دھرنا سیاست، ملکی معیشت کیلئے زہر قاتل

1,263

پاکستانی سیاست میں ایک با پھر دھرنے کی انٹری، تحریک انصاف نے 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا کر سڑکوں پر آنے کا اعلان کیا اور آج مولانا فضل الرحمن 2018 کے انتخابا ت کو جعلی اور وزیراعظم کو سلیکٹڈ قرار دیتے ہوئے اسلام آباد میں دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔

ایک بات تو واضح ہے کہ دھرنوں سے حکومت کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا، جس کی سب سے بڑی مثال 2014 میں‌ تحریک انصاف کا 126 دن کا دھرنا ہے، طویل دھرنے سے جہاں‌ عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہاں ملک مفلوج ہو کر رہ گیا، تعلیمی ادارے بند ہونے سے طلبا کا تعلیمی نقصان ہوا۔ کنٹینر پر کھڑے ہو کر منتخب وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا گیا، پارلیمنٹ پر لعنت بھیجی گئی، سول نافرمانی کی تحریک چلائی گئی، غیرپارلیمانی زبان کا استعمال کیا گیا، غداری کے سرٹیفکیٹ دیئے گئے اور پورے ملک کا لاک ڈائون کیا گیا. وزیراعظم ہائوس کے گھیرائو کی دھمکیاں دی گئیں لیکن اس سب کے باوجود تحریک انصاف کے ہاتھ تو کچھ نہ آیا لیکن اس سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ دھرنے کی وجہ سے چینی صدر کا دورہ پاکستان منسوخ ہوا اور پھر بالآخر 126 دن بعد عمران خان نے دھرنا ختم کر دیا۔

آج ایک بار پھر دھرنا سیاست شروع ہو چکی ہے، مولانا فضل الرحمن نے اپنے ڈنڈا بردار کارکنان کے ہمراہ اسلام آباد کا رخ کیا ہے اور عمران خان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایک جتھے کا اس طرح اسلام آباد پر چڑھ دوڑنا اور ایک منتخب وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کرنا نہ ماضی میں درست تھا نہ اب، وزیراعظم کا انتخاب عوام کرتے ہیں اور یہ عوام کا حق ہے کہ وہ جائزہ لیں کہ حکومت کی کارکردگی کیسی جا رہی ہے اور عام آدمی کو کتنا ریلیف ملا۔ جیسا کہ حال ہی میں لبنان میں ہوا کہ واٹس ایپ کے استعمال پر حکومت نے ٹیکس عائد کیا تو عوام سڑکوں پر نکل آئے اور پھر وزیراعظم کو استعفی دینا پڑا۔ یہی احتجاج کا مناسب طریقہ ہے جس میں پُرامن انداز اختیار کر کے دلائل پر مبنی مطالبات پیش کر کے بات منوائی جائے، لیکن ڈنڈا بردار افراد کو لا کر دھمکیاں دینا اور ملک میں افراتفری سا ماحول پیدا کرنے کا جواز بننا جمہوری رویہ نہیں، ملک بھر کے عوام کی نمائندہ پارلیمان سے آئینی طور پر منتخب کردہ وزیراعظم سے استعفیٰ طلب کرنا تو کسی طور درست نہیں ہے۔ اس طرح کے حالات پیدا کرنے سے ہمیشہ کوئی تیسری قوت فائدہ اٹھاتی ہے اور نقصان ہمیشہ ملک اور اس کے عوام کا ہوتا ہے۔

ماضی میں بھی اسی طرح کے احتجاج کئے گئے جس سے ملک اور معیشت کو ناقابل تلافی نقصان ہوا اور آج کل تو ملک تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہا ہے۔ پاکستان ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر دنیا بھر میں آواز اٹھا رہا ہے دوسری طرف امریکا اور افغان طالبان کے مابین مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس صورتحال میں تشدد کو ہوا دینے والی تقریریں اور مظاہرے ملک میں امن وامان کی صورتحال خراب کرنے کا سبب بن سکتے ہیں جس سے دشمن ملک بھارت یا افغانستان بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن احتجاج کرنا سب کا حق ہے لیکن ڈنڈا بردار افراد کو لا کر ملک جام کر دینا کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ خان صاحب نے اقتدار میں آنے سے پہلے یقیناً بڑے بڑے دعوے کیے تھے، پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریا ں دینے کا وعدہ کیا تھا، آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا کہا۔ لیکن اب معیشت کی ڈوبتی کشتی کو بچانے کے لیے آئی ایم ایف کے پاس بھی جانا پڑا۔ اور بھی اس طرح کے بہت سے دعوے اور وعدے کیے گئے جو ابھی تک تو پورے ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔

ان دنوں‌ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے ہر طبقے کے فرد کو پریشان کر رکھا ہے، نوجوان نوکریاں نہ ملنے کا رونا رو رہے ہیں، ڈاکٹرز اور ٹیچرز احتجاج کر رہے ہیں۔ صنعتیں زبوں حالی کا شکار، زرعی شعبے کی صورتحال بھی مخدوش ہے۔ 5 کروڑ سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، مزدور کو 2 وقت کی روٹی ملنا مشکل ہے ایسے میں دھرنا سیاست، ملکی معیشت کیلئے زہر قاتل ثابت ہو گی۔

یقینا مہنگائی اور دیگر کئی مسائل موجود ہیں، عوام حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کریں، اپنی سفارشات دیں، اپوزیشن عوام کی آواز بن کر پارلیمان میں مسائل حکومت کے سامنے رکھے تاکہ بات چیت کے ذریعے معاملات طے ہو جائیں۔ دھرنوں سے نہ پہلے حکومتوں کا خاتمہ ہوا نہ اب ہوگا، ہاں اس سے ملک ضرور کئی سال پیچھے چلا جائے گا اور عوام اس کے ذمہ دار کو ہرگز معاف نہیں کریں گے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.