اندرون شہر لاہور، اک طلسماتی نگری

2,110

راوی کنارے واقع داتا کی نگری، لاہور شہر کا جب بھی نام لیا جاتا ہے تو ذہن میں ایک پُررونق جگہ کا تصور ابھرتا ہے۔ کبھی اسکے خوبصورت باغات کا حُسن آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے تو کبھی اسکی پُرتعیش عمارات دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کبھی اسکی رونقیں دیکھ کر دل باغ باغ ہوتا ہے تو کبھی اس کے زندہ دل باسیوں کے جوش و جذبے کو دیکھ کر شہر کا مستقبل روشن نظر آتا ہے۔

بات لاہور کی ہو اور اندرون شہر کا تذ کرہ نہ ہو، کوئی لاہور آئے اور اس نگر کے سحر میں مبتلا نہ ہو یہ ممکن ہی نہیں۔ بہت سے لوگ اس کا طواف کرنے آئے تو کوئی دل یہیں چھوڑ گیا، کوئی یادوں کی خوبصورت گٹھری لیے چل دیا۔ اس شہرِ طلسم سے محبت و انسیت کی بےشمار وجوہات ہیں۔ شاید یہ کسی کو اپنی روح کا عکس لگتا ہے یا شاید ان بے رنگ در و دیوار کو دیکھ کر کسی کو اپنا شکست خوردہ وجود نظر آتا ہو۔ کہیں بکھری اینٹوں اور جابجا بکھرے پتھروں کو دیکھ کر اپنے ریزہ ریزہ ہوئے خواب دکھتے ہوں یا اسکی تنگ و تاریک گلیوں میں نیم وا کھلتے رستوں کو دیکھ کر کسی کو اپنے محبوب کے ملنے کی آس جاگتی ہو۔

ماضی میں اس نگری کے ارد گرد بیرونی حملہ آوروں سے بچاؤ کیلئے ایک اونچی فصیل بنائی گئی تھی جس سے باہر نکلنے کے لئے بارہ دروازے بھی تعمیر کئے گئے جو کسی زمانے میں مغلیہ طرز تعمیر کے عظیم شاہکار تھے۔ آج بھی اندرون شہر میں داخل ہوں تو ایک سحر سا طاری ہو جاتا ہے جیسے ساری دنیا کہیں باہر ہی چھوڑ آئے ہوں، یہ کوئی اور ہی دیس ہو۔ جو لوگ یہاں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں جیسے یہ آج کے دور کے نہیں، ماضی کے کسی گم گشتہ دور کے باشندے ہوں، عالم تصور میں جھانکیں تو یہیں کہیں جہانگیر اور اورنگزیب کے گھوڑوں کی ٹاپیں سنائی دیتی ہیں تو کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مغل دور کی شہزادیاں شاہی محافظوں کے جَلو میں پالکیوں میں بیٹھی بازاروں سے گزر رہی ہیں۔ جن کے گھنگھروؤں کی چھنک سے کوئی ارتعاش پیدا ہو رہا ہو جیسے ابھی کوئی پالکی سے اترے گی اور اسکی خوبصورتی سے سب مہبوت ہوجائیں گے۔ پتہ نہیں اسے اندورن شہر کیوں کہا گیا ہے لیکن کبھی کبھی لگتا ہے اندرون نام بے سبب نہیں رکھا گیا۔ یہ جگہ روح کی گہرائیوں میں سرایت کر جاتی ہے تبھی اسے اندرون کہا گیا ہے۔

ان فضاؤں سے ہے مجھے نسبت خاص
شہر لاہور پہ سب شہر لٹا بیٹھا ہوں

بہت سے انگریز یہاں آئے، مسلم بھی، غیر مسلم بھی اور اپنا سب کچھ اس پہ وار گئے۔ شاید تبھی یہ شہر مذہب کی تفریق سے آزاد ہو گیا۔ کسی کو یہاں کی خوبصورتی کھینچ لائی، کسی کو اسکی ثقافت تو کسی کو کھانوں کی اشتہا انگیز مہک، مگر جو بھی آیا دل ہار بیٹھا۔
اندرون شہر رہنے والے لوگ آج بھی زندہ دل اور کھلے ذہن کے مالک ہیں، آنے والوں کی راہوں میں آنکھیں بچھا دیتے ہیں۔ لاہور آئیں اور یہاں کے کھانے نہ چکھیں تو بات نہیں بنتی۔ کسی مہنگے ہوٹل کا کھانا اتنا مزہ نہیں دیتا جتنا یہاں کے گلی کوچوں، چوراہوں پہ قائم دکانوں کے تھڑوں پر یار بیلیوں کے ساتھ گپ شپ لگاتے کھانے کا لطف آتا ہے۔ یہاں کا ناشتہ تو لاہوریوں کی خاص سوغات ہے۔ حلوہ پوری ہو یا پاۓ، ہریسہ ہو یا تندوری کلچے، مرغ چنے ہوں یا لسی، بونگ ہو یا نہاری، بکرے کے مغز ہوں یا ٹکیاں سب کا ذائقہ ایک دفعہ چکھنے والوں کو پھر یہاں آنے پہ مجبور کرتا ہے۔ اہل لاہور رنگ رنگ کے ان پکوانوں کے ساتھ بھرپور انصاف بھی کرتے ہیں۔ گوالمنڈی کی فوڈ سٹریٹ ہو یا موچی گیٹ کے کھابے، بھاٹی گیٹ ہو یا ایبٹ روڈ یا پھر ٹیکسالی دروازہ، صبح صبح ہی لاہوریوں سے بھرا ملتا ہے۔

