بنا پر بھی ہو سکتا ہے یعنی ماں باپ یا ان کے والدین اگر ذیابیطس کے مریض رہے ہیں تو اگلی نسل میں ذیا بیطس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ذیابیطس کے اثرات پورے جسم پر پڑتے ہیں اور لمبے عرصے میں خاصی مشکلات پیش آ سکتی ہیں، جیسے آنکھوں اور بینائی پر اثرات، بلند فشار خون یا ہائی بلڈ پریشر اور ان کے نتیجے میں دل کی بیماریاں، کھال کی بیماریاں، پورے جسم خصوصاً ٹانگوں پر چوٹوں کا ٹھیک نہ ہونا، گردوں کی بیماریاں، اس کے علاوہ یہ رگوں اور شریانوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اور بہت سی جان لیوا بیماریوں کی وجہ بن سکتا ہے۔

بظاہر ذیابیطس اور دل کے عوارض دو مختلف چیزیں ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ذیابیطس میں مبتلا افراد کی اکثریت کئی ایک پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتی ہے۔ ان پیچیدگیوں میں امراض قلب سرفہرست ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس دونوں میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، معاملے کا سنگین پہلو یہ ہے کہ جب یہ دونوں بیماریاں مل جائیں تو سخت احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ یہ دونوں امراض، ایک دوسرے کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔ ہائی بلڈ پریشر پر کنٹرول اس اعتبار سے اہم ہے کہ بہت سی صورتوں میں صرف احتیاط ہی سے یہ مرض کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

ذیابیطس سے بچنے کے لیے ضروری ہے، وزن کو بڑھنے نہ دینا، پوری نیند لینا، دن میں جاگنا رات میں بروقت سونا، غذا میں توازن رکھنا، سبزیوں کے استعمال سے پروٹین کا مناسب حصول، زیادہ چکنائی اور نشاستہ سے بھری غذاؤں سے اجتناب کرنا۔ گوشت، جمنے والی چکنائیوں، مکھن، بناسپتی گھی اور مارجرین وغیرہ کا استعمال ترک کرنا کیونکہ ان سے کولیسٹرول کی سطح بڑھ سکتی ہے۔ بلکہ مناسب یہی ہے کہ مغزیات جیسے مونگ پھلی، زیتون کا تیل، کینولا کا تیل، چکنی یا روغنی مچھلی وغیرہ کھائے جائیں اور خصوصاً روزانہ کم ازکم 30 منٹ کی ورزش کی عادت اپنائی جائے۔

تمام معالجین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر شوگر کا مریض ورزش کو اپنے معمول کا حصہ بنا لے تو وہ شوگر کے اثرات بد سے محفوظ رہ کر پر لطف زندگی گزار سکتا ہے کیونکہ ورزش سے اس مرض کی شدت میں کمی واقع ہوتی ہے اور ورزش بالواسطہ طور پر لبلبے کو تحریک دے کر انسولین کے بننے کے عمل میں اضافہ کرتی ہے اور انسانی جسم میں انسولین لیول متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.