اچھا کھانے کے ساتھ ساتھ اچھا لباس بھی اعلی ذوق کی علامت ہے، اسی لئے لاہوریئے پہناووں کے معیار پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے، چونا منڈی ہو یا گمٹی بازار، کشمیری بازار ہو یا اعظم مارکیٹ، یہاں خریداری کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ اعظم مارکیٹ کا کپڑا اپنے اعلی معیار کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہاں کے تلے، زری، کڑھائی اور دبکے سے بنے لباس خواتین میں انتہائی مقبول ہیں۔ لوگ دور دراز سے شادی و بیاہ کے لباس تیار کروانے یہاں آتے ہیں، مناسب دام میں بہترین معیار ملتا ہے۔

مگر گزشتہ کچھ عرصے سے لگتا ہے خوابوں کی اس نگری کو کسی کی نظر لگ گئی۔ صدیوں پرانے مسلم جاہ و حشمت کی امین شاہانہ ثقافت مٹی میں ملنے لگی، مُغلوں کے سانس لیتے لاہور کی نبض ڈوبنے لگی ہے۔ لاہور اپنی روایتی سج دھج ایسے کھونے لگا جیسے نئی نویلی دلہن کی مانگ اجاڑ دی گئی ہو۔

عمارتیں اپنا حُسن کھو کر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ وہ حویلیاں، وہ کٹریاں، محلے، طلسماتی ماحول کی جاذبیت جو خوابناک ماضی کے دریچوں میں لے جاتی تھی، کہیں گم ہو کر رہ گئی۔ اب لاہور اک نوحہ ہے، اسکے ساتھ عجیب سانحہ ہو گیا ہے۔ وہ گنگھروؤں کی چھنک، قہقہوں کی کھنک، چوڑیوں کی جھنکار، وہ گھروں کی دیواروں سے ابھرتے گیتوں کی تان سب ماضی کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ ان کی جگہ کئی کئی منزلہ بے روح پلازوں، بے ہنگم ٹریفک، شور اور تجاوزات نے لے لی ہے۔

لاہور کہ اہل دل کی جان تھا
کوفہ کی مثال ہوگیا ہے

یہ لاہور ہی تھا جہاں مغل بادشاہوں نے راج کیا اور شان و شوکت سے بھرپور ورثہ چھوڑ گئے۔ اس لاہور میں شادابی تھی، رشتوں کا تقدس تھا، پُرکھوں کی انمول شفقت اور میٹھے بولوں کی چاشنی تھی۔ اب خون سفید ہو گئے ہیں، خواب بکھرنے لگے ہیں۔ یہ وہی لاہور تھا جسکی خوبصورتی پر لکھتے ہوئے شعراء کے قلم نہ تھکتے تھے، اب وہی غم کناں ہیں۔ کبھی اسکی حویلیوں اور جھڑوکوں کے نقش و نگار دیکھ کر واہ نکلتی تھی اور اب آہ کے سوا کچھ بھی نہیں۔

شہر لاہور کی وفاؤں کی بڑی چاہ تھی
ورنہ کون گاؤں کے رنگوں کو چھوڑ کر آتا ہے

افسوس کہ آبادی کا بے ہنگم سیلاب شہر لاہور کو کھا گیا۔لوگ اصل ورثے کو چھوڑ کر جدید سہولیات کی خاطر اندرون شہر کو چھوڑ کر رخصت ہونے لگے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ اب وہ محبت کا کہانیاں ختم ہو گئی ہیں۔پیسہ سبقت لے گیا ہے اور سچے جزبات کہیں پیچھے رہ گۓ ہیں۔اور انہیں چکروں میں لاہور کھوگیا ہے۔افسوس ہے لاہور تجھ پر کہ تونے اپنے کھانوں کی روایات کو تو زندہ رکھا مگر تاریخ کو مٹا دیا۔

لاہور پیچھے رہ گیا مگر ہم باوفا
اس شہر بے مثال سے آگے گۓ نہں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.